بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / فاٹا اراکین کی سرکاری امور بند کرنیکی دھمکی

فاٹا اراکین کی سرکاری امور بند کرنیکی دھمکی


اسلام آباد۔فاٹا اراکین پارلیمنٹ نے حکومت کی طرف سے فاٹا اصلاحات کی کمیٹی کی رپورٹ منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنے پر 6 مئی کو اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کردیا ہے اور کہا ہے کہ اگر حکومت نے آئندہ سیشن میں رپورٹ منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش نہ کی تو 20 مئی کو اسلام آباد میں دھرنا دے کر وفاقی دارالحکومت کوبندکر دیں گے اور وزیراعظم آفس، ایوان صدر اور سیکرٹریٹ سمیت کسی سرکاری ادارے میں کام نہیں ہونے دیں گے۔

ان خیالات کا اظہار قومی اسمبلی میں فاٹا کے پارلیمانی لیڈر شاہ جی گل آفریدی نے دیگر اراکین سجاد طوری،ہدایت اللہ ودیگر کے ہمراہ اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔جی جی جمال نے کہا کہ فاٹا اصلاحات دراصل تکمیل پاکستان ہے یہ ملک کی بڑی ضرورت تھی اور ہے۔اصلاحات کے مطابق سے رپورٹ کابینہ سے منظور ہو چکی ہے مگر حکومت نے اس کو گزشتہ سیشن میں منظوری کے لیے اسمبلی میں پیش نہیں کیا جس کی وجہ سے ہمیں حکومت کی نیت پر شک ہے کیونکہ حکومت نے نہ تو فاٹا اراکین سے ملاقات کی اور نہ ہی انہیں اجلاس میں پیش کیا گیا۔

ابھی تک یہ التواء کا شکار ہیں اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ 6 مئی کو اسلام آباد میں اے پی سی بلائیں گے تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کو اس کانفرنس میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔اگر حکومت ایسے منظوری کے لیے ایوان میں پیش نہیں کرے گی تو ہم سیاسی جماعتوں کی مدد سے ایسے منظور کروائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم پر قبائلی عوام پر دباؤ ہے۔ہم تمام کوششوں کے باوجود مجبور ہو چکے ہیں۔

آئندہ سیشن میں حکومت نے فاٹا اصلاحات کو منظوری کے لیے پیش نہ کیا تو 20 مئی کو فاٹا عوام کے ساتھ مل کر اسلام آباد کی طرف سے مارچ کریں گے اور اس وقت واپس جائیں گے جب ہمیں پاکستان کے دوسرے عوام کے برابر سمجھا جائیگا۔فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کیے بغیر نہ تو پاکستان ایشین ٹائیگر بن سکتا ہے اور نہ ہی سی پیک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بتائے کہ فاٹا اصلاحات کے راستہ میں کون رکاوٹ ہے۔عوام کو اس حوالے سے عوام کو آگاہ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔فاٹا اصلاحات کی مخالفت کرنے والوں کو یہ نظر آ رہا ہے کہ اگر فاٹا کے لوگ تعلیم یافتہ اور باشعور ہو گئے تو انہیں وہاں پر ایک بھی سیٹ نہیں ملے گی۔

فاٹا میں دکانداری لگی ہوئی ہے جس میں تمام ملوث ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے سیاسی جماعتوں سے روابط کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اگر ہمارے استعفوں سے فاٹا اصلاحات کا مسئلہ حل ہوجائے تو اس پر بھی غور کیا جائے گا۔ہم ثابت کریں گے اسلام آباد میں اتنا بڑا دھرنا نہ کبھی ہوا اور نہ کبھی ہوگا۔دھرنے کے دوران نا سیکرٹریٹ چلنے دیں گے نہ وزیراعظم آفس اور نہ ہی ایوان صدر،کسی ادارے کو کام نہیں کرنے دیں گے۔