بریکنگ نیوز
Home / کالم / سپریم کورٹ کی طرف سے حکم

سپریم کورٹ کی طرف سے حکم

یہ کہنا کہ ججزٹی وی یا دوسرے تبصروں سے متاثر نہیں ہوتے ہیں ہو سکتا ہے کہ ٹھیک ہو مگر انسان ہونے کے ناطے یہ ممکن نظر نہیں آتا اس لئے کہ یہ انسانی فطرت ہے کہ ہر وقت ایک بات سننے سے اس سے لازماً متاثرہوتا ہے اگر ایک انسان کو آپ بار بار ایک بات کہتے رہیں تو ایک وقت آئے گا کہ وہ بات ماننے پر تیار ہو جائے گا چاہے اس سے اسے نقصان ہی کیوں نہ ہو۔پچھلے کچھ عرصے سے سپریم کورٹ میں ہونیوالی بحث پرفریقین کی جانب سے عدالت کے باہر عدالت لگ جاتی تھی اور اس میں ایسے ایسے دلائل دیئے جاتے تھے جو کم از کم عدالت میں نہیں دیئے گئے ہوتے تھے۔وکلاء جو دلائل عدالت کے سامنے دیتے ہوئے بھول جاتے وہ باہر نکل کر میڈیا کے سامنے بیان کرتے اور اپنے کلائنٹس پر رعب ڈالنے کی کوشش کرتے کہ ہم نے فریق ثانی کو زچ کر دیا ہے یہ دلائل ٹی وی کے مختلف چینلوں سے مزید مرچ نمک کے ساتھ نشر ہوتے رہتے اور پھرہر ٹی وی چینل پر ایک میلہ لگتا اور ماہرین قسم کی چیزیں عدالت پر زور دیتیں کہ فیصلہ یوں ہونا چاہئے اور یہاں تک بھی ہوتا کہ فریقین کھل کر کہتے کہ اگر فیصلہ ہمارے خلاف آیا تو ہم اسے نہیں مانیں گے۔یہ مجلسیں ججز بھی سنتے تھے اس لئے کہ بعض دفعہ عدالت میں ججزکے ریمارکس ایسے ہوتے جیسے انہوں نے رات کا پروگرام پورے غور و خوض سے سناہے۔ٹی وی پر اور عدالت سے باہر کا یہ کلچر پچھلے کچھ عرصہ سے ہوا کہ جب سے ججز نے عدالت میں مقدمہ سنتے ہوئے ریمارکس دینے کہ عادت اپنا لی ہے۔

حالانکہ جج کو مقدمہ غور سے سننا چاہئے اور اس پر جو بھی کچھ کرنا ہو وہ اپنے فیصلے میں لکھے مگر یہ روش جو ججز نے اپنا لی ہے اس نے لوگوں کو حوصلہ دیا ہے کہ وہ عدالت سے باہر نکل کر اُن کے ریمارکس پر تبصرہ کریں۔پانامہ کیس پر تو یہ تبصرے بہت ہی کھل کر کئے جانے لگے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس مقدمے کے فیصلے میں ججز کا متفق نہ ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ججز عدالت کے باہر ہونیوالے تبصروں سے متاثر ہوتے ہیں اس میں ایک با ت جس سے ہم ابھی تک سوچ میں پڑے ہیں کہ فیصلہ دیتے وقت صرف نواز شریف کو نشانے پر رکھاگیا ہے حالانکہ پانامہ کیس میں ان کا نام پانامہ کی لسٹ میں تھا ہی نہیں اور یہ بھی پہلی مرتبہ سنا ہے کہ بیٹوں کا جرم باپ پر لاگو ہو گیا ہے۔

نواز شریف کا تو سنا ہے کہ سیاست میں آنے کے بعد تجارتی اداروں سے اپنا نام نکلوا ہی چکے ہیں مگر فیصلے میں بچوں پر تو کوئی بات نہیں ہوئی سارا ملبہ نواز شریف پر ہی ڈال دیا گیا ہے ہم یہ نہیں کہتے کہ نواز شریف صاحب کے ہاتھ بالکل صاف ہیں مگر اس مقدمے میں وہ اس طرح ملوث نہیں نظر آتے جیسا کہ کہا گیا ہے۔ اور دیکھا جائے تویہ سارا کچھ اس بحث و تمحیص کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے کہ جو ٹی وی اور عدالت کے باہر عدالت میں ہوتی رہی ہے۔اب جب فیصلے کے بعد فیصلے پر مختلف آرا آنی شروع ہوئی ہیں تو شاید عدالت کو عدالت سے باہر عدالت لگانے کا خیال آ ہی گیا ہے اسی لئے اب جو مقدمہ حنیف عباسی نے عمران خان اور جہانگیر ترین وغیرہ پر دائر کر رکھا ہے اس پر عدالت نے حکم دیا ہے کے عدالت کے باہر عدالت نہ لگائی جائے۔ یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا مگر چلیں دیر آید درست آید کے مصداق اب جو کہا گیا ہے اگر اس پر عمل کیا جائے تو بہت سے فیصلے صرف عدالت کی صوابدید پر آ سکتے ہیں اورجو بھی فیصلہ عدالت کی صوابدید پر آئیگا ہم سمجھتے ہیں کہ اُس میں وزن بھی ہو گا اورمیرے جیسے نالائق لوگ اس پر تبصرہ کرنے سے بھی گریز کریں گے ۔