بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبرپختونخوا میں بھی حکومت بنا سکتے تھے ٗ مریم اورنگزیب

خیبرپختونخوا میں بھی حکومت بنا سکتے تھے ٗ مریم اورنگزیب

ایبٹ آباد۔وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ کرپشن کا جھوٹا نعرہ لگا کر پاکستان کی مزید ترقی کو روکا جا رہا ہے تاہم 2018ء میں تمام جھوٹے نعرے ،دعوے اور باتیں مسترد ہونگی کیونکہ اب سیاست کو کارکردگی سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔وزیراعظم اگر چاہتے تو خیبرپختونخوا میں بھی حکومت بنا سکتے تھے تیسری مرتبہ ملک کے منتخب وزیراعظم کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں آئندہ چند ماہ میں ہزارہ ڈویژن کے لیے وزیراعظم ہیلتھ کارڈ سکیم کھول دی جائیگی۔ان خیالات کا اظہار مریم اورنگزیب نے ایبٹ آباد الیکٹرونک میڈیا ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداروں کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھاکہ سردار مہتاب احمد خان عباسی وزیراعظم سے ہر ملاقات میں ہزارہ ڈویژن کے مسائل کی بات کرتے ہیں جبکہ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی بھی قومی اسمبلی اور وزیراعظم کے سامنے بھی ہزارہ کے لوگوں کے حقوق اور مسائل کی بات کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ 18ویں ترمیم کے بعد ویج بورڈ کے حوالے سے کچھ پیچیدگیاں تھیں تاہم گزشتہ ہفتہ میں نے اپنی وزارت کے اندر اجلاس بلایا اور اس کو دیکھا گیا 18ویں ترمیم کے بعد کس طرح وفاقی حکومت ورکنگ جرنلسٹس کی فلاح و بہبود اور سیکیورٹی کے حوالے سے قانونی تحفظ دے سکتی ہے ۔صحافیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی جارہی ہے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے اس قانون کے حوالے سے تجاویز آ گئی ہیں اور آئندہ تین ماہ کے اندر اس کو حتمی شکل دیکر قومی اسمبلی میں پیش کیا جائیگا۔ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کا کیمرہ محفوظ ہوتاہے اورانشورڈ ہوتا ہے لیکن کیمرے کے پیچھے جو ورکنگ جرنلسٹ ہے اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا کوئی صحافی کسی حادثہ کا شکار ہوتا تو اس کی شہادت کے بعد اسے معاوضہ دیا جاتا ہے لیکن اس سے قبل کوئی ایسا انتظام نہیں جوان کی سیکیورٹی کو یقینی بنائے ۔

اس قانون سازی کے بعد ان تمام مسائل کو حل کیا گیا ہے یہ صحافیوں کے تحفظ کا بل ہے۔ان کا کہنا تھاکہ وزارت اطلاعات کے اندر صحافیوں کے لئے تین سے پانچ سال کا پروگرام شروع کر رہے ہیں اس میں پریس کلبز کی سطح پر اور مختلف شراکت داروں کی تربیت اور استعداد کار میں اضافہ اور پاکستان کی یونیورسٹیوں میں صحافیوں کے لیے اسکارلر شپس کا انتظام کیا جا رہا ہے اس پروگرام کو انفارمیشن سروسز اکیڈمی اور پیمرا کی سطح پر نافذ کیا جائیگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پریس کلبز کو وفاقی اور صوبائی حکومت کے بجٹ کا حصہ ہونا چاہیے اور اپنی ضروریات کے مطابق فنڈنگ ملنی چاہیے۔مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اگر چاہتے تو وہ خیبر پختونخوا میں بھی حکومت بنا سکتے تھے تیسری مرتبہ ملک کے منتخب وزیراعظم کو کسی قسم کی کوئی ان سیکیورٹی نہیں ہے۔آج ملک کو ایک نام کی ضرورت ہے اور وہ نواز شریف ہے پاکستان کی ترقی ہو امن ہو پاکستان کا عالمی دنیا میں وقار ہو پاکستان میں صحت اور تعلیم کے شعبہ میں کام ہو تو ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جب بھی نواز شریف کی حکومت آتی ہے تو وفاقی حکومت سے بالاتر ہو کر تمام صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری بھی وفاقی حکومت پوری کررہی ہوتی ہے یہ اس لیے ہوتا ہے کہ مقصد صرف سیاست نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کی خدمت ہے گزشتہ ساڑھے تین چار سال کے دوران ملک میں جو کچھ ہوا دھرنے ہوئے لاک ڈاؤن ہوئے بند کرنے کی بات ہوئی ترقی کو بند کرنے کی بات ہوئی اور اب کرپشن کاجھوٹا نعرہ لگا کر پاکستان کی مزید ترقی کو روکا جا رہا ہے تاہم 2018ء میں تمام جھوٹے نعرے اور دعوے اور باتیں مسترد ہوں گے کیونکہ اب سیاست کو کارکردگی سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ پریس کلب کے مسائل کو حل کرنا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے ان کا کہنا تھا کہ وزیرعظم کی ہزارہ ڈویژن کے لوگوں کے لیے خاص محبت ہے اس کی ترجمانی موجودہ حکومت کے اس صوبہ میں جتنے بھی منصوبے ہیں چاہے وہ موٹر وے کا منصوبہ ہو چاہے وہ گیس پائپ لائنز کا منصوبہ ہو چاہے بجلی کی فراہمی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کا منصوبہ ہو چاہے ایشیاء کے سب سے بڑے ہیلتھ کارڈ کی فراہمی کا منصوبہ ہو جو جلد اس صوبہ میں آ رہا ہے ۔

