بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / مستقبل میں معیشت جدید اور ڈیجیٹل

مستقبل میں معیشت جدید اور ڈیجیٹل

پشاور ۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخواپرویز خٹک نے کہا ہے کہ ہم نے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ قائم کیا ہے۔ مستقبل کی معیشت جدید اور ڈیجٹیل ہو گی ۔ ہم سماجی معاشی ترقی کی بنیاد بنانے پر لگے ہوئے ہیں جو ہمارے قدرتی وسائل کے بار آور استعمال سے ہی ممکن ہے ۔ ہم انسانی وسائل کو معاشی ترقی کی کنجی سمجھتے ہیں۔ہمارے پاس وسائل ہیں۔ عزم ہے ۔ ہم ٹیکنالوجی کی طرف جارہے ہیں ۔ سرمایہ دوست پالیسی اور ہمارے اہداف ہماری دسترس میں ہیں جوہمارے شاندار مستقبل کے غماز ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور کے ایک نجی ہوٹل میں خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور ورلڈ بینک کے باہمی تعاون سے منعقدہ تیسرے ڈیجیٹل سیمینار کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا صوبائی وزیر برائے صحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی شہرام خان ترکئی، سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی داؤد خان،کنٹری ڈائریکٹر ورلڈ بینک ، کنٹری ہیڈ یو اینڈ ڈی پی کے علاوہ یو ایس ایڈ ، یو ایس آئی ڈی ، جی آئی زیڈ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں اور ٹیکنالوجی سے وابستہ نوجوانوں نے سمینار میں شرکت کی ۔وزیراعلیٰ نے سمینار کے شاندار انعقاد پر انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈاور معاون اداروں کا شکریہ ادا کیا اور اُنہیں مبارکباد دی ۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت نے صوبے کے نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنے کے لئے نہ صرف انفارمیشن ٹیکنا لوجی بورڈ تشکیل دیا ہے بلکہ صوبے میں سرمایہ کاری لانے کیلئے بھی دن رات کوشش کر رہے ہیں نوجوان نا امید نہ ہو ان کا مستقبل روشن ہے نوجوان محنت کریں صوبائی حکومت ان کی فلاح کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے صوبے میں خوشحالی اور ترقی کیلئے تبدیلی کا جو سفر شروع ہوا ہے اسے آگے لے کر جا نا ہے۔ سی پیک اور ہمارے شفاف نظام کی وجہ سے خیبر پختونخوا سرمایہ کاری کے لئے ملک کا موزوں ترین صوبہ بن چکا ہے ۔ہمیں دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے خود کو مضبوط کرنا ہے۔ اگر ہم محنت کریں اور خود کو ٹھیک کریں تو اپنے وسائل بھی کافی ہے اسی لئے صوبائی حکومت قرضوں کے بجائے سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ آج ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ ٹیکنالوجی کے بغیر ترقی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔نوجوانوں کی خوش قسمتی ہے کہ قدرت نے اُنہیں دُنیا کو سمجھنے اور تسخیر کرنے کا موقع دیا ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اُن کی حکومت کی پہلے دن سے کوشش تھی کہ نوجوانوں کی ترقی کیلئے اقدامات کریں ۔ نوجوانوں کا مستقبل اُن کی ترجیحات میں شامل تھا۔انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہماری آبادی کا 60 فیصدنوجوان ہیں مگر اُن کی ترقی کیلئے ماضی میں نہیں سوچا گیا۔اُن کی حکومت نے نوجوانوں کی ترقی پلان کی ، آئی ٹی بورڈ قائم کیا ۔ صوبے بھر میں کھیلوں کے میدان بنائے، فنی تربیتی مراکز کا معیار بلند کیا اور سب سے بڑھ کر خیبرپختونخوا کو سرمایہ کاری کیلئے اوپن کیا ۔اس صوبے میں صنعتکاری اور سرمایہ کاری کے شاندار مستقبل کو دیکھ کر نوجوان خود کو تیار کریں اور متعلقہ صوبائی محکمے اور ادارے نوجوانوں کو صنعتوں کے لئے فنی تربیت دیں تاکہ صوبے میں صنعتوں کو تیار افرادی قوت مل سکے اور نوجوانوں کا مستقبل بن سکے ۔

