بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / اہم فیصلے ثمرآور بنانے کی ضرورت

اہم فیصلے ثمرآور بنانے کی ضرورت

خیبرپختونخواحکومت نے صوبے میں نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن نصاب کی نگرانی اور دوسرے امور کی دیکھ بھال کیلئے خصوصی ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی منظوری دی ہے صوبائی کابینہ نے گزشتہ روز کے اجلاس میں تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے بعض دیگر اہم تجاویز بھی منظور کی ہیں جنکے تحت ایجوکیشن سروسز ایکٹ کی ڈرافٹنگ ایجوکیشن سروس کو علیحدہ حیثیت دینے ٹائم سکیل کے تحت پروموشن اور بعض دوسرے اقدامات شامل ہیں کابینہ نے پی ایس سی ملازمین کے الاؤنس میں اضافے کی منظوری بھی دی صوبے میں ٹریفک حادثات میں اموات پر معاوضہ ڈھائی لاکھ روپے کرنے کے ساتھ گاڑیوں کیلئے فٹنس سرٹیفیکیٹ بھی لازمی کردیاگیا ہے عین اسی روز اسلام آباد میں سنٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں پشاور ریپڈ بس ٹرانزٹ کو ریڈور کی منظوری بھی دیدی گئی جس پر لاگت کا تخمینہ 56.8 ارب روپے لگایا جارہا ہے جہاں تک نجی تعلیمی اداروں کیلئے ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کا تعلق ہے تو اسکی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا فروغ تعلیم میں پرائیویٹ سیکٹر کے رول کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اسکے ساتھ اس حقیقت سے صرف نظر بھی ممکن نہیں کہ نجی شعبے میں جہاں اچھے اور اعلیٰ معیار کے ادارے قائم ہوئے وہیں تعلیم کو محض کاروبار کا درجہ دیکر انتہائی غیر معیاری انسٹی ٹیوٹ بھی قائم ہوئے۔

ایجوکیشن سیکٹر کے بعض ادارے اپنے معیار سے بڑھ کر فیسیں بٹورنے کیساتھ نصابی کتب‘ سٹیشنری اور حتیٰ کہ یونیفارم کی خریداری تک میں والدین کو مخصوص دکانوں کا پابند بناتے ہیں بعض درسگاہوں کو صرف سرٹیفیکیٹ اور ڈگریاں تقسیم کرنے والا بنادیاگیا ہے برسرزمین صورتحال چیک اینڈ بیلنس کے موجودہ نظام کو ناکافی قرار دے رہی تھی ایسے میں ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام یقیناًقابل اطمینان ہے تاہم اس کا ثمر آور ہونا اسکے اختیارات کے درست تعین افرادی قوت کے محتاط انتخاب اور اسکے آپریشن کو ہر قسم کے دباؤ سے پاک رکھنے کیساتھ مشروط ہے ہمارے ہاں ریگولیٹری اتھارٹیز اکثر اوقات صرف رجسٹریشن تک محدود رہتی ہیں رجسٹریشن میں بھی ادارے انہیں صرف دستاویزات دے دیتے ہیں جنکی بنیاد پر زمینی صورتحال کو کبھی چیک کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی اسی قسم کی رجسٹریشن کا نتیجہ آج جعلی میڈیکل لیبارٹریز‘ میٹرنٹی ہومز‘ فارمیسی شاپس اور بے شمار عطائیوں کی صورت میں شہریوں کی زندگی اور صحت کیلئے مسلسل خطرے کی صورت سامنے ہے‘ نجی تعلیمی اداروں کی اتھارٹی کو اگر فعال بنانا ہے تواسکی ورکنگ پرمسلسل نگاہ رکھے جانے کا انتظام ضروری ہے۔

ایجوکیشن سیکٹر کی اصلاحات کیلئے دیگر اقدامات بھی عملدرآمد کیلئے مکینزم کے متقاضی ہیں‘ ٹریفک حادثات کی صورت میں معاوضے کی شرح بڑھانے کیساتھ حادثات روکنے کیلئے اقدامات بھی ناگزیر ہیں ٹریفک کو قاعدے قانون کا پابند بنانا اور روڈز کا انفراسٹرکچر بہتر و محفوظ بنانا بھی ذمہ دار سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے کیا ہی بہتر ہو کہ بڑے بڑے منصوبوں کیلئے پلاننگ کیساتھ صوبے اور خصوصاً اسکے دارالحکومت میں سڑکوں کی حالت اورانکی بہتری کیلئے سفارشات پر مبنی ایک رپورٹ ہی سامنے آجائے جسکی روشنی میں حکومت کوئی پلاننگ کرسکے ورنہ ہر شہر اور ہرگاؤں کے جلسوں میں سڑکوں سے متعلق اعلانات ہی ہوتے رہیں گے جن پر سے اب اعتماد اٹھتا چلا جارہا ہے۔