بریکنگ نیوز
Home / کالم / محنت کش ہاتھ!

محنت کش ہاتھ!

پاکستان کا سب سے مثبت پہلو اس کے نوجوان ہیں‘ جن پر مشتمل افرادی قوت کے لئے ہنرمندی اور تربیت کیساتھ بہترحالات کار کا تعین بھی ضروری ہے‘ جس سے افرادی قوت کی ہر ایک اکائی سے فائدہ اٹھایا جا سکے گا کیا ہمارے حکمران نہیں جانتے کہ ایک سنگین جسمانی زخم ایک مزدور اور اس کے گھرانے پر بے پناہ مالی بوجھ ڈال سکتا ہے اور حالات اس وقت مزید بگڑتے ہیں جب وہ شخص گھر کا اکیلا کمانے والا ہو۔ اس نقصان کا تہرا اثر ہوتا ہے‘ اس سے کارپوریشن کو مالی نقصان پہنچتا ہے‘ خاندان کیلئے اپنی دال روٹی کا انتظام کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور قومی پیداوار پر بھی منفی اثر پڑتا ہے حالیہ چند برس میں پاکستان میں کچھ بھیانک ترین صنعتی حادثات ہوئے ہیں لاہور میں فیکٹری کا انہدام‘ جس میں پینتالیس کارکن ہلاک ہوئے‘ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں کام کرنے کی جگہوں پر حفاظت اور صحت کسی کی ترجیح نہیں ستمبر دوہزار بارہ میں کراچی کی بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آگ لگنے سے دوسوساٹھ سے زیادہ کارکن ہلاک ہوئے اس سے عالمی سطح پر پاکستان میں کام کی جگہوں کی بدترین صورتحال کے بارے میں بھی آگہی پھیلی۔

ان واقعات کے بعد مختصر اور درمیانی مدت کے منصوبے بنائے گئے جن پر عملدرآمد اب بھی باقی ہے۔ اس دوران فیکٹریوں میں غیرقانونی اور خطرناک طریقے سے کام کرنا ایسے جاری ہے جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں اگر حفاظتی اقدامات کو مدنظر رکھا جائے تو زیادہ تر حادثات روکے جا سکتے ہیں‘ یا کم از کم انکی شدت ضرور کم کی جا سکتی ہے سڑک کنارے بل بورڈز نصب کرنے والی ایڈورٹائزنگ کمپنیوں سمیت ایسے کئی کاروباری ادارے ہیں جو اپنے کارکنوں کی حفاظت کو مدنظر نہیں رکھتے مزدوروں کو کسی بھی حفاظتی سامان کے بغیر پچاس فٹ اوپر چڑھ کر کام کرتے دیکھا جا سکتا ہے جو رسیاں یہ لوگ استعمال کرتے ہیں‘ وہ صرف اتنی موٹی ہوتی ہیں کہ ان سے سامان ٹانگا جا سکے مگر ذمہ داران حفاظتی اقدامات کی دھجیاں اڑائے جانے پر خاموش رہتے ہیں اس کے علاوہ تعمیراتی مزدوروں کو گرنے اور شدید چوٹ لگنے کا خطرہ کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔ دیہاڑی دار مزدور جنہیں تعمیراتی کمپنیاں یا ٹھیکیدار بھرتی کرتے ہیں‘ اونچی عمارتوں اور گھروں پر چھتیں تعمیر کرتے‘ اینٹیں اٹھاتے یا ہاتھ گاڑی دھکیلتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ مٹی اور ریت کی وجہ سے آنکھوں کا زخمی ہونا عام ہے کیونکہ حفاظتی چشمے پہننے کا کوئی تصور ہی موجود نہیں۔ پینٹروں کو اکثر اونچی عمارتوں کی دیواروں پر پینٹ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ بسا اوقات زمین سے کئی فٹ اونچائی پر انہیں رنگ کرتے وقت بیٹھنے کیلئے صرف ایک تختہ فراہم کیا جاتا ہے۔ مزدوروں کے پاس یہی وجوہات ہیں‘ کہ وہ اور کریں بھی کیا جب وہ بارہ گھنٹے کام کرنے پر روز آٹھ سو روپے سے بھی کم کماتے ہیں مزدور کام کرنے کے محفوظ ماحول کا مطالبہ نہ کر سکتے ہیں اور نہ کریں گے‘ کیونکہ انہیں یہ یقین دلا دیا گیا ہے کہ وہ اس کا استحقاق نہیں رکھتے جبکہ تعلقات رکھنے والے کرپٹ مالکان پولیس اور میڈیکو لیگل افسران کو رشوت دیکر باآسانی قانون کی گرفت سے نکل جاتے ہیں۔

