بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / نیوز لیکس کے متعلق مختلف افواہیں گرم

نیوز لیکس کے متعلق مختلف افواہیں گرم

اسلام آباد۔وزیر اعظم محمد نواز شریف نے نیوزلیکس انکوائری کمیٹی رپورٹ کی سفارشات منظور کر لیں، قومی سلامتی سے متعلق خبر لیک کرنے کے الزام میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ طارق فاطمی اور پرنسپل انفارمیشن آفیسرراوتحسین کو کمیٹی کی سفارش کی روشنی میں عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ انگریزی اخبار کے ایڈیٹر ظفر عباس اور رپورٹرسیرل المیڈا کے خلاف کارروائی کے لئے معاملہ اے پی این ایس کے سپرد کر دیا گیاہے، ہفتہ کووزیر اعظم آفس کی طرف سے جاری حکمنامے کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے ڈان لیکس انکوائری کمیٹی رپورٹ کی سفارشات منظور کر لی ہیں ۔

وزیر اعظم نے ڈان لیکس انکوائری کمیٹی رپورٹ کی 18 ویں پیرے کی منظوری دی ہے جس کے مطابق انگریزی اخبار کے ایڈیٹر ظفر عباس اورصحافی سیرل المیڈا کے خلاف کارروائی کامعاملہ اے پی این ایس کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اے پی این ایس روزنامہ ڈان ‘ ظفر عباس اور سرل المیڈا کے حوالے سے انضباطی کارروائی کرے گی۔ پرنسپل انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین علی کے خلاف ای اینڈ ڈی رولز 1973ء کے مطابق کارروائی ہو گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے پی این ایس پرنٹ میڈیا کے لئے ضابطہ اخلاق وضع کرے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی سے عہدہ واپس لینے کی منظور ی دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں جلد نوٹیفکیشن جاری کیاجائے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی اور اہمیت کے معاملات پر رپورٹنگ صحافتی اقدار کے مطابق ہونی چاہیے۔ وزیر اعظم کے سیکرٹری فواد حسن فواد کی طرف سے جاری حکمنامے کی کاپیاں مزید کارروائی کے لئے متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریوں کو ارسال کردی گئی ہیں ۔

دوسری جانب پاک فوج نے ڈان لیکس سے متعلق حکومت کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈان لیکس سے متعلق نوٹیفکیشن نامکمل اور انکوائری بورڈ کی سفارشات کے عین مطابق نہیں اسے مسترد کرتے ہیں۔ ہفتہ کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کی طرف سے کئے گئے ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈان لیکس سے متعلق جاری ہونے والا نوٹیفکیشن نامکمل اور انکوائری بورڈ کی سفارشات کے عین مطابق نہیں ہے نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہیں۔

وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہاہے کہ ٹویٹس پاکستان کے ادارو ں اورجمہوریت کے لئے زہرقاتل ہیں،ادارو ں کے درمیا ن رابطے ٹویٹس کے ذریعے نہیں ہونے چاہئیں ، وزارت داخلہ نے ڈان لیکس کی انکوائری رپورٹ کے حوالے سے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا،نیوزلیک تضحیک لیک ہے جس کا نوٹس لیاجان ضروری تھا،جس چیز کو نوٹیفکیشن بنا کر پیش کیا گیا وہ وزیر اعظم آفس اور وزارت داخلہ کے درمیان ریفرنس ہے ،انکوائر ی رپورٹ پر من وعن عملدرآمد ہوگا، نہ کسی کو بچانے کی کوشش ہورہی ہے نہ ہی بچایا جائیگا ۔

31مئی تک ملک کے تمام اضلاع میں پاسپورٹ دفاترقائم ہوجائیں گے،72اضلاع میں پاسپورٹ کے نئے علاقائی دفاتر قائم کرچکے ہیں،رینجرز میں پونے آٹھ سو نئے جوانوں کی شمولیت سے سیکیورٹی کا یہ ادارہ مزید مضبوط ہوگا،نیم فوجی دستوں کو مضبوط بنانے کیلئے حکومت 88ارب روپے خرچ کرچکی ہے، افغانستان کے سرحد پر تمام گزرگاہوں پر گیٹ تعمیر کررہے ہیں ۔ وزیرداخلہ نے سندھ میں ہم خیال جماعتوں کے ساتھ انتخابی مفاہمت کا بھی عندیہ دیا ۔ ہفتہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیوز لیکس کے حوالے سے جو صورتحال سامنے آئی ہے۔

