بریکنگ نیوز
Home / کالم / شخصی آزادی

شخصی آزادی

جب کوئی فلاسفر کسی فرد کی بات کرتا ہے تو اس کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ انسان پیدائشی طور پر آزاد پیدا ہوتا ہے اس لئے اسے معاشرے میں بھی شخصی آزادی کا حق ہونا چاہئے مگر جب آپ ایک سوسائٹی کے رکن بنتے ہیں تو آپ کو سوسائٹی کی جانب سے کچھ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بلوغت کے بعد آپ ایک شخص نہیں رہتے بلکہ معاشرے کا ایک حصہ بن جاتے ہیں اور معاشرے میں آپ کو معاشرے کی جانب سے کچھ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ پابندیاں آپ پر بوجھ نہیں ہوتیں مگر آپ کے ایک معاشرے کا فرد ہونے کی وجہ سے ایک طرح کی آزادی کی حدود متعین ہو جاتی ہیں ان میں کچھ پابندیاں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ آپکی شخصیت کو نکھارتی ہیں مثال کے طور پر ایک پابندی معاشرے کی جانب سے یہ ہے کہ آپ دوسرے افراد کے حقوق کا خیال رکھیںیہ پابندی در اصل پابندی نہیں ہوتی اس لئے کہ دوسرے فرد پر آپ کے خیال رکھنے کی بھی پابندی ہوتی ہے اس لئے یہ پابندی نہیں بلکہ آزادی ہے جو آپ کا خیال بھی رکھتی ہے معاشرے میں جوں جوں آپ کی حیثیت میں بلندی آتی جاتی ہے آپ پرپابندیوں کا بوجھ بڑھتا جاتا ہے اسی لئے ایک بڑے عہدے پر جانے سے پہلے آپ سے ایک عہد لیا جاتا ہے کہ آپ پر یہ یہ پابندیاں ہوں گی۔مثال کے طور پر جب آپ فوج یا پولیس میں ذمہ داریاں سنبھالنے جاتے ہیں تو آپ سے ایک عہد لیا جاتا ہے کہ آپ نے اپنے بڑوں کا ہر حکم ہر حالت میں ماننا ہے اور یہ کہ اگر آپ پر کوئی راز ظاہر ہو جاتا ہے تو وہ راز آپ کو اپنے ساتھ ہی دفن کرنا ہو گا اور آپ نے ملکی مفاد کو اپنے ذاتی مفاد پر ترجیح دینی ہے یعنی اگر آپ پر اس راز کو فاش کرنے کیلئے جتنا بھی دباؤآ جائے وہ آپ نے برداشت کرنا ہے مگر راز کو فاش نہیں کرنا۔

اس میں ایک پابندی آپ پر یہ بھی ہو گی کہ آپ نے دشمن کے کسی بھی فرد سے اکیلے میں نہیں ملنا اور اس کے ساتھ اپنے پیشے کے متعلق کوئی بھی بات نہیں کرنی۔یہ پابندی آپ کے عہدے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہے یعنی آپ کا عہدہ آپ کی شخصی آزادی کا تعین کرتا ہے فوج کا ایک جرنیل کسی بھی طور دشمن کے کسی جرنیل سے اکیلے میں نہیں مل سکتاجب بھی وہ کسی دوسرے ملک کے فوجی سربراہ یا ایک بڑے عہدے دار سے ملے گا تو اس کے ساتھ کم از کم اپنی فوج کا ایک افسر ضرور ہو گااسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ جب بھی دو فوجوں کے افسر ایک دوسرے کو ملتے ہیں تو وہ وفود کی صورت میں ملتے ہیں کسی بھی جگہ دو افسر اکیلے میں نہیں مل سکتے۔اسی طرح آپ کے پاس اگر کوئی سویلین عہدہ ہے تو اس عہدے کے مطابق آپ نے حلف اٹھایاہوتا ہے کہ آپ اس عہدے کے سارے اصولوں کی پابندی کریں گے۔ہمارا کوئی بھی وزیر کسی بھی دوسرے ملک کے وزیر سے اکیلے میں نہیں مل سکتا اس لئے کہ ہر وزارت میں جتنے بھی راز ہوتے ہیں وہ وزیر کو بتائے جاتے ہیں اور وزیر نے یہ حلف اٹھایا ہوتا ہے کہ جو بھی راز اسے اپنی وزارت کے ذریعے معلوم ہو گا وہ میرے سینے میں ہی دفن رہے گا اب اگر ہمارا کوئی وزیر کسی بھی دوسرے ملک کے کسی بھی شخص سے اکیلے میں نہیں مل سکتا تو اس لئے کہ انسانی کمزوری ہر انسان کے ساتھ ہوتی ہے اسی لئے یہ خدشہ ہروقت موجود رہتا ہے کہ انسانی فطرت کے مطابق کوئی بھی فرد دوسرے فرد کے سامنے راز اگل سکتا ہے یہ انجانے میں بھی ہو سکتا ہے اور جان بوجھ کر بھی مگر جب ہم ایک وفد کی صورت میں بیٹھے ہوتے ہیں تو کوئی بھی اپنے راز کی بات دوسرے کے سامنے نہیں رکھ سکتا اور کہ جب آپ کسی بھی حکومتی عہدے پر ہوتے ہیں۔

تو کوئی بھی آپ کا ذاتی دوست نہیں ہوتا اور نہ ہونا چاہئے اس لئے کہ ذاتی دوستیاں یا دشمنیاں اسی وقت تک چلتی ہیں کہ جب تک آپ اکیلے ہوتے ہیں یا آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی جب آپ کسی بڑی وزارت کی کرسی پر بیٹھے ہوتے ہیں تو ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے اور جب آپ ایک ملک کی وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھے ہیں تو آپ کا کسی بھی شخص سے چاہے وہ آپ کے کسی دوست ملک کا ہے یا دشمن ملک کا کسی بھی صورت اکیلے میں ملنا قابل قبول نہیں ہو سکتا۔یہ آپ کے عہدے کی ضرورت ہے۔ہم یہ سنتے ہیں کہ فلاں جگہ فلاں وزیر اعظم نے اکیلے میں ملاقات کی اسکا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ بالکل اکیلے ملے ہیں ان کیساتھ ایک ایک بندہ انکے ملک کا ہوتا ہے۔چاہے وہ خاموش ہی کھڑا ہو۔اسی طرح اس عہدے پر متمکن شخص کا کوئی بھی ذاتی دوست نہیں ہوتا چہ جائیکہ وہ دشمن ملک سے تعلق رکھتا ہو اگر آپ نے دشمنوں کے ساتھ دوستیاں نبھانی ہیں تو آپ کو اس عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ہم یہ نہیں سمجھتے دشمن ملک کا ایک تاجر ہمارے وزیر اعظم کا دوست ہو سکتا ہے اور وہ اُن سے اکیلے میں مل سکتے ہیں۔ اس لئے کہ وہ نواز شریف نہیں بلکہ وزیر اعظم پاکستان ہیں۔