پاکستان میں زندگی کی قیمت بہت کم ہے تعلیم اور آگہی کی کمی اور شدید غربت اس استحصال کی وجہ ہے جہاں ہم اپنے نظام میں موجود خامیوں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں‘ وہیں قابل تعریف اقدامات کی تعریف کرنا بھی اہم ہے پاکستان میں مزدوروں کے تحفظ سے متعلق سب سے اہم قانون دستاویز ’فیکٹریز ایکٹ 1934ء‘ ہے اس ایکٹ میں مزدوروں کے تحفظ اور صحت اور انکی خلاف ورزیوں پر تفصیلاً بات کی گئی ہے مگر ملک میں موجود دیگر قوانین کی طرح یہ قانون بھی عملدرآمد سے محروم ہے۔ حال ہی میں پاکستان میں انفراسٹرکچر میں ہونے والی زبردست سرمایہ کاری کو دیکھتے ہوئے حکومت کو چاہئے کہ اب وہ مزدوروں کے تحفظ پر بھی توجہ دے جس کیلئے چند بنیادی اقدامات سے کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ تعمیراتی سائٹ سے کم از کم دو میل پہلے ’کام جاری ہے‘ کی وارننگز شروع ہونی چاہئیں۔ ایک میل پہلے سڑک پر کون رکھنے چاہئیں تاکہ ڈرائیور اپنی لین تبدیل کر لیں۔ تعمیراتی جگہوں کے قریب گاڑیوں کی حد رفتار کم رکھنی چاہئے۔ ڈرائیورز کو آگے جاری کام سے خبردار کرنے کے لئے روشنیاں لگانی چاہئیں۔

ان علاقوں میں جرمانے دو گنے کر دینے چاہئیں۔ تعمیراتی جگہوں پر صحت اور تحفظ کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروا کر مناسب اقدامات یقینی بنائے جائیں مزدوروں کو ہیلمٹ‘ چمکدار جیکٹیں‘ دستانے اور موٹے بوٹس فراہم کئے جائیں تاکہ وہ چوٹوں سے بچ سکیں۔ کام کرنے کی جگہوں پر صرف چوٹ لگنے کے خطرات ہی موجود نہیں اس کے علاوہ بھی کئی دیگر طبی مسائل ہیں جنکا مزدوروں کو اکثر سامنا رہتا ہے مگر یہ مسائل رپورٹ نہیں ہوتے‘ مثلاً قالین کی صنعت میں کارکنوں کو لاحق جلد کے امراض‘ کیمیکل فیکٹریوں اور کانوں میں پھیپھڑے کے امراض اور اسکے علاوہ سننے میں دشواری وغیرہ۔ اپنے ملازمین کے باقاعدگی سے صحت اور فٹنس کے چیک اپ‘ ذہنی تندرستی اور کارکردگی کی جانچ پڑتال وہ بنیادی حقوق ہیں جنہیں مالکان کو یقینی بنانا چاہئے مگر لگتا ہے کہ پاکستان کے پانچ کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد مزدوروں کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہے اور رہے گا۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: جہانزیب آفندی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)