مجھے مشورہ دیا گیا تھا کہ میں اپنی پریس کانفرنس ملتوی کردوں،مجھے کہا گیا کہ اس پریس کانفرنس کو نیوز لیکس سے متعلق پریس کانفرنس سمجھا جائے گا مگر میں نے کہا کہ میں خود صورتحال واضح کردوں گا اور وقت آنے پر جو کچھ صحیح ہے وہ بتاؤں گا اور اپنا موقف پیش کردوں گا۔انہوں نے کہا کہ میں نادرا اور پاسپورٹس اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں ان اداروں میں شفافیت لائے ہیں نئے 72علاقائی پاسپورٹ دفاتر قائم کرنے کا موجودہ حکومت کو اعزاز حاصل ہوا ہے،31مئی تک تمام اضلاع میں تمام دفاتر کھل جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں اجلاس میں سندھ میں سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا مستقبل میں سندھ میں ہم خیال جماعتوں کے ساتھ اتحاد ہوسکتا ہے،انہوں نے کہا کہ ہم رینجرز کو مضبوط کر رہے ہیں،پونے آٹھ سو نئی بھرتیوں میں آزادکشمیر،گلگت بلتستان،فاٹا اور چاروں صوبوں سے جوانوں کو لیا گیا ہے،اور اس طرح رینجرز پاکستان کا ایک خوبصورت گلدستہ ہے ہم نیم فوجی دستوں کو مضبوط کر رہے ہیں اور سیکیورٹی کے معاملات پر کسی قسم کی کمزوری کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔
وزیرداخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو 30سے 50ہزار تک لوگ پاک افغان بارڈر سے بغیر کاغذات کے گزرتے تھے،ہم نے اس پر پابندی لگائی اور اب کوئی شخص کاغذات کے بناء طورخم بارڈر سے نہیں گزرسکتا،ہم افغانستان کے بارڈر پر جتنی بھی گزرگاہیں ہیں تمام پر گیٹ تعمیر کرنے لگے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سول آمڈ فورسز کو اینٹی ٹیرارزم کے حوالے سے بھی ٹریننگ دے رہے ہیں۔

سول آرمڈ فورسز کے درمیان مربوط رابطوں پر بھی کام کر رہے ہیں،مجھے کراچی آپریشن پر بھی بریفنگ دی گئی،کراچی آپریشن جاری رہے گا اور اس کو صنعتی انجام تک لے کے جائیں گے،وزیراعظم کو بھی درخواست کروں گا کہ وہ ایک بار پھر کراچی آئیں اور یہاں کے مسائل کے حل کیلئے جو کمی رہ گئی ہے اسے پورا کیا جائے،اتنا بڑا شہر ایک شخص کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا تھا مگر اب ایسا نہیں ہے،بہت بڑی تبدیلی آچکی ہے،مگر ابھی بھی مسائل باقی ہیں،کراچی میں سٹریٹ کرائمزاور زمینوں پر قبضے پہلے سے بڑھ گئے ہیں،چائنہ کٹنگ بغیر رکاوٹ کے چل رہی ہے اور کرپشن عروج پر ہے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ ہم مسلم لیگ (ن) کا نہیں بلکہ پاکستان کا ایجنڈا کراچی میں نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایجنڈا سول ملٹری ‘ وفاقی اور صوبائی حکومت مل کر نافذ کریں۔ پاکستان کے میڈیا سے درخواست کروں گا کہ وہ کراچی آپریشن کے حوالے سے ہمیں سپورٹ کریں اور زمینی حقائق کے مطابق مسائل سے بھی آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو اٹھانا دانشمندی نہیں ہے۔ سندھ سے لاپتہ ہونے والوں کے بارے میں سندھ حکومت ہی بتائے گی خود زرداری صاحب نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ کس نے ان کے آدمی اٹھائے ہیں۔

الزام کو قانون کے دائرے میں لایا جائے زرداری صاحب سندھ سے لاپتہ افراد کی بازیابی میں مدد کریں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ٹویٹس پاکستان کی جمہوریت کیلئے زہر قاتل ہیں۔ ادارو ں میں ٹویٹس کے ذریعے ایک دوسرے کو مخاطب نہیں کیا جا سکتا۔ ڈان لیکس پر نوٹیفکیشن وزارت داخلہ نے کرنا ہے جو ابھی تک نہیں کیا گیا۔ جب نوٹیفکیشن ہوا نہیں تو بھونچال کیسے آ گیا۔ و زیر اعظم آفس نوٹیفکیشن جاری نہیں کر سکتا جس چیز کو نوٹیفکیشن بنا کر پیش کیا گیا وہ وزیر اعظم آفس اور وزارت داخلہ کے درمیان ریفرنس ہے۔

نوٹیفکیشن گوہی ہو گا جو کمیٹی کی سفارشات ہوں گی۔ افسوس کی بات ہے نان ایشو کو اتنا بڑا ایشو بنا دیا گیا۔ چوہدری نثار نے کہا کہ بھارت کے بارے میں میرے خیالات بڑے واضح ہیں۔ 1999ء میں بھارتی وزیر اعظم لاہور آئے تو میں واحد منسٹر تھا جو انہیں ملنے نہیں گیا۔ کسی بھارتی سے ملاقات پر وزیر اعظم کی حب الوطنی پر شک کرنا افسوس ناک ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ڈان لیکس میں کسی کو بچانے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔ سندھ میں عوام کے پاس آنا ہمارا جمہوری حق ہے۔