Home / کالم / حبیب ا لرحمان / آگے بڑھنے کی ضرورت

آگے بڑھنے کی ضرورت

کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے اعترافی ویڈیو بیان سے جو حقائق سامنے آئے ہیں ان میں کوئی نئی بات اس لئے نہیں ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی غرض سے دہشت گرد حملوں میں ملک دشمن ایجنسیوں کے ہاتھ کی کارفرمائی کبھی پوشیدہ نہیں رہی تاہم نئی بات یہ ہے کہ اس حوالے سے سنسنی خیز انکشافات گھر کے بھیدی نے کئے ہیں، احسان اللہ احسان نے دس روز قبل ہتھیار ڈال کر خود کو پاک فوج کے حوالے کیا تھا آئی ایس پی آر نے اس کے اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کی ہے احسان اللہ احسان نے دہشت گردی کی کاروائیوں کے پس پشت بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیوں کی تلویث سے پردہ اٹھاتے ہوئے بہت سے راز اگلے ہیں، احسان اللہ احسان نے نہ صرف دہشت گردی کی مذمت کی ہے بلکہ دعویٰ کیا ہے کہ انہیں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس سے فنڈنگ‘ ہتھیار‘ گولہ بارود اور اہداف ملتے ہیں اور ہر ہدف کی قیمت ادا کی جاتی ہے، میں 2008ء میں تحریک طالبان پاکستان میں شامل ہوا ان نو سال کے دوران تنظیم میں بہت کچھ دیکھا افغانستان میں کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں جن کے بھارت سے رابطے ہیں‘ شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع ہونے پر ہم افغانستان چلے گئے تھے، طالبان کے افغانستان میں ’’را‘‘اور این ڈی ایس سے تعلقات ہیں افغانستان کے اندر نقل وحرکت کیلئے این ڈی ایس مدد کرتی ہے، حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد امیر کی دوڑ میں عمر خالد خراسانی اور فضل اللہ شامل تھے فضل اللہ کا انتخاب قرعہ اندازی کے ذریعے کیاگیا طالبان نے واہگہ بارڈر‘ ملالہ یوسفزئی اور شجاع خانزادہ پر حملوں کا اعتراف کیا‘ انہوں نے گلگت بلتستان میں 9غیر ملکی سیاحوں کے قتل کا بھی اعتراف کیا احسان اللہ احسان نے کہا کہ بھارت کی مدد ملنا شروع ہوئی تو میں نے اعتراض کیا، طالبان کہتے تھے کہ وہ پاکستان میں تخریبی کاروائیوں کیلئے اسرائیل سے بھی مدد لیں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اعترافی بیان میں کوئی نئی چونکا دینے والی حقیقت سامنے نہ آنے کے باوجود اصل حقیقت اس امر کی ہے کہ اعترافات وانکشافات کون کررہا ہے؟ دو دہشت گرد تنظیموں کے سابق ترجمان کا ہتھیار ڈال کر خود کو افواج پاکستان کی تحویل میں دینا اور تحریک طالبان پاکستان و جماعت الاحرارکا ساراکچا چٹھا کھولنا آپریشن ردالفساد کی کامیابی میں اہم پیش رفت ہے جس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ پاک فوج بفضل تعالیٰ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے تاہم یہ امر ذہن نشین رکھنے کی ضرورت سے انکار نہیں کیاجاسکتاکہ ان دعوؤں اور انکشافات سے دہشت گرد تنظیموں کی کمر ٹوٹنے والی نہیں ہے تاہم اس سے مایوسی کی دہلیز پر قدم رکھے پاکستانی عوام کو یہ امید افزا پیغام ملا ہے کہ ایسے موقع پر جب پاکستان میں چین کی مدد وتعاون سے سی پیک منصوبے کا پہلا مرحلہ 2018ء میں تکمیل پذیر ہے، ملک دشمن دہشت گردوں کا صفایا کرنے اور ملک کے اندر امن وسکون کی فضاء برقرار رکھنے میں نمایاں کامیابی سامنے آئی ہے تاہم اس امر کی نشاندہی کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ طالبان کے سابق ترجمان کے بعض دعوے مبالغہ آرائی پر مبنی دکھائی دیتے ہیں، مثال کے طورپر احسان اللہ احسان کا کہنا ہے کہ حالیہ فوجی آپریشن کے بعد جماعت الاحرارکمزور پڑ گئی ہے ۔

لیکن پیر 24 اپریل کی شام کرم ایجنسی کے علاقہ گودر میں ایک مسافر بس پر ریموٹ کنٹرول بم حملہ جس میں 14مسافر جاں بحق اور 12زخمی ہوئے اور جس کی ذمہ داری جماعت الاحرار نے قبول کی احسان اللہ احسان کے اس دعوے کی نفی کرتا نظر آتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ جماعت الاحرار اب بھی حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بہتر ہوتاکہ احسان اللہ احسان کے اعترافی ویڈیو بیان اور اس کی تشہیر پر اکتفا کرنے کی بجائے اس پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایاجاتا اور اسے قرار واقعی سزادی جاتی اس فیصلے پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں تاہم کچھ تجزیہ کار یہ استدلال بھی کرتے ہیں کہ رعایت ونرمی کا مظاہرہ طاقتور پوزیشن سے دہشت گرد نیٹ ورک کو تحلیل کرنے کا تاثر دے رہا ہے اور اگر اس طرح دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑا جاتا ہے تو میدان جنگ میں دشمن پر غلبہ حاصل کرنے میں مدد ہی ملے گی احسان اللہ احسان کی قسمت کے بارے میں صائب فیصلہ کرنا متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے اور انہیں فیصلے پر پہنچنے سے پہلے طالبان کے سابق ترجمان کے اعترافات کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا اگر ہم ردالفساد میں سنجیدہ ہیں جو واقعی ہم ہیں تو احسان اللہ احسان کے اعترافی ویڈیو بیان کو ہی کامیابی ظاہر کرکے بیٹھے رہنے کی بجائے اس کا ٹرائل کرنے کیلئے ضابطہ کی کاروائیوں کا فی الفور آغاز کرنا ہوگا۔