بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / احتساب سب کاآخر کب ؟

احتساب سب کاآخر کب ؟

پانا مہ لیکس کی بنیاد پر مخصوص شخصیات کی مبینہ بد عنوانی سے متعلق سچ ، جھوٹ کے فیصلے تک پہنچنے کیلئے پچھلے ایک سال سے جو توانائیاں صرف کی جارہی ہیں اگر وہ توانائیاں ملک میں پارلیمنٹ کے اتفاق رائے کے حامل احتسابی نظام کی تشکیل کیلئے صرف کی جاتیں تو ملک کا زیادہ بھلا ہوتا،یہ ساری مشق ایک بار پھر اس امر کا عندیہ دے رہی ہے کہ سیاسی جماعتیں مخصوص اہداف کے حصول کی حد تک تو بدعنوانی کے خاتمے کا نعرہ بلندکرتی ہیں لیکن ملک میں ایک ایسے جامع نظامِ احتساب کی تشکیل جس پر پارلیمنٹ کی مہر تصدیق ثبت ہو سیاسی جماعتوں کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ سیاسی جماعتیں اتفاق رائے سے موثر احتسابی قوانین کی تشکیل اور پارلیمنٹ سے منظوری کیلئے ذمہ دار ہیں لیکن ان میں سے بیشتر کے طرز عمل سے تو یہی ظاہر ہے کہ بدعنوانی سے نجات اور بدعنوانوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے نظام وضع کرنے کے حوالے سے اتفاق رائے کی منزل سے دور دور ہی رہا جائے تاکہ جب بھی کوئی ادارہ موجودہ قوانین کے تحت احتساب کے معاملے میں پیش قدمی کرے ان جماعتوں کے پاس اعتراض و تنقید کی دیواریں کھڑی کر کے اس پیش قدمی کو روکنے کا موقع ہو اس استدلال کو یوں بھی تقویت ملتی ہے کہ سیاسی قائدین کی جانب سے کرپشن وحرام خوری کے خلاف دھواں دار تقاریر کی حد تک تو بڑھ چڑھ کر اپنے اپنے وجود کا احسا س دلایا جاتا ہے لیکن نہ تو بدعنوانی کے خاتمے کی غرض سے نظام وضع کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں اتفاق رائے کی حامل قانون سازی کی سنجیدہ کوشش کی جاتی ہے اور نہ ہی اس مسئلے پر آل پا رٹیز کانفرنس بلا کر سیاسی مفاہمت پیدا کرنے کی سعی،بلکہ انسداد بدعنوانی کیلئے موجود اداروں کو دباؤ میں رکھنے اور کمزور سے کمزور تر بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا۔

احتساب کرنے والے اداروں اور احتسا بی عمل پر اتنے سوال اٹھاناکہ ا نکا آگے بڑھنا دشوار ہو جائے چوروں اور لٹیروں کو انجام تک پہنچانے کی کوششوں کا وجود تنقید کے تیروں سے اس قدر چھلنی کر دیا جانا کہ یہ کوششیں منطقی انجام تک پہنچنے سے پہلے راستے ہی میں دم توڑ جائیں سیاسی وابستگیوں‘ پروپیگنڈے کی طاقت‘ قانونی سقم ‘انسانی حقوق اور دیگر عوامل کو بنیاد بنا کر احتسابی کاروائیوں کا نشانہ بننے والے ہر صاحب کی داد رسی کرنااور پھر اس تناظر میں احتساب کے عمل پر سیاسی انتقام و ذاتیات وغیرہ وغیرہ جیسے لیبل لگانا۔یہ سب کچھ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ہر مبینہ بدعنوان کیخلاف احتساب کا دائرہ تنگ ہونے پر سوال کھڑا کر دیا جاتا ہے کہ قومی دولت لوٹنے والے بہت سے دوسرے آزاد ہیں تو پھر اس کے خلاف کاروائی کیوں؟ اور پھر اس سوال کو بنیاد بنا کر سیاسی انتقام و ذاتیات وغیرہ وغیرہ جیسے الزامات عائد کرکے بلاامتیاز احتساب کا نعرہ بلند کر دیا جا تا ہے یعنی معاملات کو الجھانے کیلئے یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ اگر ایک سیاسی گروہ سے تعلق رکھنے والے مبینہ بدعنوان عناصر پر ہاتھ ڈالنا ہے تو پہلے دوسرے سیاسی گروپ سے تعلق رکھنے والے کرپٹ عناصر کو پکڑنا ہو گا اور دوسرے گروپ والوں سے قبل تیسری پارٹی سے وابستہ بدعنوانوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا اور چل سو چل با الفاظ دیگر اگر بدعنوانی میں ملوث سیاسی اکابرین پر احتساب کی تلوار چلانی ہے تو پہلے افسر شاہی کی صفوں میں سے قومی سرمائے کے چوروں کو دیوار سے لگانا ہو گااگربدعنوان بیورو کریٹس سے نمٹنا ہے تو پہلے مبینہ کرپٹ جرنیلوں کو احتساب کی لاٹھی سے ہانکنا ہوگا اور اگر جرنیلوں سے حساب کتاب کرنا ہے تو پہلے ججوں کی مبینہ بدعنوانیوں کا قصہ پاک کرنا ہوگا ۔

مختصراََ یہ کہ احتساب سے بچنے کا بہترین طریقہ یہی اختیار کیا گیا ہے کہ احتساب کے ذمہ دار اداروں کو مسلسل دباؤ اور تنقید کی زد میں رکھا جائے اور احتساب کے عمل کو سوال در سوال گنجلک بنایا جا تا رہے بظاہربلا امتیاز احتساب کی ضرورت سے انکار تو کوئی بھی نہیں کرتا لیکن یہ بھی تو دیکھا جائے کہ جو سیاسی قائدین اپنے چہیتوں کواحتساب سے بچانے کیلئے ’’احتساب سب کا ‘‘کے نعرے کو ڈھال بناتے ہیں انکی جانب سے اس نعرے سے ہم آہنگ احتسابی نظام لانے کی کوششیں کی ہی کب گئی ہیں۔ ما ضی کو چھوڑیں پچھلے پانچ سالہ دور حکومت میں ایک کے بعد ایک کرپشن سکینڈل تو سامنے آتا رہا احتساب سے متعلق اتفاق رائے پر مبنی قانون سازی کو کوشش سامنے نہیں آئی ۔ موجودہ جمہوری دور حکومت میں بھی احتسابی عمل پر سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کاوشوں کا فقدان بدستور محسوس کیا جا رہا ہے احتساب کے ذمہ دار اداروں پر تنقید کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا موجودہ احتسابی عمل میں خامیاں اور اصلاح کی گنجائش بھی موجود ہے تاہم معترضین سے بھی یہ پوچھا جا نا چاہئے کہ وہ اور انکی جماعتیں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنی سیاسی توانائیاں کوئی ایسا متفقہ نظام وضع کرنے کیلئے خرچ کیو ں نہیں کر رہیں جو موجودہ احتسابی نظام کی جگہ لے اور جس کے تحت ایسے اداروں کا قیام عمل میں آ سکے جو جب ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے کام کریں تو کسی کے پاس انگلی اٹھانے کی گنجائش نہ ہو؟۔