وزیراعظم نے صوبائی حکومت کو پروگرام میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی لیکن انہوں نے قبول نہیں کی کیونکہ مسئلہ سیاسی ہوگیا اور مسئلہ پاکستان اور صوبہ کے لوگوں سے بالاتر ہو گیا پھر بھی وزیراعظم نے سپلمنٹری فنڈ سے صوبہ کے اور ہزارہ ڈویژن کے لوگوں کے لیے ہیلتھ کیئر کو مختص کیا ہے اور آئندہ چند ماہ میں ہیلتھ کارڈ کی سکیم ہزارہ ڈویژن کے لیے کھول دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافی اپنے قلم کو سکرین کو بہتر لانے کے لیے استعمال کریں ۔ان کا کہنا تھا کہ ہزارہ موٹر وے کو سی پیک منصوبہ میں شامل کیا گیا ہے سی پیک وہ منصوبہ ہے جو 2018ء تک کا ہی نہیں بلکہ بچوں کا مستقبل ہے جو وزیراعظم نے انہیں دیا ہے۔ساری دنیا اس منصوبہ کو گیم چینجر کہہ رہی ہے 65ممالک کو سی پیک آپس میں جوڑتا ہے گوادر پورٹ ان ممالک کو آپس میں جوڑتا ہے یہ وزیراعظم کا وہ ویژن ہے جسے پاکستان کی آنے والی نسلیں یاد کریں گی ہمارے تمام ہمسائیہ ممالک اس منصوبہ سے خوفزدہ ہیں اس کو پہلے سیاست کی نذر کیا گیا پھر پوری دنیا نے اس کو ناکام بنانے کے لیے پروپیگنڈہ کیا اور ہتھکنڈے استعمال کیے تاہم وزیراعظم کے ویژن کے مطابق اب یہ منصوبہ پر ملک میں عملدرآمد جاری ہے اگر صوبائی حکومت پنجاب اور وفاق کے منصوبوں کی نقل کرنا شروع کر دے تو اس سے صوبہ میں بہت بہتری آ سکتی ہے ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ دوسرے شہروں میں کھڑے ہو کر ان شہروں کے حقوق کی بات کر رہے ہیں میں ان کو پیغام دینا چاہوں گی کہ خیبر پختونخوا کے لوگوں کے حقوق کی بات کون کرے وہ وزیراعظم محمد نواز شریف کریں گے اگر آپ کراچی میں کھڑے ہو کر سندھ کے لوگوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں اور کرپشن کا نعرہ لگاتے ہیں اور یہاں کے پی میں جب وزراء کو پکڑنے کی باری آتی ہے آپ اس وقت احتساب کمیشن کو تالا لگا تے ہیں۔

آج آپ کے احتساب کمیشن کو تالا لگایا ہوا ہے اور آپ پورے ملک کی کرپشن کے جھوٹے نعرے کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں ایک تھانے میں وائی فائی لگانے سے تھانہ کلچر میں تبدیلی نہیں آتی ہم نے اسی اور نوے کی دہائی کی سیاست سے سبق سیکھا کہ اداروں کو کمزور کرنے سے پاکستان کی ترقی کو مستحکم نہیں کیا جاتا ہم کہتے ہیں کہ آئیں سب ملکر وزیراعظم کا بازو بنیں اور پاکستان کے عوام کے حقوق کے بارے میں سیاست کریں۔