بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ٹیکس وصولی سیاستدانوں سے شروع کرونگا ٗعمران خان

ٹیکس وصولی سیاستدانوں سے شروع کرونگا ٗعمران خان

کراچی ۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ بلدیاتی نظام ٹھیک ہوگا تو کراچی کے حالات بہتر ہوں گے‘ کراچی میں اختیارات کی منتقلی بہت ضروری ہے‘ بلدیاتی انتخابات آدھا تیتر آدھا بٹیر کے مترادف ہے‘ حکمران پیسہ اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں‘ سیاسی مداخلت ہو تو پولیس کیسے بہتر ہوسکتی ہے‘ خیبر پختونخوا حکومت نے پولیس میں کوئی مداخلت نہیں کی‘ سندھ میں پی ٹی آئی میں شامل ہونے والوں کے خلاف مقدمات درج کردیئے جاتے ہیں‘ خیبرپختونخوا میں ریکارڈ سرمایہ کاری آرہی ہے‘ ملک میں بے روزگاروں کی فوج کی بے روزگاری کا بم ایک دن پھٹے گا‘ ایف بی آر تب تک ٹھیک نہیں ہوگا جب تک اس کو ادارہ نہیں بنایا جائے گا‘ پاکستانیوں نے دبئی میں 800 ارب روپے کی جائیدادیں خریدیں ‘ بڑے بڑے مرغ ٹیکس نہیں دیتے‘ ایسا ماحول بنا دیں گے کہ سب ٹیکس ادا کرنا چاہیں گے۔ پیر کو کراچی میں تاجروں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہماری حالت بگڑ رہی ہے اور ہم اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اﷲ تعالیٰ اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنی حالت نہیں بدلنا چاہتی۔ ہمیں پہلی بار کے پی کے میں حکومت ملی ہے ہم صرف خود کو تھوڑا سا تبدیل کرلیں تو ملک ترقی کرنے لگے گا۔

اﷲ تعالیٰ نے پاکستان کو کسی چیز کی کمی نہیں دی تاجروں کے ساتھ مل کر ہم نے تجاوزات ختم کیں پاکستان کو تبدیلی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی انتظامیہ ٹھیک ہوجائے تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔ کراچی پاکستان کا دل ہے کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے کراچی میں سب سے پہلے بلدیاتی نظام کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ بلدیاتی نظام ٹھیک ہوگا تو کراچی کے حالات بہتر ہوں گے۔ عمران خان نے کہا کہ وسیم اختر اپنے اختیارات صحیح مانگتے ہیں۔ وسیم اختر وہی اختیارات مانگ رہا ہے جو ہم نے خیبرپختونخوا میں دیئے ہیں۔ کراچی میں اختیارات کی منتقلی بہت ضروری ہے انتخابات کرا دیئے لیکن اختیارات نہیں دیئے۔ وسیم اختر کہتے ہیں کہ میرے پاس اختیار نہیں میں کیا کروں۔ حکمران پیسہ اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں پیسہ اپنے پاس رکھنے کے لئے اختیارات منتقل نہیں کئے جارہے۔ کراچی کے تاجروں کا سب سے بڑا مسئلہ جان و مال کی حفاظت ہے۔ جان و مال کی حفاظت کے بغیر تاجر کامیاب نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک میں تحفظ نہ ہو وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔ اے ڈی خواجہ نے بھی خیبرپختونخوا جیسا پولیس قانون مانگا ہے۔خیبرپختونخوا حکومت پولیس میں کوئی مداخلت نہیں کی۔ سیاسی مداخلت ہو تو پولیس کیسے بہتر ہوسکتی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ہمارے ساتھ شامل ہونے والوں کے خلاف مقدمات درج کردیئے جاتے ہیں۔ اندرون سندھ جو پی ٹی آئی میں شامل ہوتا ہے اس پر مقدمات بنتے ہیں جب آپ پولیس سے غلط کام کراتے ہیں تو وہ خود بھی غلط کام کرتی ہے۔

میئر پشاور کے پاس تیس فیصد تریقاتی فنڈز ہیں سندھ کے آئی جی کو پتہ ہ ی نہیں ہوتا۔ نئے ڈی آئی جی بھرتی کردیئے جاتے ہیں پنجاب نے تو مجھے اشتہاری بنا دیا خیبرپختونخوا میں ریکارڈ سرمایہ کاری آرہی ہے ملک میں بے روزگاروں کی فوج ہے ملک میں بے روزگاری کا بم ایک دن پھٹے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر تب تک ٹھیک نہیں ہوگا جب تک اس کو ادارہ نہیں بنایا جائے گا۔ قرض پر قرض لئے جارہے ہیں ٹیکس کی شرح کو بڑھانے کی بجائے کم کیا جائے گا۔ ایسا ماحول بنا دیں گے کہ سب ٹیکس ادا کرنا چاہیں گے۔ ٹیکس وصولی سیاستدانوں سے شروع کروں گا۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستانیوں نے دبئی میں آٹھ سو ارب روپے کی جائیدادیں خریدیں پتہ نہیں کتنی ایان علی سوٹ کیس بھر کر باہر لے جارہی ہیں۔ بڑے بڑے مرغ ٹیکس نہیں دیتے۔ پانامہ کیس ملک کو بدل کر رکھ دے گا۔ کرکٹ کھیلتا تھا تو میرے امیر دوست تھے شوکت خانم کے لئے فنڈ لینے گیا تو حوصلہ افزائی کی پیسہ نہیں دیا شوکت خاتنم کے لئے سب سے زیادہ پیسہ تاجروں نے دیا۔