بریکنگ نیوز
Home / کالم / غیر سیاسی ضلعی انتظامیہ کی ضرورت

غیر سیاسی ضلعی انتظامیہ کی ضرورت

وقت کے ساتھ ہر شے میں تبدیلی آتی ہے اس لئے کئی معاملات میں اجتہاد کی اجازت دی گئی ہے قوانین اس لئے بنائے جاتے ہیں کہ معاشرہ میں امن رہے اور شہریوں کو ہر ممکن سہولیات زندگی میسر ہوں حکومت وقت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ عوامی فلاح و بہبود کیلئے حسب ضرورت وقتاً فوقتاً پارلیمنٹ کے توسط سے موجودہ قوانین میں جہاں محسوس کرے ترمیمات کرے اور یا پھر نئی قانون سازی‘ یہ بھی تجربہ میں آیا کہ مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے کہ جو ہر معاشرے میں موجود ہوتے ہیں ہر وقت اس تاک میں رہتے ہیں کہ ایسے نت نئے طریقے اور ہتھکنڈے اختیار کئے جائیں کہ جن سے قوانین کو بائی پاس کیا جا سکے چنانچہ یہ ضروری ہے کہ حکومت او ر قانون ساز ادارے ہر وقت بیدار رہیں ا و ر جرائم پیشہ لوگوں کے ہر اقدام کو ناکام بنانے کیلئے ان سے دو قدم آگے کی سوچیں ابتدائے آفرنیش سے لیکراب تک دنیا میں کئی نظام آئے ان میں بادشاہتیں بھی تھیں اور آمریتیں بھی‘ مختلف ادوار میں مختلف قسم کا نظام زندگی اسکا مقدر بنا جمہوریت کے متعلق سرونسٹن چرچل کا خیال یہ تھا کہ سردست یہ ان تمام نظاموں سے بہتر ہے کہ جو انسان نے اب تک آزمائے ہیں لیکن کل کلاں اگر کوئی اس سے بھی بہتر نظام انسان کو میسر آجاتا ہے تو اسے اپنانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہئے ہرملک کے زمینی حقائق دوسرے ملک سے قدرے مختلف ہوتے ہیں انسان کی مٹی کا خمیر بھی قدرے مختلف ہو سکتا ہے جغرافیائی محل وقوع میں بھی فرق ہو سکتا ہے ہمارے ہاں سیاسی حکمرانوں کا بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ وہ سخت قسم کے انتظامی اقدامات اٹھانے سے اکثر گریز کرتے ہیں خصوصاً ان جگہوں پر جہاں انکے ووٹرز بستے ہوں کہ مبادا ان اقدامات سے ان کے کسی مفاد پر زک نہ لگ جائے اوروہ ان سے نالاں نہ ہو جائیں یہ ان کی مجبوری ہوتی ہے کہ وہ اپنے ووٹ بینک کو گنوانا نہیں چاہتے وہ اپنے ووٹرز کو کسی حالت میں بھی نالاں کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامی امور اور قوانین کے نفاذ کیلئے سیاسی حکمرانوں اور عوام کے درمیان ہر ضلع میں ایک موثر قسم کی انتظامیہ ہو کہ جس کی قیادت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کرے اور اس کے ڈسپوزل پر سب ڈویژنل مجسٹریٹس‘ ۔

ایگزیکٹو مجسٹریٹس‘ تحصیلدار اور پولیس ہو اور ان سب کا انتخاب خالصتاً میرٹ پر ہو کسی بھی رکن پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کا ان کی سلیکشن یا تعیناتی میں بالکل عمل دخل نہ ہو تاکہ وہ بالکل غیر سیاسی قسم کے افراد ہوں ضلعی انتظامیہ کے زیر سایہ تمام انٹیلی جنس ادارے بھی ہوں کہ جو ان کو تازہ ترین حالات سے ہر وقت آگاہ رکھیں مثلاً یہ کہ کرائمز کی شرح کیا ہے ؟ اشیائے خوردنی کو کون بلیک میں فروخت کر رہا ہے اور ان کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کیلئے کون ان کو کہاں کہاں ذخیرہ کر رہا ہے ؟ سرکاری اراضیات پر کون کون قابض ہو رہا ہے ؟ جنگلات کو کون کس کی معاونت سے کاٹ رہا ہے ؟ کون لوگوں کو فرقہ واریت پر اکسا رہا ہے ؟ کونسا پرنٹنگ پریس فرقہ وارانہ مواد چھاپ رہا ہے ؟ شراب کہاں کہاں کشید اور فروخت کی جا رہی ہے ؟ قمار بازی کے اڈے کون چلا رہا ہے ؟ اشیائے خوردنی میں کون ملاوٹ کر رہا ہے ؟ کون کم تول رہا ہے ؟ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس ان کے ماتحت کام کرنے والے ایگزیکٹو مجسٹریٹ تحصیلداروں اور پولیس کو اب حکمران اپنی پروٹوکول ڈیوٹی سے مبرا کر دیں انکو عوام کی خدمت کیلئے چھوڑ دیں ان کو وی آئی پیز کے آگے پیچھے منڈلانے والی ڈیوٹی سے اب فارغ کر دینا چاہئے ان کا وقت عوام کے مسائل حل کرنے میں لگنا چاہئے نہ کہ وی وی آئی پیز کی پروٹوکول ڈیوٹیوں میں! ریونیو کے معاملات اس لئے خراب ہو رہے ہیں کہ ڈپٹی کمشنر کو تو بحیثیت ریونیو کلکٹر کام کرنے کا موقع ہی نہیں مل رہا ؟ وہ خاک اپنے ضلع کے ریونیو معاملات سنبھالے گا کہ جب دن رات اسکو پروٹوکول کی غیر ضروری‘ڈیوٹیوں میں الجھا دیا گیا ہے کہ جن کا عوام کی فلاح کیساتھ رتی بھر بھی تعلق نہیں ؟ ۔