بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / کام چورملازمین معاشرے اور سسٹم پر بوجھ

کام چورملازمین معاشرے اور سسٹم پر بوجھ


وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویزخٹک نے کہا ہے کہ صوبے میں پولی تھین بیگ پر پابندی کیلئے قانون سازی ہو چکی ہے اور عمل درآمد کیلئے دو مہینے کا ٹائم فریم دیا گیاہے ۔ا نہوں نے خبردار کیا ہے کہ صوبے بھر میں مقامی سطح پر صفائی اورآبنوشی سمیت تمام میونسپل سروسز کو آؤٹ سورس کیا جائے ورنہ ایکشن ہو گا ۔تمام محکمے میونسپل سروسز کیلئے ایک جامع پلان وضع کریں۔ نامکمل پلان کے لئے حکومت وسائل نہیں دے گی۔ باتوں کی بجائے کام اورنتیجہ خیز عمل قابل قبول ہو گا ۔

ہم نے عوام کو سو فیصد نتائج دینے ہیں۔ فنڈز کا ضیاع برداشت ہو گا اور نہ ہی عوام کے اعتماد میں کمی آنے دی جائے گی ۔ پانی کے زنگ آلود پائپ 70 فیصد تک تبدیل کئے جا چکے ہیں جو سو فیصد تک مکمل ہونا چاہئیں۔ ماضی کی لاپرواہیوں کا خمیازہ آج ہمیں اور محکموں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔سرکاری اداروں کی کیپسٹی نہیں رہی ۔ وہ قومی خزانے پر بوجھ بن چکے ہیں۔سیاسی مداخلت نے اداروں میں بگاڑ پیدا کیا ہے ۔کام چورملازمین معاشرے اور سسٹم پر بوجھ ہیں۔ سیاستدانوں نے جان بوجھ کر اپنے مقاصد کیلئے اداروں میں سیاست کی ۔ہم میرٹ ، شفافیت اور اچھی حکمرانی کی بنیاد رکھ چکے ۔ صحت ، تعلیم اور سماجی خدمات کے دوسرے شعبوں کو فعال کیا ۔ سسٹم کو ٹریک پر لگایا ۔

سٹیٹس کو کی قوتوں کو چاروں شانے چت کیا۔ ریڈ ٹیپ ازم اور کمزور سسٹم سے طاقت حاصل کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی ۔ہم نے عوام پر وسائل خرچ کرنے کا نیا اسلوب متعارف کرایا۔ سیاسی مداخلت کے آگے بند باندھا۔عوام کو بااختیار بنایا۔ انہوں نے میونسپل اور عوامی خدمات کے تمام شعبوں کو آؤٹ سورس کرنے کیلئے اس سال جون کے مہینے تک کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اب اس کام میں غلطی کی گنجائش نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور کے مقامی ہوٹل میں ڈبلیو ایس ایس پی کے زیر اہتمام میونسپل خدمات کے ایمرجنسی نمبر، شکایات سیل، عملے کے حاضری نظام اورعوامی فیڈ بیک منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

تقریب سے صوبائی وزیر بلدیات عنایت اﷲ، پشاور میگا پراجیکٹس کے فوکل پرسن شوکت علی یوسفزئی ،یونیسف کے علاقائی سربراہ کٹکا گیبی، ڈبلیو ایس ایس پی کے بورڈآف ڈائریکٹرز کے چیئرمین خالد مسعود ، چیف ایگزیکٹیو انجینئر خان زیب، جنرل منیجر اشرف قادراور زونل منیجر امین گل شنواری نے بھی خطاب کیااور ادارے کے اغراض و مقاصد اور حاصل کردہ کامیابیوں پر روشنی ڈالی ۔ پرویز خٹک نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت کے ٹھوس اور زمینی حقائق کے مطابق اقدامات کے نتیجے میں ادارے اب زمانے کے ساتھ قدم بہ قدم جارہے ہیں۔وہ کام کرنے لگے ہیں اور عوام کو ڈیلیو رکرنے میں کوشاں ہیں۔ ہم جب حکومت میں آئے تو کرپشن زدہ اداروں کی کارکردگی تقریباً صفر کی سطح پر آگئی تھی ۔

