بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / افغانستان میں داعش سربراہ کی ہلاکت کی تصدیق

افغانستان میں داعش سربراہ کی ہلاکت کی تصدیق

کابل/واشنگٹن ۔افغان صدرڈاکٹر اشرف غنی اور امریکی فوج نے ننگرہار میں فوجی کاروائی کے دورا ن افغانستان میں داعش کے سربراہ عبد الحسیب کی ہلاکت کی تصدیق کردی ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے

کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے افغانستان میں سربراہ عبد الحسیب ہلاک ہو گئے ہیں۔امریکی فوجی ترجمان کے مطابق 26 اپریل کو پاکستان سے ملحقہ افغان صوبے ننگر ہار کے ضلع اچین میں غاروں اور سرنگوں پر مشتمل داعش کے کمپلیکس کے خلاف افغان اور امریکی فورسز کی جانب سے کارروائی کی گئی، جس میں داعش کے 35 جنگجو مارے گئے جن میں داعش خراسان کا سربراہ شیخ عبدالحسیب بھی شامل ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے سربراہ کی ہلاکت 10 روز قبل افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں ہونے والے سپیشل فورسز کے ایک آپریشن کے دوران ہوئی۔اس دہشتگرد تنظیم کے پہلے امیر حافظ سعید تھے، جن کی ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد عبدالحسیب کو نیا امیر مقرر کیا گیا تھا۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مارچ میں کابل کے ملٹری ہسپتال میں ہونے والے حملے کے پیچھے دولتِ اسلامیہ کے سربراہ ہی تھے۔گذشتہ ماہ پینٹاگون سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ممکنہ طور پر عبد الحسیب کی ہلاکت امریکی اور افغان سپیشل فورسز کے حملے میں ہو چکی ہے۔اپریل میں امریکی فوج نے ننگرہار میں ہی ایک محلے میں دنیا کا سب سے بڑا غیر جوہری بم استعمال کیا تھا۔

دولتِ اسلامیہ نے 2015 میں خراسان صوبے کی تنظیمی شاخ کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ تنظیم افغانستان اور پاکستان میں منتقل ہو رہی ہے۔ تب سے لے کر اب تک اس تنظیم نے متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔جن حملوں کی ذمہ داری دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے ان میں ایک جولائی سنہ 2016 میں کابل میں ہوا جس میں 80 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے تین ماہ بعد اسی طرح کے دو مزید حملے ہوئے۔ 2016 میں عاشورہ کے موقع پر ہونے والے حملے میں 30 جبکہ نومبر 2016 میں کابل کی ایک مسجد پر حملے میں 30 افراد ہلاک ہوئے۔