بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / خیبر پختونحوا میں سیاسی گرما گرمی

خیبر پختونحوا میں سیاسی گرما گرمی


پانامہ فیصلے کے بعد حسب توقع ملکی سیاست کا درجہ حرارت بڑھتا جارہاہے لیکن خلاف توقع یہ درجہ حرارت پنجاب کی بجائے خیبرپختونخوا میں بڑھ رہاہے ۔شاید حکمران مسلم لیگ(ن) کی قیادت کو اندازہ ہوگیاتھا کہ پانامہ فیصلے کے بعد اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم کیخلاف سیاسی محاذ چونکہ خیبرپختونخوا میں گرم کریں گی لہٰذا انہوں نے پہلے ہی سے سیاسی پیش بندی کے تحت مسلم لیگ(ن) کی صوبائی صدارت کے عہدہ پرپچھلے کئی سالوں سے فائز پیر صابر شاہ اور انکے ساتھ صوبائی جنرل سیکرٹری رحمت سلام خٹک کو ہٹاکر ان کی جگہ وزیر اعظم کے مشیر امیر مقام کو صوبائی صدر اورڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی کوجنرل سیکرٹری تعینات کردیا گوکہ بعض سیاسی حلقے مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں اس بڑی تبدیلی کو 2018کے انتخابات کی تیاری اور خیبر پختونخو میں پی ٹی آئی کے مقابلے کا حصہ قرار دے رہے ہیں لیکن برسر زمین حقائق یہی ہیں کہ اس تبدیلی کے پیچھے اصل محرک اپوزیشن کی تقریباً تمام جماعتوں کا حکومت اور نواز شریف کیخلاف پانامہ فیصلے کے پس منظر میں احتجاج کا محاذ خیبر پختونخومیں گرم کرتے ہوئے اسے بتدریج ملک کے دوسرے حصوں تک پھیلانے کی کوششوں کو ناکام بناناہے اس ضمن میں پی ٹی آئی حکومت میں ہونے کے باوجود خیبر پختونخوا میں وقتاً فوقتاً اپنی سیاسی قوت کا اظہار کرتی رہی ہے اور اس سلسلے میں پارٹی چیئرمین عمران خان متعدد مقامات پر بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کر چکے ہیں جبکہ اسکی اتحادی جماعت اسلامی بھی اپنے سیاسی پاور ہاؤسز دیر بالا اوردیرپائین میں بڑے بڑے جلسوں کیساتھ ساتھ چارسدہ اور مردان کے بعد پشاور میں بھی ایک بڑے یوتھ کنونشن کے ذریعے اپنی قوت کا مظاہرہ کر چکی ہے۔

اسی طرح جمعیت (ف) مرکز میں حکومتی اتحادی ہونے کے باوجود چونکہ خیبر پختونخوا میں اپوزیشن میں ہے اسلئے اس نے بھی اپنے سیاسی مسل دکھانے اور 2018 کے انتخابات کی تیاری اور اپنی سب سے بڑی حریف پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم دینے کیلئے کسی اور جگہ کی بجائے خیبر پختونخوکا انتخاب کرتے ہوئے پچھلے دنوں اپنا تین روزہ اجتماع یہاں منعقد کیا خیبرپختونخوا کے سیاسی درجہ حرارت کے بڑھنے کااندازہ جہاں متذکرہ بالا جماعتوں کی سیاسی سرگرمیوں سے لگایا جاسکتاہے وہاں صوبے کی ایک اور اہم جماعت اے این پی بھی اپنے سیاسی وجود کی بقاء اور 2018 کے عام انتخابات میں کسی بہتر نتائج کی امید پر شمولیتی جلسوں کے ذریعے اپنے کارکنان اور عہدیداران کو متحرک رکھے ہوئے ہے خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی سیاسی ہلچل میں ایک بھاری انٹری پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری اورپارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا مردان اور ملاکنڈ میں عوامی جلسوں سے خطاب کرنا ہے۔

یاد رہے کہ پیپلز پارٹی صوبے کی واحد بڑی جماعت ہے جو ماضی میں نہ صرف یہاں برسر اقتدار رہ چکی ہے بلکہ وہ یہاں کی سیاست میں ایک خاص اثر و رسوخ بھی رکھتی رہی ہے لیکن پچھلے کئی سالوں سے خیبر پختونخوا میں نہ صرف اس کا ووٹ بینک کافی حدتک سکڑ چکا ہے بلکہ اسے کئی تنظیمی بحرانوں کا سامنا بھی کرنا پڑتارہا ہے۔آصف زرداری نے اپنے پہلے عوامی دورہ خیبر پختونخوا میں میاں نواز شریف اور عمران خان کے خلاف مردان اور ملاکنڈ کے جلسوں میں جو سخت اور غیر متوقع لب ولہجہ اختیار کیا ہے اسکے متعلق سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس عوامی سٹائل(جیالاکلچر) کے ذ ریعے وہ پارٹی کے ناراض دیرینہ اور نظریاتی کارکنوں اور عہدیداروں کو متحرک کر کے پارٹی میں واپس لانے کے متمنی ہیں اس ضمن میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہ اگر ایک جانب پارٹی کو داغ مفارقت دینے والے سابق صوبائی صدر خواجہ محمد خان ہوتی کو پارٹی کی صفوں میں واپس شامل کر چکے ہیں تو دوسری جانب وہ دیگر جماعتوں سے بھی بعض سیاسی ہیوی ویٹس کو پیپلز پارٹی میں شامل کرنے کے مشن پر ہیں لیکن اس سلسلے میں انہیں تاحال کوئی بڑی کامیابی نہیں ملی۔سوال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں جاری سیاسی ہلچل اور گرما گرمی عارضی ہے اوریا پھر یہ کسی بڑے سیاسی طوفان کا پیش خیمہ ہے گو اس حوالے سے فی الوقت کوئی حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہے لیکن کم از کم اس بات پر اکثر سیاسی تجزیہ کاروں کا اتفاق ہے کہ اس ہلچل کے ذریعے جہاں تمام قابل ذکر جماعتیں اپنے کارکنوں کو متحرک اور فعال رکھنا چاہتی ہیں وہاں اس ہلے گلے کی ایک اور وجہ خیبر پختونخوا کا مخصوص سیاسی ماحول ہے جس میں ہر سیاسی قوت کو اس کی بساط اور کوشش کے مطابق نہ صرف سیاسی سپیس ملنے کے امکانات ملک کے کسی بھی دوسرے حصے کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں بلکہ ماضی گواہ ہے کہ اس صوبے کے عوام نے پچھلی ستر سالہ انتخابی تاریخ میں اپنے ووٹ کی طاقت کے ذریعے ہر موقع پراپنی بھر پور سیاسی بلوغت اور اجتماعی شعور کا مظاہرہ کیا ہے۔