بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / بھارت نے الزامات پیش کرنیکا حق کھو دیا

بھارت نے الزامات پیش کرنیکا حق کھو دیا


اسلام آباد۔پاکستان نے بھارت کی جانب سے انتہائی اشتعال انگیز بیانات پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان سے خطے کی صورتحال مزید خراب ہو گی، بھارتی فوجیوں کی لاشوں کی بے حرمتی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا،پاکستانی طلبہ کی جبری واپسیاوربھارت میں مذہبی منافرت کے معاملے کو سفارتی سطح پر نئی دہلی اور عالمی برادری کے ساتھ اٹھایا جائے گا،بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت، انتہاپسندی اور دہشتگردی کے واقعات دنیا بھر کی توجہ حاصل کرچکے ہیں،تما م تر صورتحال میں ہندو انتہاپسند تنظیمیں ملوث ہیں اوربھارتی حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے جمعرات کو ایک انٹرویو اور اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی لاشوں کی بے حرمتی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اقوام متحدہ کے سامنے اپنے الزامات کو پیش کرنے کا حق کھوچکا ہے کیونکہ اس نے کبھی عالمی ادارے کی قراردادوں پر عمل نہیں کیا اور نہ ہی اس مقصد کے لئے قائم اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کے ساتھ تعاون کیا ہے۔نفیس ذکریا نے کہا کہ بھارت نے اپنے اندرونی سیاسی مقاصد کے حصول اور مقبوضہ کشمیر میں اپنی بربربیت سے توجہ ہٹانے کے لئے ہمیشہ پاکستان کارڈز کا استعمال کیا۔

ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری اور بھارتی خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ریاسی دہشت گردی کر رہا ہے۔دفتر خارجہ نفیس زکریا نے پاکستانی طلبہ کے وفد اور ان کے اساتذہ کو بھارت کا دورہ مختصر کرنے کے بعد جبرا وطن واپس بھیجنے کے معاملے کو سفارتی سطح پر اٹھانے کا اعلان کردیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ ‘بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت، انتہاپسندی اور دہشت گردی کے واقعات دنیا بھر کی توجہ حاصل کرچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی پاکستان مخالف پالیسی سمیت مسلمان، عیسائی اور دیگر مذہبی اقلیتوں پر بھارت میں ہونے والے ظلم و ستم پر بین الاقوامی برادری تشویش کا اظہار کرچکی ہے’۔نفیس ذکریا کا دعوی تھا کہ ‘اس تمام صورتحال میں ہندو انتہاپسند تنظیمیں ملوث ہیں جبکہ حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے’۔حالیہ واقعے کو بھارت کے سامنے اٹھانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘جب ضرورت پڑے پاکستان تشویش کا اظہار ضرور کرتا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز بھارتی انتہاپسند جماعت شیو سینا کی جانب سے دی گئی دھمکیوں کے بعد غیر سرکاری تنظیم کی دعوت پر بھارتی دورے پر گئے 50 پاکستانی طلبہ اور اساتذہ کے گروپ کو واپس بھیج دیا گیا تھا۔پاکستانی طلبہ کو نئی دہلی کی این جی او راٹس ٹو روٹس کی طرف سے ایکسچینج فار چینج پروگرام کے تحت بھارت مدعو کیا گیا تھا۔پاکستانی طلبہ، اساتذہ اور عملے پر مشتمل 50 رکنی وفد کی سیکیورٹی کو جواز بناتے ہوئے بھارتی حکومت نے این جی او کو تجویز دی تھی کہ یہ وقت میزبانی کے لیے نامناسب ہے، جس کے بعد سخت سیکیورٹی میں ان طالب علموں کو واہگہ بارڈر کے ذریعے واپس پاکستان بھیج دیا گیا تھا۔