بریکنگ نیوز
Home / کالم / تاریخ کے جھروکے سے

تاریخ کے جھروکے سے


کیا ہٹلر افغانستا ن اور وزیرستان کو تختہ مشق بنا کر ہندوستان میں فرنگیوں کیلئے مشکلات پید ا کرنا چاہتا تھا ؟ کیا اس مقصد کیلئے افغانستان یا وزیرستان کے اندر اس نے 1930ء کے اواخر یا 1940ء کے اوائل سے اپنے عزائم کی تکمیل کیلئے کسی گماشتے یا ایجنٹ کو تلاش کرنے کی سعی کی تھی؟ فقیر آف ایپی سے جرمنیوں کے تعلقات کی نوعیت کیا تھی؟ یہ شامی پیر کون تھا کہ جس کو موجودہ خیبر پختونخوا اور سابق صوبہ سرحد کے گورنر سر جارج کننگھم نے اچھی خاصی موٹی رقم دی تھی ؟ کیا وہ ڈبل ایجنٹ تھا؟ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے اس خطے کے ماضی پرریسرچ کرنیوالے کئی پوشیدہ حقائق کو اپنی تحریروں میں منظر عام پر لا رہے ہیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ 17 فروری 1941ء کو ہٹلر نے جرمنی کی ہائی کمانڈ آپریشن سٹاف کو ایک حکم نامہ جاری کیاکہ وہ ہندوستان پر براستہ افغانستان حملے کی تیاری کرے مورخ اب اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ اگر 1941ء کے بہار کے موسم میں ہٹلر نے اپنی توجہ بحیرہ روم اور مشرق وسطیٰ پر مرکوز کی ہوتی بجائے روس پر حملے کرنے کے توعین ممکن تھا کہ وہ ہندوستان سے فرنگیوں کوبیدخل کرنے میں کامیاب ہو جاتا برطانیہ کے نامور لیڈر سرونسٹن چرچل نے اپنی یاداشتوں میں مانا ہے کہ جرمنی ‘ شام ‘ عراق اور ایران میں فرنگیوں کے مفادات کو زک پہنچانے کی پوزیشن میں ضرور تھا ہٹلر ایک لا ابالی قسم کا انسان تھا کبھی نرم تو کبھی گرم‘ کسی دور میں اس نے روس سے پیار کی پینگیں بڑھائی تھیں اور پھر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ وہ کہا کرتا کہ اگر پچاس ہزار سفید چمڑی والے فرنگی400 ملین ہندوستانیوں پر راج کر سکتے ہیں تو جرمنی روس پر حکومت کیوں نہیں کر سکتا ؟ایک مرتبہ ہٹلر نے برطانوی رہنما لارڈ ھیلی نیکس کو یہاں تک کہہ دیاتھا کہ گاندھی جی کا علاج یہ ہے کہ تم اسے شوٹ کردو اور اس کیساتھ ہی ایک درجن کے قریب کانگریس پارٹی کے رہنماؤں کو بھی قتل کر دو اس لمبے جملہ معترضہ کے بعد اب ہم آتے ہیں افغانستان میں جرمنیوں کی موجودگی کی طرف‘ 1938 میں122 جرمن بمعہ اپنے بال بچوں کے کابل میں تعینات تھے۔

جبکہ ان کے مقابلے میں دیگر یورپی ممالک کے سفارت کاروں کی تعداد کا یہ عالم تھا کہ اٹلی کے صرف گیارہ اور برطانیہ کے صرف4 کارندے وہاں اپنے اپنے سفارت خانوں میں کام کرتے تھے افغانستان میں سڑکوں کی تعمیر کا کام جرمنی کے حوالے تھا جرمنی کی مشہور زمانہ ائیر لائن لفتانسہ برلن اور کابل کے درمیان ہفتہ وار ایک فلائٹ چلاکرتی جرمنیوں نے ہندوکش میں محکمہ موسمیات کا سٹیشن بنایا اور کئی افغان شہروں کا دورہ کیا مناسب جگہوں پر ہوائی اڈے بنانے کی جگہ تلاش کرنے کیلئے1936ء میں افغانیوں نے جرمنی سے 500 ریڈیو سیٹس منگوائے1939ء میں جرمنی کی مشہورالیکٹریکل کمپنی سیمنس نے کابل میں ایک ریڈیو سٹیشن تعمیر کیا یہ وہ دور تھا کہ جب تاریخ کی کتابوں کے مطابق کابل میں تعینات جرمنی کی سفارتکاروں کا وزیرستان میں فقیر آف ایپی سے بھی رابطہ قائم ہوتا ہے کہ جو اس وقت فرنگیوں کیخلاف گوریلا جنگ کر رہے تھے ایک ایسا وقت بھی تھا کہ چالیس ہزار فرنگیوں اور ہندوستانیوں کی فوج فقیر آف ایپی کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی تھی اس دور میں وزیرستان میں ایک شخص نمودار ہوتا ہے کہ جسے شامی پیر کہا جاتا ہے شامی پیر اس لئے اسے کہا گیا کہ اس کا تعلق شام سے تھا بعض مورخوں کا خیال ہے کہ شامی پیر جرمنی کا کارندہ تھا اس نے جرمنی میں تعلیم حاصل کی تھی اور ایک جرمن خاتون سے شادی کی تھی شامی پیر کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے بادشاہ امان اللہ خان کی اہلیہ ثریا کا کزن بھی تھا ۔

فرنگیوں کا خیال تھا کہ اس کا رابطہ روم میں افغانستان کے معزول بادشاہ امان للہ خان کیساتھ ہوا تھا کہا جاتا ہے کہ بظاہر تو وہ بطور مذہبی رہنما وزیرستان میں چندہ وغیرہ جمع کرنے آیا تھا کہ جو اس خطے میں مریدین اکثر دیا کرتے ہیں وزیرستان میں اپنے دورے کے دوران اس نے مسعود اور وزیرستان قبائل کے درمیان کئی اندرونی قبائلی تنازعات بھی حل کروائے شامی پیر نے جون 1938 میں یہ بیان دیکر کافی لوگوں کو حیران کر دیا کہ افغانستان کا بادشاہ ظاہر ایک غاصب ہے اور یہ کہ امان اللہ خان ہی افغانستان کا اصل بادشاہ ہے اس نے مسعود قبائل کا ایک لشکر بھی تیار کر لیا کہ وہ کابل جا کر ظاہر شاہ کی حکومت کو ختم کرے‘ حیرت کی بات یہ تھی کہ دس برس قبل مسعود قبائل نے ہی امان اللہ خان کو مغرول کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا تاریخ کی کتابوں سے پتا چلتا ہے کہ فرنگی اس وقت غالباً یہ نہیں چاہتے تھے کہ امان اللہ خان واپس کابل کاتخت سنبھالے چنانچہ انہوں نے شامی پیر کو شام واپس جانے پر مجبور کر دیا شامی پیر کے لشکر کو ختم کرنے کیلئے فرنگیوں نے گاجر اور ڈنڈے دونوں کا استعمال کیا ایک طرف تو اس پربمباری کی گئی تودوسری طرف شامی پیر کو 50 ہزار پاؤنڈز بھی دیئے گئے فقیر آف ایپی نے شامی پیر کے ساتھ کبھی بھی تعلقات قائم نہ کئے یہ بات بھی وثوق کیساتھ نہیں کہی جا سکتی کہ شامی پیر کس کا ایجنٹ تھا ؟ جرمنی کا یا فرنگیوں کا ؟ کیا وہ ڈبل ایجنٹ تو نہ تھا؟ اس پر بحث پھر کبھی!