بریکنگ نیوز
Home / کالم / رینجرز اختیارات اور امن و امان

رینجرز اختیارات اور امن و امان


دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی جبکہ اسکا مؤثر انداز میں مقابلہ تنہا صوبائی سطح پر نہیں کیا جاسکتا۔ یوں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے حکمت عملی میں وفاقی حکومت کا کردار نمایاں بن جاتا ہے انسداد دہشت گردی بنیادی طور پر ایک وفاقی موضوع رہا ہے جبکہ اس حوالے سے ہمارے پاس انسداد دہشت گردی ایکٹ بھی موجود ہے جو ایک وفاقی قانون ہے‘ جس میں پورے پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی کاروائیوں کا قانونی فریم ورک موجود ہے پولیسنگ ابتداء سے ہی مکمل طور پر ایک سیاسی عمل ہے۔ کھل کر کہیں تو تمام تر تعلقات جن میں طاقت کا عنصر موجود ہے وہ سیاسی ہیں اسی طرح رینجرز کی پولیسنگ اور تعیناتی کے حوالے سے‘ ان کے کام کرنے کے مینڈیٹ‘ وسعت اور مدت پر‘ جس طرح سندھ میں دیکھا گیا‘ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ایک تکرار کا باعث بنا رہا۔ دو سیاسی جماعتیں ہونے سے‘ ایک وفاقی حکومت کو چلا رہی ہے‘ دوسری سندھ کو‘ جن کے مختلف نکتہ نظر‘ ترجیحات اور صوبے میں مختلف سیاسی حیثیت‘ رینجرز آپریشنز کے حوالے سے فیصلہ سازی پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ پولیسنگ ایک صوبائی موضوع ہے اور صوبے میں رینجرز آپریشنز کے حوالے سے صوبائی حکومت کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے بھارت میں نیم عسکری ادارے سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کی سربراہی پولیس افسران کرتے ہیں۔

پاکستان میں‘ نیم عسکری اداروں‘ ماسوائے فرنٹیئر کانسٹبیلری کی سربراہی فوجی افسران کرتے ہیں مسلح افواج کے افسران‘ یہاں تک کہ نیم عسکری اداروں میں کام کرنے والے بھی‘ وفاقی یا صوبائی حکومتوں سے زیادہ اپنے بالا ادارے‘ فوج کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس حقیقت کے باوجود کہ رینجرز اپنے کام قانون کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومت کی ہدایات اور ان کی ماتحت ہو کر سر انجام دے رہی ہے‘ پھر بھی کبھی کبھار حکومت سے زیادہ پاک فوج کے ادارہ تعلقات عامہ رینجرز آپریشنز کی اہمیت کے بارے میں پریس ریلیز جاری کرتا ہے۔ ہم نے کراچی میں 1989ء سے رینجرز کو تعینات ہوتے دیکھا ہے۔ بلوچستان نوے فیصد حصے پر بھی نیم عسکری ادارے ہی پولیسنگ کر رہے ہیں۔ رینجرز کو اب پنجاب میں سرحدی اضلاع (اٹک‘ ڈی جی خان‘ راجن پور) اور لاہور میں بھی تعینات کیا گیا ہے۔ پولیسنگ کرنا ایک مقامی کام ہے۔ مؤثر پولیسنگ کا دارومدار مقامی سطح پر ملنے والی حمایت پر ہوتا ہے۔ نیم عسکری اداروں کے ذریعے پولیسنگ مقامی پولیس کی ناکامی یا مقامی پولیس یونٹس پر اعتماد کی کمی یا پھر دونوں کو ظاہر کرتی ہے۔ مزید مختصر کہیں تو‘ پولیس کی استعداد نہ بڑھانے اور لوگوں کا پولیس پر اعتماد بحال نہ کر پانے کی یہ صوبائی حکومتوں کی ناکامی ہے۔ ’پاکستان میں طرز حکمرانی کے معیار پر رائے عامہ دوہزارسولہ‘ کے عنوان سے پلڈاٹ کی ایک تحقیق کے مطابق خیبر پختونخوا کے 75فیصد تحقیق میں حصہ لینے والوں کو مختلف سطح پر پولیس اداروں پر اعتماد تھا۔ 51فیصد پنجاب میں اور صرف 29فیصد سندھ میں یہ صورتحال سامنے آئی۔ سندھ میں 77فیصد نے کہا کہ ہم پولیس پر ’قطعی طور پر اعتماد‘ نہیں کرتے۔

اپنے صوبے کے شہریوں کا اعتماد حاصل ہونے کے تناظر میں خیبر پختونخوا سب سے آگے ہے جبکہ پنجاب اب بھی سندھ سے کافی بہتر کارکردگی پیش کر رہا ہے۔ سندھ کے لوگوں کا اپنی پولیس فورس پر اعتماد کی کمی کافی واضح ہے اسی طرح پاکستان سوشل اینڈ لیونگ سٹینڈرڈز میئرمینٹ‘ سروے کے مطابق جہاں سال دوہزار بارہ اور دوہزار تیرہ میں خیبر پختونخوا میں پولیس سے مطمئن افراد کی شرح 55.43فیصد تھی‘ پنجاب میں 50فیصد تھی اور سندھ میں 38.13تھی‘ وہیں دوہزارچودہ اور پندرہ میں خیبر پختونخوا میں یہ شرح بڑھ کر 65 فیصد سے زیادہ ہو گئی جبکہ سندھ میں شرح گھٹ کر 35.14 فیصد اور پنجاب میں یہ شرح پچاس فیصد کے آس پاس رہی۔ دونوں تحقیقوں سے پتہ چلتا ہے کہ سندھ کے لوگوں کا اپنی پولیس پر بھروسہ خیبر پختونخوا یا پنجاب کے رہائشیوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے کراچی میں رینجرز کی قریب نہ ختم ہونے والی تعیناتی کے پیچھے ایک اہم وضاحت یہ بھی ہے پولیس کو مستحکم بنانا صوبوں کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہونی چاہئے جبکہ کراچی اور بلوچستان کی طرح نیم عسکری اداروں کی تعیناتی کی توسیع اور پنجاب میں حالیہ تعیناتی‘ سے صوبوں کو اپنے اپنے پولیس اداروں کی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے اسکے ساتھ انسداد دہشت گردی آپریشنز میں شفافیت اور غیر جانبداری کے الزامات کا مقابلہ کرنے اور اپنے اندر عوام کا اعتماد بہتر بنانے کے لئے پولیس کو خود مختاری کے ساتھ کام کرنے دینا بھی نہایت ضروری ہوگا۔ جرم اور شدت پسندی سے نمٹنے کے لئے پولیس کی صلاحیت بہتر کرنے کی خواہش اپنی جگہ اہم لیکن یہاں قول سے زیادہ فعل اہمیت رکھتا ہے۔ پورے پاکستان میں پولیس یونٹس کی تربیت اور آلات کو معیاری بنانا‘ تمام صوبائی سرحدوں پر مربوط اور سہولت کار آپریشنز اور پاکستان میں پولیس کی پیشہ وارانہ ترقی کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: افتخار احمد۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)