بریکنگ نیوز
Home / کالم / قلمی بددیانتی

قلمی بددیانتی

معاشرے میں جن لوگوں کو اللہ نے قلم کی طاقت عطا فرمائی ہے ان کو اپنا قلم استعمال کرتے وقت اس بات کا احساس رکھنا چاہئے کہ وہ جو بات کر رہے ہیں کیاوہ پوری طرح صحیح ہے یا وہ اس میں کچھ کمی زیادتی کر رہے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ ایک بڑا قلم کار یا ایک بڑا اینکر پرسن اس بات کو نہ سمجھتا ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور اس کو کیا کہنا چاہئے۔ یہ بھی سچ ہے کہ ہر آدمی کی ایک پسند ہوتی ہے۔ سیاست میں ہر انسان کا ایک نظریہ ہے اور اپنے نظریے کا پرچار کرنا بھی اسکا حق ہے لیکن اپنا یہ حق استعمال کرتے وقت اسے اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ اس کی بات اس کے خیالات کے مطابق تو ہو مگر اس میں جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو اور جب آپ صریحاً جھوٹ بول رہے ہوں تو دکھ ہوتا ہے کہ ایک بڑا قلم کار اور ایک بڑا اینکر پرسن کس طرح اپنے خیالات کی ترجمانی کرتے ہوئے جھوٹ بول رہا ہے یا ایک شخص کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے اور اس سے اپنے مطلب کی ترجمانی کر رہا ہے کوئی بھی انسان کسی سے بھی محبت ‘ الفت یا چاہت کر سکتا ہے اور کسی سے اختلاف یا نفرت کر سکتا ہے مگر جب بات کسی سیاسی لیڈر کی ہو تو ہم اس کے الفاظ کو سامنے سنا کر بھی اُلٹ معنی لیتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے کہ ایک بڑا اینکر پرسن یا ایک بڑا کالم نویس یا ایک بڑا اخبار نویس ایک سیاسی لیڈر کے الفاظ کو ایسے معنی پہنا رہا ہے جو اداروں کے درمیان بھی غلط فہمیاں پیدا کر سکتے ہیں اور عوام اور لیڈر کے درمیان بھی نفرت کی دیوار کھڑی کر سکتے ہیں حالانکہ وہ الفاظ اس قابل نہیں ہیں کہ کوئی ان کو غلط معنی پہنا سکے۔

کوئی بھی انسان جب کوئی تقریر اور وہ بھی عوامی جلسے میں کر رہا ہو تو وہ مجمعے کی نفسیات کے مطابق بات کرنے کی کوشش کرتا ہے اس میں وہ بعض دفعہ جھوٹ بھی بولتا ہے اور یہ جھوٹ اس کے مخالفین مانتے بھی ہیں اور اس پر پکڑ بھی نہیں کرتے اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کو بھی یہ باتیں ایسے ہی کرنی ہیں مگر جب ایک خاص واقعے کے متعلق بات کی جا رہی ہو تو سیاسی لیڈر خصوصاً بہت احتیاط سے کام لیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ان کے الفاظ کی پکڑ نہ ہو ایسے میں وہ واقعات کو اصل صورت میں بیان کرتے ہیں ‘ اب ایک نشست میں جناب حامد میر صاحب نے فرمایا کہ چوہدری نثار صاحب نے خود اُن کو باہر بھیجا اور کہا کہ وہ دو چار ہفتوں میں واپس آ جائیں گے اور وہ نہیں آئے۔

یعنی سارا قصور وزیر داخلہ کا تھااسی طرح انہوں نے جناب نثار صاحب کی ایک تقریر کے اقتباسات کو الٹ پھیر کر بیان کیا اور ساتھ یہ تبصرہ بھی بار بار کیا کہ اس طرح اداروں کا آپس میں ٹکراؤ ہو رہا ہے۔ چوہدری صاحب نے تقریر میں کہاتھا کہ مجھے کہا گیا کہ واہ میں مزدوروں کے کنونشن میں نہ جائیں اس لئے کہ کچھ سکیورٹی تھریٹ ہیں تو میں نے کہا کہ ’’اگر ہمارے سکیورٹی ادارے ایک چھوٹی سی جگہ پر کہ جو چاروں جانب سے بند ہے ، کو سکیورٹی نہیں دے سکتے تو اُ ن کے کردار پر تو بات ہو سکتی ہے‘‘ مگر اس بات کوہیر پھیر کر اس طرح بیان کیا گیا کہ گویا وزارت داخلہ اور سکیورٹی اداروں کے درمیان کوئی غلط فہمیاں موجود ہیں جو اداروں کے درمیان نہیں ہونی چاہئیں اب چوہدری صاحب کے بیان میں سے یہ بات کہاں سے نکلتی ہے کہ انکو سکیورٹی اداروں پر اعتماد نہیں ہے مگر کیا کہا جائے اگر میرصاحب کہتے ہیں توٹھیک ہی کہتے ہوں گے اس لئے کہ وہ تو بہت بڑے اینکر اورکالم نویس ہیں۔