Home / کالم / خودکشی کا پاکستانی سٹائل

خودکشی کا پاکستانی سٹائل

دنیامیں خودکشی کا سب سے بڑا تاریخی اور جذباتی ارمان اہل جاپان کی جبلت میں شامل ہے … آخر خودکشی میں کونسا ایسا ارمان ہے کہ جاپان کا سب سے مقبول اور خوبرو ناول نگار یوکیو شیما اپنے پیٹ میں خنجر گھونپ کر اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالتا ہے…میں نے شیما کے بیشتر ناول پڑھ رکھے ہیں کہ اسکے ناولوں کی فضا‘ جاپانی روایت کے استعارے اور تشبیہات مجھ پر جادو کر دیتے تھے…اس کے ناولوں میں خودکشی کی کشش صاف محسوس ہوتی تھی…وہ اپنے آپ کو مار ڈالنے کے خواب دیکھتا تھا…اپنے ایک ناول میں وہ خود کشی کی توصیف میں کہتا ہے کہ اگر ایک لاغر اور بیمار شخص زندگی کے ہاتھوں لاچار شخص خودکشی کرتا ہے تو یہ خودکشی کی توہین ہے ہاں اگر ایک نوجوان متناسب بدن کا زندگی میں کامیاب اور خوش وخرم شخص خودکشی کرتا ہے تو یہ ایک اعلیٰ و ارفع کارنامہ ہے‘ جیسے ایک بوسیدہ جھونپڑے کو ڈھادینا تو کوئی بات نہیں‘ حسن کی کاملیت میں ڈوبے ہوئے ایک تاج محل کو مسمار کیا جائے تو یہ فعل ستائش کے قابل ہے…یوکیو شیما نے پہلے اپنے بدن کومتناسب اور خوبصورت بنایا اورپھر ایک صبح اپنے چند جانثاروں کے ہمراہ جاپانی فوج کے ایک ہیڈ کوارٹر پر قبضہ کر کے اسکے اندر محصور ہوگیا‘ پورے جاپان میں کھلبلی مچ گئی‘ ہر اخبار کی شہ سرخی‘ ہر ٹیلی ویژن چینل کی ہیڈ لائن یوکیو شیما تھا…جاپان کے سرکردہ لیڈروں اور عوام کی منت سماجت کے باوجود اس نے ہیڈکوارٹر کو خالی کرنے سے انکار کر دیا…اس کا کہناتھا کہ میں صرف ایک لاش کی صورت میں باہر آؤں گا۔کئی روز کے محاصرے کے بعد مجبوراً جاپانی فوج کے کمانڈو دستے عمارت میں داخل ہوگئے … دونوں جانب سے ہلاکتیں ہوئیں‘ اسکے سبھی جانثار مارے گئے‘ جب آخری مقفل دروازہ توڑ کر جاپانی فوج کے کچھ افسر ایک کمرے میں داخل ہوئے تو فرش پر ایک چٹائی پر براجمان یوکیو شیما تھا…اپنے خوبصورت بدن کو عیاں کرتے‘ ہاتھ میں خنجر جس کی نوک اس کی ناف پر ثبت تھی وہ فوجیوں کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر مسکرایا اور خنجرکو پیٹ میں گھونپ کر الٹے ہاتھ سے دل تک لے گیا…جاپان میں کئی روز تک اس کا سوگ منایا گیا اور اس کی موت پر رشک کیاگیا۔خودکشی کی وارداتوں کے حوالے سے دنیا بھر میں سویڈن دوسرے نمبر پر ہے…

