بریکنگ نیوز
Home / کالم / کوتوال اپنا توڑ رکس کا

کوتوال اپنا توڑ رکس کا


مسئلہ سب گورننس کا ہے قوانین کی بھرمار ہے پر ان پر صدق دل سے عملدرآمد نہیں ہوتاماضی میں بھی شاطر قسم کے سیاست دانوں کی کمی نہ تھی پر ان کی زیادہ سے زیادہ پہنچ یہاں تک ہوتی کہ وہ اپنے علاقے میں تھانیدار اور پٹواری اپنی مرضی کا لگواتے اور پھر ان کے ذریعے اپنے علاقے میں اپنے سیاسی حریفوں اور ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والوں کو دباتے ان کی زمینوں پر قبضے کرواتے اور ان پر جھوٹے فوجداری مقدمات بنواتے اب بات تھانیدار اور پٹواری تک محدود نہیں رہی اب تو حکمران پارٹی والے ہر اہم انتظامی آسامی پر اپنے منظور نظر افراد تعینات کردیتے ہیں جب سیاں کوتوال بن جائے تو پھر ڈرکس بات کا ؟جب بینکوں کے منیجنگ ڈائریکٹرز آپ کے پروردہ ہوں تو پھر کروڑوں روپے کے قرضے بھی تو آپ ہی کو ملیں گے اور پھر انہی کی ملی بھگت سے وہ معاف بھی ہوجائیں گے ؟جب نیب یا ایف آئی اے یا کسی اور اہم تحقیقاتی ادارے کا چیف آپ کی مرضی کا ہوگا تو کس کی جرات ہوگی جو آپ پر کوئی فوجداری مقدمہ بنا سکے یا آپ کے خلاف ہونے والی کوئی تحقیقات انصاف پر مبنی ہو آپ نے عدالت عظمیٰ کے ججوں کے سامنے سینئر ترین انتظامی افسروں کو بے بسی کا اظہار کرتے دیکھا ہوگا ۔

جب انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ اس قابل نہیں کہ ارباب اقتدار کے خلاف کرپشن کے کسی بھی کیس میں تحقیقات کرسکیں اس سے زیادہ بھلا اس محاورے کو سچ ثابت کرنے کے لئے اور کیا ثبوت درکار ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس ؟جس ملک میں عدالت عظمیٰ کو ہر تیسرے فوجداری یا دیوانی کرپشن کے واقعہ میں سوموٹو یعنی ازخود نوٹس لینا پڑے تو سمجھ لیجئے گا کہ دیگر ریاستی ادارے مثلاً ایف بی آر پولیس وغیرہ اپنے فرائض منصبی ادا نہیں کررہے ورنہ سپریم کورٹ کے ججوں کو کیا پڑی جو وہ اپنے لئے مزید کام ڈھونڈیں انہیں بہ امر مجبوری مداخلت کرنا پڑتی ہے تاکہ انصاف کا بول بالا رہے یہ معاشرہ ٹھیک ہوسکتا ہے اگر صرف اس کا تھانیدار اور تحصیلدار ٹھیک ہوجائے تمام خرابی کی جڑ انتظامی مشینری کے نبیادی یونٹ میں ہے جس طرح کسی بھی ملک کے بچوں کے کردار کو بنانے اور سنوارنے میں اس ملک کے پرائمری سکول کے استاد کا کلیدی کردار ہوتا ہے بالکل اس طرح کسی بھی سوسائٹی میں اگر پولیس سٹیشن کے تھانیدار اور ریونیو تحصیل میں بیٹھنے والا تحصیلدار صحیح شخص ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ معاشرے میں کرپشن پھیلے اس کی مثال اس دیوار جیسی ہے کہ جس کی پہلی اور بنیادی اینٹ اگر ٹیڑھی رکھ دی جائے تو پھر دیوار بھی ٹیڑھی ہوجاتی ہے ۔

تھانیدار اور تحصیلدار کیسے ٹھیک ہوں گے اس کا صرف ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ کہ پہلے تو ان کی سلیکشن خالصتاً میرٹ پر ہو نہ کہ کسی کی سفارشی چٹ پر‘ ہمارا المیہ یہ ہے کہ میرٹ کو ہم نے عرصہ دراز سے اپنے گھر سے باہر دھکیل دیا ہے آج کل ان دو بنیادی انتظامی یونٹوں پر تقرریاں ارباب اقتدار براہ راست کرتے ہیں جن میں اراکین اسمبلی شامل ہیں کراچی میں حال ہی میں سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس نے پولیس کے نچلے کیڈر میں بھرتیوں کا طریقہ کار جب بالکل اس طرح طے کیا کہ جس طرح فوجیوں کو بھرتی کیا جاتا ہے اور جس میں میرٹ کے علاوہ کسی اور چیز کا خیال نہیں رکھا جاتا تو سند ھ کے تقریباًسارے سیاست دان ان کے خلاف ہوگئے اور ان کے تبادلے کے احکامات سندھ کے وزیراعلیٰ نے جاری کردیئے اگر تھانے کا تھانیدار غیر جانبدار دیانت دار اور ہر قسم کے تعصب سے پاک ہو تو کیا مجال کہ اس کے دائرہ اختیار والے علاقے میں کوئی شراب کشید سکے‘ کوئی جواء کھیلا جاسکے کوئی بلیک مارکیٹنگ کرسکے کوئی سرکاری اراضی پر تجاوز کرسکے کسی مسجد یا امام بارگاہ کے منبر سے کوئی خطیب فرقہ وارانہ تقریر کرسکے ۔