بریکنگ نیوز
Home / بزنس / پاکستان اقتصادی شرح کا ہدف حاصل کرلے گا؟

پاکستان اقتصادی شرح کا ہدف حاصل کرلے گا؟

اسلام آباد۔ وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہاہے کہ حکومت نے معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے اور مالی نظم ضبط لانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے، حکومت کا ہدف جامع اور پائیدار اقتصادی ترقی حاصل کرنا ہے،رواں سال پانچ فیصد سے زائد کا اقتصادی شرح ہدف حاصل کر لیں گے،پاکستان 7فیصد کی اقتصادی شرح کا ہدف حاصل کرنے کے قابل ہوگیا ہے، حکومت کو8.8 فیصد بجٹ خسارہ ورثے میں ملا ہے،حکومت نے بجٹ خسارہ کو کم کیا ہے، حکومت امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے کثیراخراجات کر رہی ہے۔

حکومت نے پہلے تین سال میں محصولات میں 60فیصد اضافہ کیا ،رواں سال کے لئے محصولات کا 3500ارب کا نظرثانی شدہ ہدف ہے، ملکی معیشت کو عالمی معیار کے موافق بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے،شفافیت ،ٹیکس چوری کی روک تھام کے حوالے سے بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط سے اقدامات سے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد میں اضافہ ہوا ہے ،پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ تیزی سے ابھرتی ہوئی مارکیٹ بن گئی ہے اور ایشیاء کی بہترین اور دنیا کی 5ویں بہترین سٹاک مارکیٹ بن چکی ہے۔

پاکستان نے عالمی مارکیٹ میں کامیابی سے بانڈز جاری کئے ہیں،سکوک بانڈ پاکستان کی تاریخ میں کم ترین ریٹ پر جاری کئے،بجلی کے حوالے سے 6000میگاواٹ کے شاٹ فال کا سامنا تھا،2018تک 10ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کرر ہے ہیں،اگلے سال سے ملک کو لوڈشیڈنگ کی مصیبت سے چھٹکارا مل جائے گا،حکومت رشوت کے خاتمے کیلئے عالمی کنونشن پر دستخط کرنے کے لئے بھی کام کر رہی ہے ،سارک ممالک کے درمیان تجارت اپنے پوٹیشل سے بہت کم ہے،سارک ممالک کو روابط کو بڑھانا ہوگا او خطے میں غربت کے خاتمہ اور اقتصادی ترقی کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا۔

علاقائی روابط کیلئے حکومت سی پیک،تاپی اور کاسا1000اور دیگر منصوبوں پر عملدرآمد کر رہی ہے، وزیرداخلہ چودھری نثارنے پریس کانفرنس میں ڈان لیکس کی رپورٹ بارے سب کچھ واضح کردیا ،وزیر اعظم کا نو ٹیفیکیشن سفارشات پر عملدرآ مد کے حوالے سے ہے۔ہفتہ کو وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں سارک کے معاشی چیلنجز کے حوالے سے ساؤ تھ ایشین فیڈریشن آ ف اکاؤ ٹینٹس( سافا ) کے زیر اہتمام انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور جنوبی ایشیاء کی اقتصادی ترقی کا ہے،حکومت نے اب تک اہم معاشی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں موجودہ حکومت نے پہلے تین سال میں معاشی استحکام حاصل کیا ہے،اب حکومت کا ہدف جامع اور پائیدار اقتصادی ترقی حاصل کرنا ہے،رواں سال کا ہدف پانچ فیصد سے زائد کا اقتصادی شرح کا ہے،پاکستان کیلئے اچھی خبر ہے،پاکستان 7فیصد کی اقتصادی شرح کا ہدف حاصل کرنے میں کے قابل ہوگیا ہے،پاکستان کی معیشت کا غلط تخمینہ لگایا جاتا تھا،اب عالمی سطح پر پاکستان کی اصل معاشی حالت بیان کی جارہی ہے،2019تک 7فیصد کی اقتصادی شرح کا ہدف حاصل کرلیں گے،حکومت نے ساختی اصلاحات کی ہیں،اس حوالے سے 12 سطحوں پر عملدرآمد کیا ہے،آئی ایم ایف کا پروگرام کامیابی سے مکمل کیا ہے،جو پہلی دفعہ پاکستان کی تاریخ میں کیا گیا ہے۔

ملک کو مالی ڈسپلن کی ضرورت تھی،موجودہ حکومت 8.8فیصد بجٹ خسارہ ورثے میں ملا ہے،حکومت نے بجٹ خسارہ کو کم کیا اور غیرترقیاتی بجٹ کو کم کیا ۔ 4.1 فیصد رواں سال کیلئے نظرثانی بجٹ خسارہ کا تخمینہ ہے، حکومت امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے کثیراخراجات کر رہی ہے،محصولات میں 60فیصد حکومت نے پہلے تین سال میں اضافہ کیا اور 20 فیصد سالانہ ترقی کی شرح ہے، 3500ارب کا رواں سال کے لئے نظرثانی شدہ ہدف ہے،سماجی شعبہ کی بہتری حکومت توجہ دے رہی ہے،انفراسٹرکچر کی تعمیر میں بھی حکومت کام کر رہی ہے،سارک خطے کی ترقی کیلئے حکومت تعاون کر رہی ہے،سارک ممالک کو سماجی بہبود کے حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

