بریکنگ نیوز
Home / بزنس / سی پیک کی کامیابی کا انحصار سکیورٹی سے مشروط

سی پیک کی کامیابی کا انحصار سکیورٹی سے مشروط


بیجنگ ۔ چین نے کہا ہے کہ اقتصادی راہداری کی کامیابی کا انحصار اس میں شامل ممالک کی سکیورٹی ذمہ داری پر،ون روڑ ون بیلٹ کی سکیورٹی تمام ممالک کی مشرکہ ذمہ داری ہے، منصوبے کی کی سکیورٹی تعاون کے لیے ایک مربوط طریقہ کار کا قیام عمل میں لائیں،بیلٹ اینڈ روڈ سے تجارت ،سرمایہ کاری اور بنیادی تنصیبات کے شعبے میں تعاون کو فروغ ملا ۔ چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق۔سلک روڑ کی سکیورٹی پر ہونے والے سیمینار میں میں بات کرتے ہوئے چین کے داخلی سکیورٹی کے سربراہ منگ چیان چھو نے کہا ہے کہ ملک کے اقتصادی خوشحالی کے لیے اقتصادی راہداری یا سلک روڑ کے پرعزم اقدام کا انحصار اس منصوبے میں شامل ممالک کی جانب سے مضبوط سکیورٹی کو یقینی بنانے پر ہے اس منصوبے پر اس وقت ہی پیش رفت ہو سکتی ہے جب محفوظ اور مستحکم ماحول ہو گا۔

انہوں نے کہابڑھتا ہوا عالمی تعاون، خطرات اور چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹنا اور ون روڑ ون بیلٹ کی سکیورٹی تمام ممالک کی مشرکہ ذمہ داری ہے منگ نے شرکا پر زور دیا کہ اطلاعات کے تبادلے ، سلامتی اور قانون کے نفاذ کے شعبہ جات میں وسیع تعاون کے فروغ کے لیے مذاکرات سے استفادہ کریں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت تجارت ،سرمایہ کاری اور بنیادی تنصیبات کے شعبے میں تعاون کو فروغ ملا ہے، بیجنگ میں اس حوالے سے عالمی تعاون فورم کے انعقاد سے باہمی تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔مذاکرات میں شریک شرکا کی جانب سے دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے حوالے سے سلامتی کے شعبے میں تعاون کی مضبوطی کا عزم ظاہر کیا گیا۔۔اس موقع پر پبلک سکیورٹی کے وزیر ک شنگچن نے کہا کہ عوام کی سکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور بیرون ملک مفادات جیسے عوامل میں پہلے سے زیادہ عملی تعاون کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ تمام فریقین مشترکہ اور تعاون پر مبنی سکیورٹی کی سوچ کی سرپرستی کریں گی اور ون بیلٹ ون روڑ کے اقدام کی سکیورٹی تعاون کے لیے ایک مربوط طریقہ کار کا قیام عمل میں لائیں۔ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس اجلاس میں کون کون سے ممالک شریک ہوں گے تاہم وزارتِ کی ویب سائٹ پر دی گئی تصاویر میں پاکستان، روس، ویتنام، ترکی، سپین، سعودی عرب، بیلاروس کے جھنڈے نظر آ رہے ہیں۔ واضح رہے چین میں رواں ماہ 14 اور 15 کو ون روڑ ون بیلٹ کے نام سے اقتصادی راہداری کے منصوبوں پر 28 ممالک کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔اجلاس میں چینی صدر شی جنگ پنگ کے پسندیدہ مصنوبے کے تحت بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر اربوں ڈالر خرچ کر کے ایشیا، یورپ اور افریقہ کے درمیان تجارتی تعلقات کو وسعت دینے پر بات کی جائے گی۔