بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ٹویٹس جمہوریت کیلئے زہرقاتل

ٹویٹس جمہوریت کیلئے زہرقاتل


کراچی۔وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ کسی بھی جانب سے کی جانے والی ٹویٹس پاکستان کی جمہوریت اور سسٹم کیلئے زہر قاتل ہیں، اداروں کا ایک دوسرے کو مخاطب کرنے کا یہ کوئی طریقہ نہیں ہے، ابھی تک ڈان لیکس سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ پر کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا، نوٹیفکیشن وزارت داخلہ نے جاری کرنا ہے اور وہ کمیٹی کی سفارشات کے عین مطابق ہو گا۔ شہر قائد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس ڈان لیکس سے متعلق نہیں ہے، مگر اس حوالے سے آپ کے چند سوالوں کا جواب دوں گا۔

مجھے نیوز کانفرنس ملتوی کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا مگر جس بات کا علم ہے، وہ قوم کے سامنے رکھوں گا۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ ہماری کوشش اور کاوش رہی ہے کہ وزارت داخلہ کے جو بھی محکمے ہیں، ان میں بہتری لائی جائے، ہم 100 ڈی پی او آفس قائم کیے، پچھلے 70 سال میں 95 پاسپورٹ آفس تھے، ہم نے آکر 72 نئے آفس بنائے، جبکہ 31 مئی کے بعد پاکستان کے ہر ضلع میں پاسپورٹ آفس ہوگا۔

مئی کے بعد کوئی ایسا ضلع نہیں ہو گا جہاں پاسپورٹ آفس نہیں ہو گا، ہم نے پاسپورٹ کی مدت کو دس سال تک کر دیا ہے، ۔چوہدری نثار نے کہا کہ نادرا کے دفاتر کے لیے محکمہ پوسٹ آفس سے معاہدہ کریں گے، جبکہ نادرا اور پاسپورٹ ملازمین کو عوام سے تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاق سندھ رینجرز کے لیے 12 ارب روپے دے رہا ہے، سندھ میں 10 سال سے ایک ہی پارٹی کی حکومت ہے جس کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن سست پڑنے کا تاثر درست نہیں، کراچی آپریشن کو پورے پاکستان کے عوام سراہتے ہیں، کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک لے کر جانا ہے، پہلے کراچی ایک شخص کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا تھا ، وہ کہتا تھا کہ شہر بند کر دو تو شہر بند ہو جاتا تھا، وہ کہتا تھا کہ بھتہ خوری شروع کر دو تو بھتہ خوری شروع کر دی جاتی ہے۔

چودھری نثار نے کہا کہ آصف زرداری کہتے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ ان کے دوستوں کو کس نے اٹھایا ہے، میں ان سے درخواست کروں گا کہ مجھے بھی بتا دیں شاید میں ان کی کچھ مدد کر سکوں۔ انہوں نے کہا کہ کبھی کسی کو اٹھانے کی سیاست نہیں کی۔ڈان لیکس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ٹویٹس کے ذریعے نظام کو چلانا بدقسمتی ہے۔ نوٹیفکیشن وزارت داخلہ نے جاری کرنا ہے اور ابھی تک میں نے ایسا نہیں کیا تو پھر یہ بھونچال کیسے آ گیا؟ افسوس ہے نان ایشو کو ایشو بنا دیا گیا۔

ڈان کی خبر کی تحقیقات کا معاملہ کوئی ایشو نہیں تھا، لیکن میڈیا نے ہنگامہ برپا کرکے اسے ایشو بنا دیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹویٹس کی طرح اپنا موقف دینے ہی کی طرح زیرحراست اشخاص کے ویڈیو بیانات جاری کرنا بھی نامناسب اور غیراخلاقی ہے۔ کمیٹی کے اتفاق رائے کے مطابق ہی نوٹیفکیشن جاری ہو گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انتخابات سے پہلے سندھ میں مختلف جماعتوں سے الحاق کا سوچ رہے ہیں، سندھ کے عوام کے سامنے متبادل رکھیں گے۔

سندھ میں مسائل کا حل ہماری ترجیح ہے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت سے متعلق کسی سوال کا جواب دینے کیلئے میں درست آدمی نہیں ہوں، اس حوالے سے میرے نظریات نہایت سخت ہیں اور سب کو معلوم ہیں۔ لیکن کسی بھارتی سے ملاقات پر وزیر اعظم جیسے شخص کی محب وطنی پر سوال اٹھانا درست نہیں ہے