بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / سول ملٹری تعلقات

سول ملٹری تعلقات


سول ملٹری تعلقات کسی بھی ملک میں مثالی نہیں ہوتے انہیں تناؤ اور کشیدگی سے بچانے کیلئے مسلسل کوشش کرنا پڑتی ہے افہام و تفہیم کے ذریعے ایک دوسرے کو قائل کرنا پڑتا ہے ہر ملک کی فوج اور حکومت خارجی معاملات میں ایک سے زیادہ محاذوں پر الجھی ہوتی ہے اسلئے غلط فہمیوں اور الجھنوں کا پیدا ہونا قدرتی بات ہے یہ پیچیدہ صورتحال اسوقت مزید الجھ جاتی ہے جب دونوں میں سے ایک فریق ہر قیمت پر اپنی بالا دستی برقرار رکھنا چاہتا ہو اور دوسرا کسی بھی صورت اس غیر مساوی تعلق کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہو پاکستان میں سول ملٹری تعلقات کی تاریخ اس حد تک تلخ اور کشیدہ رہی ہے کہ اب ان دونوں بڑے اداروں کے درمیان تکرارو تصادم روز مرہ کا معمول بن چکا ہے اسلئے اس تناؤ کو اب لوگوں نے ایک نارمل صورتحال کے طور پر تسلیم کر لیا ہے عام آدمی صدر اور آرمی چیف کی ملاقات کی تصویرمیں دونوں بڑی شخصیتوں کے چہروں پر گہری سنجیدگی دیکھ کر اصل حالات کا اندازہ لگا لیتاہے انتیس اپریل کو ڈان لیکس کی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ وصول کرنے کے فوراً بعد وزیر اعظم ہاؤس سے ایک ڈائریکٹیو جاری کیا گیا جس میں رپورٹ کی سفارشات کے مطابق مشیر خارجہ طارق فاطمی کی سبکدوشی اور وزارت اطلاعات کے پریس انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین احمد کے آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی بنانے کا عندیہ دیا گیا اس ڈائریکٹیو نے گذشتہ تین دنوں میں اتنی گرد اڑائی ہے کہ اب پاناما سکینڈل ، چند دنوں کیلئے ہی سہی، قصہ پارینہ بن چکا ہے ہمارے تجربہ کار وزیر اعظم ایک مرتبہ پھر یہ اندازہ لگانے میں ناکام رہے کہ مخالفین انکی اس حرکت کو کونسا لبادہ پہنا کرانکے لئے کس طرح کے مسائل کا ایک نیا انبارکھڑا کر دیں گے۔

اس ڈائریکٹیو کی ٹائمنگ اور متن کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ہر لحاظ سے آ بیل مجھے مار والی حرکت تھی پہلی بات تو یہ کہ بعض طاقتور حلقے جس رپورٹ کا گذشتہ سات ماہ سے انتظار کر رہے تھے وہ اسکی اتنی خفیف اور بے توقیر قسم کی نقاب کشائی کو کسطرح برداشت کر سکتے تھے وہ تو اصل مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے علاوہ اپنی بیگناہی اور معصومیت کا اعلان سننا چاہتے تھے وہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا والی صورتحال کو کڑوے گھونٹ کی طرح پی لینے پر بالکل آمادہ نہ تھے ہمارے مار گزیدہ وزیر اعظم کو اقتدار کی لکیر کے دوسری طرف کھڑے طاقتور حریف کے مزاج کی نزاکت اور حساسیت کا بخوبی اندازہ ہونا چاہئے تھا گذشتہ ربع صدی میں نواز شریف سول ملٹری تعلقات کے اتنے سیلابوں اور طوفانوں سے گزرے ہیں کہ انہیں کسی بھی آرمی چیف کی جنبش ابرو کو دیکھ کر حالات کی کروٹ کا اندازہ لگا لینا چاہئے مگر وہ یا تو لا پرواہ واقع ہوئے ہیںیااب وہ نتائج کی پرواہ کرنے کے جھنجھٹ میں نہیں پڑتے اور یا پاناما کیس میں معزولی کے خوف سے نجات پانے کے بعد وہ کچھ وقت گوشہ عافیت میں گزارنا چاہتے ہیں بات جو بھی ہو انہوں نے ابھی تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا کہ وزیر اعظم ہاؤس میں بیٹھے ہوئے ہر شخص کو ہر لمحہ تنی ہوئی رسی کا سفر کرنا پڑتا ہے اسے ہر لمحے مسلسل دباؤ کے اندر رہنا ہوتا ہے وہ اگر سب کام اپنے شریک اقتدارکی مرضی کے مطابق بھی کرے تب بھی اسے کسی نہ کسی آلام کا سامنا کرنا پڑیگا اس قسم کی نا گفتہ بہ صورتحال کو انگریزی کے دو مقولوں کی مدد سے کچھ زیادہ وضاحت سے بیان کیا جا سکتا ہے۔

