بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / میں خواہ مخواہ

میں خواہ مخواہ

سلمیٰ اور سلیم اپنے ناموں کی طرح ایک مناسب جوڑا تھا پچھلے سال انکی شادی ہوئی تھی اور اس سال اللہ نے ان کو ایک بیٹے سے نوازا انہوں نے اسکا نام امجد رکھا جب وہ دونوں اپنے بچے کیساتھ میرے کلینک میں داخل ہوئے تو امجد ایک ماہ کا ہوچکا تھا۔ فکرمندی دونوں میاں بیوی کے چہرے سے عیاں تھی۔ وجہ یہ تھی کہ امجد کی پیشاب کی نالی میں پیدائشی نقص تھا میں نے تعارف کے بعد امجد کا معائنہ کیا اور اسکا پیدائشی نقص دیکھا جسے میڈیکل زبان میں ہائپو سپیڈیاس کہتے ہیں‘ میں نے حسب معمول والدین کو اس نقص کے بارے میں بتایا کہ ایک سو پچاس لڑکوں کی پیدائش پر ایک لڑکے میں یہ نقص پیدائشی ہوتا ہے جسکی وجہ سے پیشاب کی دھار نیچے سے نکلتی ہے اور لڑکا کھڑے ہوکر تو بالکل پیشاب نہیں کرسکتا۔میں نے انکو تسلی دی کہ اگرچہ یہ پیچیدہ آپریشن ہے لیکن بچہ بالکل ٹھیک ہوجاتا ہے۔ خدا کے فضل سے ہمارہ ادارہ اس مخصوص آپریشن میں شہرت رکھتا ہے۔ اسکے علاوہ میں نے دو معاشرتی رویوں کے بارے میں بات چیت کی۔ سب سے پہلے تو یہ کہ اس نقص کی وجہ ماں کی کوئی حرکت یا صحت بالکل نہیں اور یہ میں نے اس لئے کہا کہ بچوں کے پیدائشی نقائص کا ذمہ دار ہمیشہ ماں کو ٹھہرایا جاتا ہے‘ اچھے خاصے تعلیم یافتہ خاندانوں میں بھی ماں منہ چھپائے پھرتی ہے کوئی خالہ یا پھوپھی الزام لگاتی ہے کہ حمل کے دوران چاند گرہن یا سورج گرہن کے وقت چھری ہاتھ میں لی ہوگی یا اسی قسم کا کوئی بھونڈا الزام بے چاری ماں پر چسپاں ہوجاتا ہے۔

میں نے واضح کیا کہ اب تلک اسکی کوئی مستند وجہ تو معلوم نہیں ہوسکی البتہ پچھلے پچاس سال میں یہ نقص تین گنا بڑھ چکا ہے اور ماہرین کا خیال یہ ہے کہ اسکی وجہ فصلوں پرکیڑے مار ادویہ کا چھڑکاؤ ہے۔ یہ سن کر سلمیٰ نے ایک گہری سانس لی اور سلیم کی طرف دیکھا۔ میں سمجھ گیا کہ ان کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوچکا ہے۔دوسری اہم ہدایت میں نے سلمیٰ کو یہ دی کہ امجد کے پیمپرتنہائی میں بدلیں تاکہ خاندان کی دوسری خواتین خواہ مخواہ بات کا بتنگڑ نہ بنائیں۔ یہ ایک معمولی نقص ہے جو آپریشن سے ٹھیک ہوجائیگا لیکن ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ لوگ ہمیشہ دوسرے کے بارے میں نہ صرف ہر وقت تجسس میں مبتلا رہتے ہیں بلکہ سنی سنائی کہانیوں سے اچھے خاصے گھرانے کی زندگی عذاب میں مبتلا کردیتے ہیں اسی لئے میں نے سلمیٰ کو سمجھایا کہ یہ اس لئے ضروری ہے کہ جب امجد جوان ہوگا اور اسکے رشتے کی تلاش شروع ہوگی تو کوئی نہ کوئی پھوپھی خالہ نکل آئیگی اور انگلی ناک پر رکھ کر کہے گی امجد تو شادی کے قابل ہی نہیں یہ میرے تجربے میں آیا ہے کئی بار والدین ایسے بچوں کیلئے باقاعدہ مجھ سے سرٹیفیکیٹ لے کر گئے ہیں کہ لڑکے میں کوئی نقص نہیں ہے۔ دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانا ہمارا قومی مشغلہ ہے۔ خواہ سڑک پر کوئی ایکسیڈنٹ ہوجائے یا ویسے دو لوگ آپس میں بلند آواز سے بحث کریں فوراً ارد گرد سے لوگ دوڑ پڑیں گے اور اپنی اپنی رائے سے نوازنا شروع کردیں گے۔مجھے بسا اوقات ہنسی آتی ہے کہ اگر آپ گاڑی ریورس میں ڈالیں گے تو کہیں نہ کہیں سے کوئی اللہ کا بندہ نمودار ہوجائے گا جو آپ کو اپنے ایکسپرٹ اشاروں سے مدد پیش کرے گا۔ ہاں اس دوران آپ کی گاڑی کہیں لگ جائے تو وہ شخص غائب ہوجائے گا۔

