بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / باچاخان یونیورسٹی کو توہین عدالت کا نوٹس

باچاخان یونیورسٹی کو توہین عدالت کا نوٹس


پشاور۔پشاورہائی کورٹ کے جسٹس روح الامین اور جسٹس یونس تہیم پرمشتمل دورکنی بنچ نے عدالتی احکامات کے باوجود نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز کے طلباء کو امتحان کی اجازت نہ دینے پر باچاخان یونیورسٹی کے رجسٹرار ٗ ڈائریکٹر اکیڈمک اورکنٹرولرامتحانات کو توہین عدالت کانوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیاہے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے یہ احکامات گذشتہ روز نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز کے ڈاکٹرصادق رحمان خٹک کی جانب سے گوہررحمان خٹک اور اکبرخان ایڈوکیٹس کی وساطت سے دائرتوہین عدالت کی درخواست پر جاری کئے اس موقع پر عدالت کو بتایا گیاکہ درخواست گذار کے ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز کو باچاخان یونیورسٹی نے2013ء میں الحاق کی منظوری دی تھی تاہم2015ء میں ایک لیٹرجاری کیااورالحاق منسوخ کردیا گیا اوراس موقع پر پشاورہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائرکی گئی۔

اورعدالت عالیہ نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے باچاخان یونیورسٹی کے احکامات معطل کردئیے تھے تاہم ایک سال طلباء کوامتحان کی اجازت دینے کے بعد اگلے سال پھرطلباء کو اجازت نہیں دی گئی اوراس طرح باچاخان یونیورسٹی کے متعلقہ حکام توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں لہذاان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے فاضل بنچ نے ابتدائی دلائل کے بعد رجسٹرار ٗ ڈائریکٹراکیڈمک اور کنٹرولر امتحانات کونوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیا ہے ۔