ان میں سے ایک یہ ہے کہ This is the nature of the beast یعنی اس جانور کی فطرت ہی ایسی ہے اس محاورے میں لفظ فطرت کو اگر خصلت سے بدل دیا جائے تو مدعا زیادہ واضح ہو جاتا ہے مطلب یہ ہوا کہ اس کام کی نوعیت ہی اس قسم کی ہے اسے اگر کرنا ہے تو اسی طرح رو رو اور تڑپ تڑپ کر کرنا پڑیگا اسمیں دباؤ سے نجات صرف اسی صورت میں مل سکتی ہے کہ ہاتھ جوڑ کر استعفٰی دے دیا جائے اور اسکے بعد ایک غیر یقینی مستقبل کیلئے تیار ہو جانا چاہئے انگریزی کا دوسرا محاورہ یہ ہے کہ It comes with the territory یعنی یہ مشکلات اس علاقے کا جزو لاینفک ہیں اسے مزید طشت از بام کرنے کیلئے اردو کے اس محاورے سے مدد لی جا سکتی ہے جب موصلی میں سر دیا تو ماصلوں سے کیا گھبرانا یہاں یہ شعر خاصا حسب حال ہے
کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے
جو گزر جائے گزر جانے کو جی چاہے ہے

نواز شریف صاحب کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ وہ کھلے اشاروں کی طرف نہ صرف یہ کہ توجہ نہیں دیتے بلکہ انہیں یکسر نظر انداز بھی کر دیتے ہیں یہاں میں ایک مرتبہ پھر انگریزی کے اس محاورے سے رجوع کرنے کی اجازت چاہوں گا انگریز بار بار پرانی غلطیوں کو دہرانے والے شخص کے بارے میں کہتا ہے کہ He does it at his own peril اس کا فری سٹائل ترجمہ یہ ہے کہ اس اذیت کی ذمہ داری خود اسی پر عائد ہوتی ہے مگر یہاں صورتحال یہ ہے کہ وزیر اعظم صاحب کی ان کوتاہیوں کی قیمت پوری قوم کو چکانا پڑتی ہے قوم بیچاری پاناما کیس کے زندان سے نکل رہی ہوتی ہے کہ اسے ڈان لیکس کاسیلاب بلا اپنی زد میں لے لیتا ہے یہاں بات ہو رہی تھی ہمارے بھولے بھالے وزیر اعظم کے اشارے نہ سمجھنے والی عادت کی تو اس سلسلے میں گذارش یہ ہے کہ اخباری اطلاعات کے مطابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے چند دن پہلے ان سے کہا کہ ’’ سر جسطرح آپ کا ایک حلقہ انتخاب ہے اسی طرح میرابھی ایک حلقہ انتخاب ہے‘‘ اس سے آگے کی بات کچھ اسطرح کی تھی کہ جسطرح آپ اپنے ووٹروں کو جوابدہ ہیں اسی طرح میں بھی اپنے جوانوں کو جوابدہ ہوں اس خیال، فلسفے یا دلیل سے اختلا ف کی خاصی گنجائش موجود ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیر اعظم قریہ قریہ گھوم کر ووٹ مانگتا ہے اور فوج کا کماندارفوراً اپنے حکم کی تعمیل چاہتا ہے اسکا ماتحت اسکی جنبش ابرو کا منتظر ہوتا ہے اسے کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہوتی اسنے حکم ملتے ہی چھلانگ لگانا ہوتی ہے دوسری طرف ووٹر ٹھوک بجا کر اپنی درخواست کے بارے میں استفسار کرتا ہے وہ ایسا نہ کرے تو اسکی اپنی مرضی ورنہ اسکا حق ضرور بنتا ہے یہاں اس بات کے کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آرمی چیف نے وزیر اعظم کو ایک اشارہ دے دیا تھا اب بھولے بادشاہ اسے نہیں سمجھے تو یہ ان سے زیادہ ہماری بد قسمتی ہے یہ عذاب انکے ساتھ ساتھ ہم سب کو بھی جھیلنا پڑتا ہے اس صورتحال میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ

یہ عذاب کسی اور پر نہیں آیا
تمام عمر چلے اور گھر نہیں آیا
مقصد یہ کہ تیسری مرتبہ وزیر اعظم بن جانے کے بعد بھی میاں صاحب کو یہ سمجھ نہیں آئی کہ اس شہر ناپرسان میں کوتوال شہر کا فرمان ایک ٹویٹ کی مار ہے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل اٹھارہ لفظی ٹویٹ میں کہہ دیں گے کہ وزیر اعظم کا نوٹیفیکیشن مسترد کیا جاتا ہے اسکے بعد کیا مجال ہے کسی کی جو کاروبار مملکت کو چلانے کے اس انوکھے طریقہ کارکی وجہ تسمیہ پوچھ سکے ایک منٹ کیلئے اگر آرمی چیف کے جوانوں کو جوابدہ ہونے کی منطق کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر اس سوال کا پوچھا جانا لازمی ہے کہ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر بھی کسی کو جواب دہ ہے یا نہیں کیا اس سوال سے صرف نظر کیا جا سکتا ہے کہ اس ملک کے ہر ادارے کا چیف ڈونلڈ ٹرمپ ہے جو ہر روز صبح آنکھ کھلتے ہی جو جی میں آئے ٹویٹ کر دیتا ہے اسکے بعد ایک طرف میڈیا اور دوسری طرف وائٹ ہاؤس صف آراء ہو کر سارا دن عوام کی ضیافت طبع کا سامان مہیا کرتے رہتے ہیں۔