ڈاکٹر کی حیثیت سے ہمارا کافی وقت مریضوں کے ان فضول سوالوں کے جوابات دینے میں ضائع ہوتا ہے کہ فلاں نے تو یہ کہا تھا اور فلاں نے یہ علاج تجویز کیا تھا جب ہم پوچھتے ہیں کہ کیا وہ ڈاکٹر ہیں تو جواب میں منہ تکنے لگ جاتے ہیں کہ ’جی نہیں ان کی تو پنساری کی دکان ہے ‘ یا’وہ تو فلاں دفتر میں کلرک ہے‘ اسی وجہ سے اچھے بھلے تعلیم یافتہ گھرانے ’زبیدہ آپا ‘ کے ٹوٹکوں پر زیادہ یقین کرتے ہیں اور متعلقہ ڈاکٹر تک رسائی بعد میں کرتے ہیں۔اکثر جھلسے ہوئے مریض میرے پاس آنے سے قبل زخموں پر ٹوتھ پیسٹ یا کسی غیر میڈیکل شخص سے سپرے کرواکر آتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ صرف علاج میں دیر ہوجاتی ہے بلکہ جھلسنے کے نشان بھی زیادہ بدنما رہ جاتے ہیں۔
اس وقت ہماری قوم ہر لحاظ سے پسماندہ اور مختلف الخیال گروہوں میں منقسم ہے ایسے میں کسی دوسرے کے بارے میں معمولی سی رائے بھی خون خوار نتائج پر اختتام ہوسکتی ہے۔ مذہب کی بے حرمتی کے الزامات اکثر بدگمانی، غلط فہمی اور دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ جب تلک ملزم اپنی صفائی پیش کرتا ہے اس وقت تک یا تو اسکی اچھی خاصی دھلائی ہوچکی ہوتی ہے اور یا وہ جان سے جاچکا ہوتا ہے۔ فرقہ پرستی کی لعنت کے شکار اس قوم کیلئے کوئی بھی بات آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ہوسکتی ہے اکثر ان فرقوں کے آپس کے تنازعات سنی سنائی باتوں پر مبنی ہوتے ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کہ کسی رہنما کی تقریر یا تحریر کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے اور یوں دوسروں کو موقع مل جاتاہے اور پھر دشنام طرازی کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جس میں نہ عقل کو دخل دینے کی اجازت ہوتی ہے اور نہ جذبات کو قابو کیا جاسکتا ہے۔ دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانا ویسے تو ہمارے قومی شعائر میں سے ہے لیکن جہاں خواتین کا معاملہ آجاتا ہے وہاں یہ کچھ زیادہ ہی تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔ خواتین تو ہر وقت سولی پر لٹکی ہوتی ہیں اور ہر کسی کی خوردبین کے نیچے دیکھی جاتی ہیں ان کو نہ صرف اپنے گھر اور خاندان کی نگاہوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے بلکہ محلے‘ ہمسایوں‘ اپنے پرایوں کی گھورتی نگاہوں کو جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ میرے کئی دوست جو گریجویشن کے بعد ملک سے باہر گئے اور وہیں کے ہورہے انکے نہ آنے کی زیادہ تر وجوہات انکی بیگمات ہیں جو مہذب ممالک کی اقدار سے واقف ہونے کے بعد مشکل سے وطن واپس آنے پر تیار ہوتی ہیں ۔

ہم پاکستانیوں کو ملک سے باہر جاکر سب سے بڑی حیرت یہی ہوتی ہے کہ مہذب ملکوں میں لوگوں کی پرائیویسی کا خیال رکھا جاتا ہے اور کسی کے ذاتی معاملات میں مداخلت گنوار پنے کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ وہاں تو گھر میں بھی ہر شخص کو اپنی ذاتی زندگی میں کسی کی مداخلت ناگوار گزرتی ہے خاندان کے ہر فرد کا پرسنل ٹائم اور پرسنل سپیس ہوتا ہے۔ سکول سے لے کر یونیورسٹی تک لوگوں کو اس اصول کا ادراک دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا مہذب ممالک میں تو تعلقات کی بہتری اور میل ملاپ کا ذریعہ ہوتا ہے جبکہ ہمارے ہاں اسے دشنام طرازی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ کوئی آپ کی پرسنل سپیس اور ٹائم میں مداخلت نہ کرے تو سب سے پہلے آپ کو دوسروں کے بارے میں تجسس سے گریز کرنا ہوگا کسی کی کوئی کمزوری نظر بھی آجائے تو اسے چھپانا ثواب کا کام ہے اگر کسی کی اصلاح کرنی ہو تو اکیلے میں اس سے بات کی جاسکتی ہے لیکن سرعام دوسروں کے بارے اپنے مشورے اور نظریات پھیلانا خرابی ہی لاتا ہے جس سے خود بھی کوئی محفوظ نہیں رہ پاتا۔