یہاں خود کشی کرنے والے کسی تاریخی روایت یا کسی ثقافتی جبلت کی بناء پر اپنے آپ کو ہلاک نہیں کرتے بلکہ موسم سرما کی شدت سے لاچار ہو کر یاشراب کی علت سے تنگ آکر خودکشی کرتے ہیں…عجیب موسم ہیں گرمیوں میں سورج غروب ہونے کا نام نہیں لیتا اور سردیوں میں طلوع ہونے سے گریز کرتا ہے‘ جب میں پہلی بار ہیچ بائک کرتا سٹاک ہوم پہنچا تو شاہراہیں اورعمارتیں دھوپ سے روشن تھیں مگر یوں ویران تھیں جیسے یہ شہر کسی ایٹمی حملے کی خبر پا کر خالی کر دیاگیا ہے میں نے ایک پولیس سٹیشن سے اپنے دیرینہ دوست ریاض چیمہ کو فون کیا تو اسکی آواز ایک افیونی کی طرح اونگھ میں تھی…اگرچہ اس نے میری آمد پر مناسب مسرت کا اظہار کیا لیکن قدرے اونگھتے ہوئے…میں نے سبب پوچھا تو کہنے لگا…یار میں سو رہا تھا…ذرا وقت دیکھو…رات کے دو بج رہے ہیں اور باہر دھوپ اتری ہوئی تھی۔اور جب موسم سرما کا نزول ہوتا ہے تو صبح گیارہ بجے تک گھپ اندھیرا ہوتاہے‘ پھر کچھ نیم روشنی سی ہوتی ہے اور دوبجے کے قریب پھرتاریکی چھا جاتی ہے اور تب برف کا عذاب نازل ہونے لگتا ہے‘ لوگ نیم تاریکی میں بھٹکتے ہوتے ہیں‘ دفتروں اور کاروباروں پر جاتے ہیں‘ محبت کرتے ہیں‘ نفرت کرتے ہیں‘ بچے پیدا کرتے ہیں لیکن ایک برفانی عذاب کی نیم تاریکی میں مسلسل کئی ماہ تک…چنانچہ ذہنی‘ جسمانی اور نفسیاتی طورپر ڈھے جاتے ہیں‘ خودکشی کرلیتے ہیں۔ہم کیسے خوش نصیب ہیں کہ نہ تو ہماری ثقافتی روایت میں خودکشی شامل ہے بلکہ اسے ایک گناہ قرار دیاگیا ہے اور نہ ہی ہمارے موسم اتنے بے رحم اور شدید ہیں کہ ہم اپنی جان پر کھیل جائیں اور اسکے باوجود پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی قومی اخباروں سے مرتب شدہ ایک رپورٹ میں درج ہے کہ 26مارچ سے 26 اپریل تک کے ایک ماہ کے دوران ملک بھر میں دو سو اکتالیس افراد نے خودکشی کرلی‘ ان میں اکیاسی خواتین بھی شامل تھیں‘ ویسے اسی کے قریب افراد بروقت طبی امداد مہیا ہونے پر بچ گئے۔

اعداد و شمار کے مطابق ان دو سو اکتالیس افراد میں سے ایک سو اٹھائیس لوگوں نے گھریلو جھگڑوں اور مسائل سے تنگ آکر اور اٹھائیس نے غربت سے نجات حاصل کرنے کے لئے اپنے آپ کو مار ڈالا‘ خود کشی کے ان واقعات میں پچانوے نے زہر کھا کر‘ چوالیس نے اپنے آپ کو گولی مار کر اور پچاس نے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کی۔ کیا ان افراد میں صدر کا کوئی دور پار کا عزیز‘ وزیر اعظم کا کوئی غریب رشتہ دار‘ زرداری قبیلے کا کوئی فرد‘ چوہدری شجاعت کا کوئی جاٹ بھائی‘ عوامی نیشنل پارٹی کا کوئی سرخ ٹوپی پہننے والا یا جماعت اسلامی کا کوئی رکن شامل تھا؟ کیا بات کرتے ہو صاحب…کیا احمقانہ خیال رکھتے ہو جناب عالی… جیسے کسی جنگ میں کسی جہاد میں ان حضرات کا کوئی عزیز کام نہیں آتا کہ اسکو ملک کیلئے جان دینے یا شہادت کا مرتبہ پانے کے علاوہ بھی بہت سے ضروری کام ہوتے ہیں…یہ جان دینے یا خودکشی کرنے کی ڈیوٹی صرف عوام الناس کو سونپی گئی ہے۔ اس پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ میں البتہ ایک بہت بڑی خامی ہے…شاید جان بوجھ کر غفلت برتی گئی ہے اس میں ان درجنوں نوخیز خودکش بمباروں کو شامل نہیں کیا گیا جو اپنے تئیں عقیدے کی سربلندی اور جنت میں داخل ہونے کیلئے جان نچھاور کر دیتے ہیں…یہ صریحاً زیادتی ہے…عام لوگ تو محض گھریلو حالات‘ معاشی مجبوریوں اور غربت سے تنگ آکر خودکشی کرتے ہیں جب کہ یہ حضرات ایک اعلیٰ اور ارفع مقصد کیلئے جان دیتے ہیں اور ہاں یونہی خیال آیا کہ اس رپورٹ میں پاکستانی قوم کو کیوں شامل نہیں کیا گیا ہم بھی تو…کرپشن‘ بے ایمانی‘ عدلیہ کے فیصلوں سے روگردانی اورعقیدے کی متعصب تنگ نظری کے خنجروں سے ایک اجتماعی خودکشی کی کوشش میں مشغول ہیں‘ پلیز ہمیں یہ اجتماعی خودکشی کرلینے دیجئے۔