بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / طالبان کی نئی صف بندی

طالبان کی نئی صف بندی


جنگ زدہ افغانستان کا منظر نامہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نیا رخ اختیار کرتاہوا نظرآ رہا ہے۔ افغانستان کا ایک منظر وہ ہے جس میں طالبان ایک برسرزمین حقیقت کے ساتھ ہرآنے والے دن کے ساتھ ایک نئی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔پچھلے دنوں صوبہ بلخ کے ہیڈکوارٹر اور موجودہ اتحادی حکومت میں نائب صدر اول کے منصب پر فائز سابق جنگجو کمانڈر اور جنبش ملی افغانستان کے سربراہ عبد الرشید دوستم کے پاور بیس مزار شریف کے اہم فوجی تربیتی کیمپ پر طالبان حملے کے نتیجے میں ڈیڑھ سو سے زائد افغان فوجیوں کی ہلاکتوں نے نہ صرف پورے افغانستان کوہلا کر رکھ دیا تھا بلکہ اس غیر متوقع اور اچانک حملے نے امریکہ کو بھی سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جس کاایک ثبوت جہاں افغانستان میں تعینات امریکی افواج کے سربراہ جنرل جان نکلسن کا امریکی انتظامیہ سے افغانستان میں مزید چار سے پانچ ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا مطالبہ کرنا ہے مزار شریف کے متذکرہ فوجی کیمپ پر ہونے والے حملے کے بارے میں یہ متضاد خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ اس واقعے میں مرنے والے فوجیوں کی تعداد اس تعداد سے کہیں زیادہ ہے جو میڈیا میں سرکاری ذرائع سے رپورٹ ہوئی ہیں اس حوالے سے بعض آزاد ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد دو سو سے بھی زیادہ ہے جبکہ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں پانچ سو کے قریب فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ حملہ پختون اکثریتی جنوب مشرقی علاقوں جہاں سابق جہادی قوتوں کے ساتھ ساتھ طالبان کے وجود میں آنے سے لیکر اب تک طالبان کازور رہا ہے کے برعکس ملک کے شمالی صوبے بلخ کے دارالحکومت مزار شریف میں رونما ہواہے جہاں افغانستان میں سوویت افواج کی موجودگی کے زمانے میں بھی باقی ماندہ یعنی پختون اکثریتی علاقوں کی نسبت امن وامان کی حالت نسبتاً بہتر تھی ۔

افغان تحریک مزاحمت چاہے وہ سوویت یونین کیخلاف تھی یا اب امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف اسکے بارے میں مزاحمت مخالف حلقے ہمیشہ یہ الزام عائدکرتے رہے ہیں اور ان کی جانب سے شدومد سے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے کہ ان مزاحمتی تحریکوں کے پیچھے اصل میں پاکستان کا ہاتھ ہے جبکہ شمالی علاقوں کے بارے میں یہ عمومی رائے پائی جاتی ہے کہ یہاں تاجکوں اور ازبکوں کی اکثریت کے علاوہ یہ علاقے سیاسی اور عسکری لحاظ سے بھی ہمیشہ طالبان مخالف قوتوں کے زیر اثر رہے ہیں۔یہ حقیقت ہرکسی کو معلوم ہے کہ یہ علاقے اس وقت بھی طالبان کی دست برد سے باہر تھے جب طالبان کابل سمیت افغانستان کے پچاسی سے نوے فیصد رقبے پر قابض ہوگئے تھے۔ بعد میں یہی علاقے 2001ء میں طالبان کیخلاف امریکی حملے کے وقت بھی شمالی اتحاد کے لئے بطور لانچنگ پیڈ استعمال ہوئے تھے۔واضح رہے کہ افغانستان کے ان شمالی علاقوں کی سرحدیں تاجکستان‘ ازبکستان اور ترکمانستان سے ملی ہوئی ہیں اور امریکہ نے 2001ء میں افغانستان میں زمینی کاروائی کیلئے افغانستان کے ان تینوں پڑوسی ممالک کے فوجی اڈے ہی استعمال کئے تھے جب کہ اس کاروائی سے بھی بہت پہلے بھارت طالبان کے خلاف شمالی اتحاد کو ٹریننگ اور اسلحہ وگولہ بارود کے علاوہ شمالی اتحاد کے زخمی جنگجوؤں کے علاج معالجے کے لئے افغان تاجک بارڈر پر واقع فرخور نامی ایئرفورس بیس کا استعمال کرتا رہا ہے ۔یہ حقائق یہاں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ طالبان کی جانب سے اپنی حالیہ سرگرمیوں کا بیس کیمپ ملک کے شمالی علاقوں کو بنانے کی سوچ کے پیچھے ایک واضح حکمت عملی نظر آتی ہے ۔

شمالی علاقوں کو ہدف بنانے کا دوسرا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ اور افغان فورسز کی توجہ کا زیادہ تر مرکز چونکہ جنوب مشرقی پختون اکثریتی علاقے ہیں اسلئے طالبان نے اپنی افرادی قوت ان علاقوں سے حکمتاً شمالی علاقوں کی جانب منتقل کی ہے اور انہیں جوں ہی موقع ملا ہے انہوں نے شمالی علاقوں کے نرم اہداف کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے طالبان کا اپنی تازہ عسکری کاروائیوں کے لئے شمالی علاقوں کے انتخاب کے متعلق ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ علاقے چونکہ روس کے زیر اثر وسط ایشیائی ریاستوں تاجکستان ‘ازبکستان اور ترکمانستان کی سرحد پر واقع ہیں اس لئے ان علاقوں میں امریکی الزامات اور میڈیا کی بعض ان رپورٹوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ طالبان کو روس سپورٹ کر رہا ہے کو بھی ایک اہم جواز اور وجہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس تمام تر بحث اور تجزیئے کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے کسی بڑے بریک تھرو کی امید تونہیں ہے البتہ قرائن سے یوں لگ رہا ہے کہ یہ صورتحال مزید پیچیدگی ضرور اختیار کر سکتی ہے۔