بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / فرضی باتوں پر کسی کو نااہل نہیں کرسکتے‘سپریم کورٹ

فرضی باتوں پر کسی کو نااہل نہیں کرسکتے‘سپریم کورٹ


اسلام آباد۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف آف شور کمپنیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ فرضی باتوں پر کسی کو نااہل نہیں کرسکتے‘ ٹھوس شواوہد کے بغیر کیسے کہہ سکتے ہیں کوئی صادق و امین نہیں‘ کیا ماضی کے اقدام پر کہہ سکتے ہیں صادق و امین نہیں‘ کیا اثاثے ظاہر نہ کرنے سے نااہلی کا سوال پیدا ہوگا ہے؟

اثاثے ظاہر نہ کرنے کے نتائج قانون میں درج ہیں‘ آپ انکم اور ویلتھ ٹیکس قوانین کو مکس کررہے ہیں‘ گوشواروں میں اثاثوں کو ظاہر نہ کرنے کے نتائج کیا ہوں گے‘ نعیم بخاری صاحب آپ کو آف شور کمپنی کی تفصیلات دینا ہوں گی آف شور کمپنی کیسے بنتی ہے اور اس کا مالک کون ہوتا ہے؟ پیر کو سپریم کورٹ میں عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف آف شور کمپنیوں سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

درخواست گزار حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پالکی والا کیس اور دولت ٹیکس ایکٹ 1963 پڑھا ہے۔ 2000 تک ٹیکس نیازی سروسز پر لاگو ہوتا تھا نیازی سروسز کا اثاثہ لندن فلیٹس 2003 میں فرخت ہوا۔ نیازی سروس لمیٹڈ کو کبھی ظاہر ہی نہیں کیا گیا تھا۔ عمران خان نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت لندن فلیٹ کو ظاہر کیا۔ فلیٹ کبھی بھی عمران خان کی ملکیت نہیں رہا۔ لندن فلیٹ نیازی سروس لمیٹڈ کی ملکیت رہا۔ عمران خان نے جان بوجھ کر اثاثے چھپائے۔ غلط بیانی کے بعد عمران خان صادق و امین نہیں رہے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ کیا صرف کمپنی یا اس میں شیئر ہونا بھی اثاثہ ہے؟ اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان نے 20ملین کا کالا دھن ٹیکس ایمنسٹی میں سفید کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا نقطہ یہ ہے ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں آف شور کمپنی ظاہر نہیں کی۔ گوشواروں میں اثاثوں کو ظاہر نہ کرنے کے نتائج کیا ہوں گے؟ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ آپ کا کیس کیپٹل اثاثوں سے متعلق ہے۔ غیر ملکی اثاثوں کو ظاہرکرنا کس قانون کے تحت ضروری ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا اثاثے ظاہر نہ کرنے سے نااہلی کا سوال پیدا ہوتا ہے؟ اثاثے ظاہر نہ کرنے کے نتائج قانون میں درج ہیں۔

اکرم شیخ نے کہا کہ جان بوجھ کر اثاثے ظاہر نہ کرنا غلط بیانی کے زمرے میں آتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ انکم اور ویلتھ ٹیکس قوانین کو مکس کررہے ہیں۔ اکرم شیخ نے کہا کہ ریکارڈ تک ہماری پہنچ نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ماضی کے اقدام پر کہہ سکتے ہیں صادق و امین نہیں ۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ آپ نے عمران خان کے ٹیکس گوشوارے تو دیکھے ہی نہیں آپ خود تسلیم کررہے ہیں کہ آپ کے پاس ریکارڈ نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ریکارڈ تک رسائی کے لئے درخواست دیں۔ آپ کے دلائل سن کر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کریں گے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ عمران خان کے جواب میں فلیٹ کی قیمت درج ہے۔

اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان فلیٹ کے مالک نہیں فلیٹ آف شور کمپنی کا ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ آپ تکنیکی بنیادوں پر کھیل رہے ہیں عمران خان نے جائیداد چھپائی نہیں۔ اکرم شیخ نے کہا کہ جمائمہ خان کی طرف سے رقم منتقلی ثابت نہیں ہوتی رقم منتقلی کا ثبوت دینا عمران خان کی ذمہ دار ہے۔

اکرم شیخ نے کہا کہ یہ کیس اس شخص کا ہے جو خود کو آئندہ کا وزیراعظم کہتا ہے۔ عمران خان کوئی عام آدمی نہیں جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ آپ کے مطابق کوئی منی ٹریل نہیں عمران خان نے آف شور کمپنی نہیں فلیٹ کو ظاہر کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نعیم بخاری صاحب آپ کو آف شور کمپنی کی تفصیلات دینا ہوں گی۔ آف شور کمپنی کیسے بنی اوراس کا مالک کون ہوتا ہے؟ عام آدمی کو ٹیکس قانون کا علم نہیں ہوتا۔ فرضی باتوں پر کسی کو نااہل نہیں کرسکتے ٹھوس شواہد کے بغیر کیسے کہہ سکتے ہیں کوئی صادق و امین نہیں۔ سماعت منگل تک ملتوی کردی گئی۔