شہروں اور دیہات کا حال یکساں خراب تھا ۔محکموں کے اندر کرپشن کا گند تھا توباہر شہروں میں اور سڑکوں کے کناروں پر ہر جگہ غلاظت کے ڈھیر لگے تھے ۔ صفائی نام کی چیز سے عوام نا بلد ہو چکے تھے ۔میرٹ ، انصاف اور قانون نام کو بھی نہیں تھا ایسے نظام کو ٹریک پر لانا بڑا مشکل کام تھا مگر ہم نے کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ہر مافیا اور سٹیٹس کو کامقابلہ کیا اور یہ جنگ بدستور جاری ہے کیونکہ جن کا کام کا ارادہ نہیں تھا۔ اُنہیں اب بھی تکلیف ہے ۔ سیاسی لوگوں نے تو اداروں کو اس قدر تباہ کیا کہ الحفیظ و الامان ۔ہم نے بالائی اور زیریں تمام سرکاری ملازمین پر واضح کیا کہ حکومت پوچھے نہ پوچھے خدا کیلئے کام کریں اور دوسروں کی طرف نہ دیکھیں ۔

کسی پر انگلی اُٹھا نا آسان مگر اپنے گریبان میں جھانکنامشکل کام ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم نے نئے بلدیاتی نظام میں مقامی حکومتوں کو صوبائی حکومت کے اپنے 30 فیصد اختیارات اور فنڈز بھی دیئے جبکہ ویلج کونسل کو صفائی کیلئے 20 فیصد فنڈز کی فراہمی لازمی قرار دے دی تاکہ شہروں اور دیہات کو یکساں طور پر صاف ستھرا بنایا جا سکے حالانکہ دُنیا بھر میں گاؤں کی صفائی کا رجحان نہیں ۔ہمیں دین کہتا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے اور اگر ہم صفائی سے لاپرواہ بن جائیں تو آدھا ایمان گیااور باقی آدھے ایمان میں ہم ویسے ہی کمزور ہیں۔ افسوس کہ شہری میونسپل خدمات کیلئے حکومت کی طرف دیکھتے ہیں مگر اپنی ذمہ داری کوئی نہیں دیکھتا ۔ وقت آگیا ہے کہ شہری بھی صفائی کے کام میں اداروں سے تعاون کریں اور اپنے گھروں کے باہر گند جمع نہ ہونے دیں بلکہ اس کی خود صفائی یقینی بنائیں۔

خوشی کی بات ہے کہ ڈبلیو ایس ایس پی نے صفائی اور آبنوشی کے شعبوں میں کام شروع کیا اور اس بہتر کام کی وجہ سے اب ڈویژنل سطح پر بھی قائم کئے گئے جبکہ اگلے مرحلے میں انہیں اضلاع کی سطح پر بھی توسیع دی جائے گی اس مقصد کیلئے اگلے بجٹ میں خاطر خواہ فنڈز رکھے جارہے ہیں۔ ہم بڑے شہروں کی طرح اپ لفٹ اور فیس لفٹنگ کے پروگرام کو بھی باقی شہروں میں توسیع دے رہے ہیں تاکہ ان پر ترقیافتہ ہونے کا گمان ہو ۔وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے تمام اداروں کو خود مختار بنائیں جس کا ہم نے تعلیمی اداروں ، ہسپتالوں اور میونسپل اداروں سے آغاز کردیا ہے۔ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ سرکاری اداروں میں یہ اہلیت ہی نہیں ہوتی کہ وہ اچھی کارکردگی دکھائیں اسلئے پرائیویٹ سیکٹر سے عوامی فلاح کاکام لینا آخری آپشن بن چکا ہے اور ایسا پوری دنیا میں ہورہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ ڈبلیو ایس ایس پی کی طرف سے شہر میں صفائی کے 70 فیصد اہداف پورے ہو چکے ہیں لیکن ہمارا ہدف 100 فیصد ہے ۔ ہمیں 100 فیصد نتائج دینے ہوں گے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ادارے دن رات کام کریں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے شہروں میں نکاسی آب میں مسلسل رکاوٹوں کا باعث بننے والے پولی تھین بیگ کے کثر ت سے استعمال دیکھتے ہوئے ہر قسم کے پولی تھین بیگ پر پابندی لگادی ہے اور اس کیلئے صوبائی سطح پر قانون سازی کی ہے تاہم مکمل پابندی دو مہینے کے اندر لاگو ہو جائے گی ۔اس سلسلے میں حکومت نے سخت اقدامات اُٹھانے کی ہدایت کی ہے ۔