وزیراعلیٰ نے حکومتی اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ جب وہ حکومت میں آئے تو تمام ادارے ناکارہ تھے ۔ کسی شعبے میں بھی ڈیلیور نہیں ہورہا تھا ۔اداروں میں سیاسی مداخلت عام تھی اور حکمرانوں کو صرف ذاتی فکر تھی ۔ قوم کے مستقبل کیلئے کسی نے نہیں سوچا۔ہم نے تین سال بھر پور محنت کی ، ہرشعبے میں اصلاحات لائیں ، ڈیڑھ سو زائد قوانین بنائے ، ایک شفاف نظام وضع کیا ۔انہوں نے کہاکہ اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت 70 سے 80 فیصد کام ہو چکا ہے جبکہ اصلاحات کا عمل جاری ہے ۔ خیبرپختونخو امیں شفاف نظام کا یہ آغاز ہے ہم مزید آگے بڑھ رہے ہیں۔اب اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہو رہا ہے ۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ تین سال پہلے لوگ سرمایہ کاری کیلئے صوبے میں آتے تھے مگر شفاف ماحول اور امن و امان نہ ہونے کی وجہ سے واپس چلے جاتے تھے۔ دوسری طرف ہمارا صوبہ سمند ر سے دور تھا ، خا م مواد دستیاب نہیں تھا ، ٹیکنکل لوگوں کی کمی تھی اور امن و امان کی ناسازگار صورتحال تھی جس کی وجہ سے سرمایہ کاری کیلئے موزوں نہ تھا ۔ صوبائی حکومت کی اصلاحات ، سکیورٹی فورسز کی کاوشوں اور خصوصی طور پر سی پیک جیسے عوامل کی وجہ سے خیبرپختونخوا سرمایہ کاری کیلئے دیگر تمام صوبوں سے موزوں اور صنعتکاری کا مرکز بننے جارہا ہے ۔ہمارا مغربی روٹ 500 کلومیٹر مختصر ہے۔ افغانستان کے ذریعے پورا وسطی ایشیاء جبکہ متبادل روٹ گلگت سے چترال دیر تا چکدرہ کے ذریعے واخان ، ایران اور دیگر ممالک کے لئے اوپن ہو جائے گا۔دوسری طرف پورے پاکستان کے لئے بھی صنعت و تجارت کا مرکز بننے جارہا ہے ۔

وزیر اعلیٰ نے کہاکہ سی پیک کے ممکنہ فوائد کے معاملے میں وفاق نے ہمیں دو سال تک اندھیرے میں رکھاجیسے ہم اس ملک کا حصہ ہی نہیں ہیں۔ جب دسمبر 2016 میں چین کا دورہ کیا تو سی پیک کے سکوپ اور اس کے تناظر میں مستقبل کے فوائد کا انکشاف ہوا ۔ چین سے واپسی پر ہم نے تیار ی شروع کی تمام محکموں میں ورکنگ گروپس بنائے اور بیجنگ روڈ شو کیلئے 100 سے زائد منصوبے لے کر گئے جن میں سے 82 منصوبوں پر ایم او یوز پر دستخط ہوئے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ یہ تمام منصوبے نفع بخش اور سرمایہ کار ی پر مبنی ہیں۔ہم منصوبوں کیلئے قرض نہیں لے رہے ۔اگر ان منصوبوں پر 50 فیصد بھی عمل درآمد ہو جائے تو اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری آئے گی تاہم صوبائی حکومت ان تمام منصوبوں کو گراؤنڈ پر لانے کیلئے دن رات کام کر رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ سرمایہ کاری پر اسلئے زور دے رہے ہیں تاکہ صوبہ مقروض نہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں عجیب کلچر رہا ہے جو بھی آیا وہ قرضے لیتا اور اُن کا بوجھ دوسرے کیلئے چھوڑ جاتا ۔ اب ہمیں اس سوچ کو بدلنا ہو گا ۔ ہمیں خود کو اُٹھا نا ہے ۔ اپنے وسائل کو استعمال میں لانا ہے تاکہ تیز رفتار ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ وہ پاکستان کی مروجہ سیاست اور دگرگوں ملکی حالات سے نااُمید ہو چکے تھے مگر آج تبدیلی آچکی ہے ۔سی پیک کی وجہ سے ساری دُنیا خیبرپختونخو اکا رخ کر رہی ہے ۔نوجوان نا اُمید نہ ہوں ۔ جدید ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کریں تاکہ ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ اُن کا مستقبل روشن ہے ۔