خطے میں غربت ایک چیلنج ہے،34فیصد سے زائد پاکستان کی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی تھی جو حکومت کی وجہ سے نیچے آیا ہے،نئے فارمولے کے تحت 25فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے،غربت میں کمی آئی ہے،حکومت نے معاشی نظم و ضبط لایا ہے،40سے بڑھا 115ارب سماجی بہبود کیلئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت کیا ہے،ترقیاتی منصوبوں کیلئے بجٹ بڑھا کر 1600ارب کیا ہے،جو 100فیصد اضافہ ہوا ہے،انفراسٹرکچر کی تعمیر میں نجی شعبہ کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے اور پاکستان ڈویلپمنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے،گڈگورننس اور ٹرانسپرنسی کیلئے حکومت نے اقدامات اٹھائے ہیں۔

سوزئرلینڈ کی حکومت سے ٹیکس کے معلومات کے تبادلہ کے حوالے سے معاہدہ کیا،تمام معاشی سسٹم کو عالمی معیار کے موافق بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے،او ی سی ڈی کے تحت کثیرالملکی کنونشن دستخط کئے،پاکستان نے اس حوالے سے او جی پی کو بھی جوائن کیا ہے،اس سے عالمی توجہ پاکستان کو ملے گی،جس طرح معروف کاریں بنانے والی کمپنی نے پاکستان میں گاڑیاں بنانے کیلئے سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی،ٹیکس چوری کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات سے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور شفافیت میں اضافہ ہوا ہے،سارک کے معاشی کو آگے بڑھنا چاہیے،رواں سال میں پاکستان کا ترقیاتی بجٹ،بجٹ خسارہ سے زیادہ ہے۔

پاکستان نے تین اسٹاک مارکیٹوں کا انضمام کرکے ایک اسٹاک مارکیٹ کا قیام لایا،جس کی بدولت پاکستان کی مارکیٹ تیزی سے ابھرتی ہوئی مارکیٹ بن گئی اور ایشیاء کی بہترین اور دنیا کی 5ویں بہترین سٹاک مارکیٹ بن گئی،سارک ممالک اگر ملکر کام کریں تو عوام کی زندگیوں میں انقلاب لاسکتے ہیں،پاکستان نے عالمی مارکیٹ میں کامیابی سے بانڈز جاری کئے ہیں،سکوک بانڈ پاکستان کی تاریخ میں کم ترین ریٹ پر جاری کئے،سی پیک میں سرمایہ کاری میں نجی شعبہ کو ترجیح دی جارہی ہے،بجلی کے حوالے سے 6000میگاواٹ کے شاٹ فال کا سامنا تھا،2018تک 10ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کرر ہے ہیں،اگلے سال سے ملک کو لوڈشیڈنگ کی مصبیت سے چھٹکارا مل جائے گا،تمام سارک ممالک کو شفافیت کیلئے کام کرنا ہوگا۔

حکومت رشوت کے خاتمے کیلئے عالمی کنونشن پر بھی کام کر رہی ہے اور جلد ممبر بن جائے گا،اس سے ٹیکس چوری،رشوت کے خاتمے سے مثبت امیج ابھرے گا،عالمی ڈچ اور کوریا کی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش مند ہیں،تھری جی اور فورجی سے ڈیجیٹل انقلاب آیا ہے،فنانشنل انکلویژن کے حوالے سے ملک تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے،مالی استحکام کیلئے شفاف فنانشنل رپورٹنگ ضروری ہے،حکومت بجٹ سے قبل تمام ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر رہی ہے۔

سارک ممالک کے درمیان تجارت اپنے پوٹیشل سے بہت کم ہے،سارک ممالک کو روابط کو بڑھانا ہوگا او خطے میں غربت کے خاتمہ اور اقتصادی ترقی کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا،علاقائی روابط کیلئے حکومت سی پیک،تاپی اور کاسا1000اور دیگر منصوبوں پر عملدرآمد کر رہی ہے۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ڈان لیکس کے متعلق سوال پر جواب دینے سے گریز کیا ۔انہوں نے کہاکہ وزیرداخلہ چودھری نثارنے پریس کانفرنس کردی ہے اس میں ساری چیزیں شیئرکردی ہیں۔وزیر اعظم کا نو ٹیفیکیشن سفارشات پر عملدرآ مد کے حوالے سے ہے ۔ان سفارشات پر وزیراعظم نے مزید ایکشن کی منظوری دی۔نوٹی فکیشن بنیادی طور پر پیرا 18کی سفارشات ہیں۔