بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / فرانس میں قوم پرستوں کی شکست

فرانس میں قوم پرستوں کی شکست


گزشتہ جون میں برطانوی عوام نے یورپی یونین سے نکلنے کے حق میں ووٹ دیکر یورپ کو انتہاپسند قوم پرستی کے راستے پر ڈال دیا تھاآج کیطرح ان دنوں بھی تمام یورپی ممالک کے عوام غصے میں تھے کہ ان کی کھلی سرحدوں سے مہاجرین بے دھڑک چلے آ رہے ہیں ، سرمائے کی آمدورفت پر کوئی پابندی نہیں اور مشرقی یورپ اور اسلامی ملکوں سے آنے والے لوگ کم اجرتوں پر ملازمتیں کر رہے ہیں ، جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے اور انکا کلچر بیرونی یلغار کی زد میں ہے اس غیر روایتی اور نئی طرز سیاست کو اسوقت مزید تقویت ملی جب نومبر کے مہینے امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے سفید قوم پرست عوامی سیاست کا پرچم تھامے وائٹ ہاؤس میں براجمان ہو گئے دنیا بھر میں کہا جانے لگا کہ مغرب غیر ملکیوں سے نفرت کرنے والا ایک نسل پرست اور متعصب معاشرہ بن گیا ہے تین ماہ قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر امریکہ بنتے ہی جب سات مسلمان ملکوں کو ویزوں کا اجراء بند کر دیا تو اس بات میں کوئی شک نہ رہا کہ تاریخ ایک نیا موڑ کاٹ چکی ہے دنیا پہلے جیسی نہیں رہی کل تک اپنے مہاجر تشخص پر فخر کرنے والی قوم اب تارکین وطن کو برداشت کرنے پر آمادہ نہیں امریکی سیاست کی اس حیران کن تبدیلی کا تاثر زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا ڈونلڈ ٹرمپ کے اضطراری، ہیجان خیزاور غیر روایتی بیانات نے بہت جلد امریکی عوام کو بد ظن کر دیا بیس جنوری کو جب انہوں نے حلف اٹھایا تو اس دن واشنگٹن کی سڑکوں پر لاکھوں کی تعداد میں خواتین انکے خلاف احتجاج کر رہی تھیں دوسری طرف برطانوی عوام بھی یورپی یونین کو چھوڑنے کے فیصلے پر پشیمان تھے جون کے ریفرینڈم کے بعد برطانیہ مرزا غالب کے اس شعر کی تفسیر بنا ہوا ہے ۔

کی میرے قتل کے بعد اسنے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
امریکہ اور برطانیہ کو اپنی سرحدوں کے بند کر دینے کے اعلان کے بعد جو تشویش لاحق ہوئی اسے بھی بہادر شاہ ظفر کے مرزا نوشہ کی اسی غزل کے دوسرے شعر سے زیادہ بہتر طریقے سے بیان نہیں کیا جا سکتا
گر یہ چاہے ہے خرابی میرے کاشانے کی
د ر و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا

دنیا پر حکمرانی کا دعویٰ کرنے والے ان دو ممالک کے اس تذبذب نے مغرب کی انتہا پسند قوم پرست تحریک کو گہرے اضطراب میں مبتلا کر دیا ڈونلڈ ٹرمپ کی ہرزہ سرائیوں نے مغربی عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اگر امریکہ کے بعد فرانس، جرمنی اور اٹلی میں ہونے والے انتخابات میں بھی عنان اقتدار فار ر ائٹ کے سفید جوشیلے محب لوطنوں کے حوالے کر دی گئی تو مغرب کا اپنا مستقبل کیا ہو گا اور باقی کی دنیا سے اسکے تعلق کی نوعیت کیا ہو گی اس پشیمانی کی ایک بھرپور جھلک اتوار کے دن فرانس میں ہونے والے انتخابات میں نظر آئی اس الیکشن میں سینٹر رائٹ امیدوار Emmnuel Macron کا 66% ووٹ لیکر کامیاب ہونا ظاہر کرتا ہے کہ مغرب میں تعصب، نفرت ، تکبرو استکبار ، انفرادیت، علیحدگی اور تنہائی کے سرکش گھوڑے کو لگام دے دی گئی ہے اس اہم انتخابی فیصلے کے مضمرات تو وقت کے ساتھ ساتھ دھیرے دھیرے سامنے آئیں گے سیاست میں حرف آخر عنقاء ہے مرزا غالب کا دیوان سامنے پڑا ہے اوپر لکھے ہوے اشعار جس غزل سے لئے گئے ہیں اسکا مطلع ملاحظہ ہو
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہو نا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

اہل مغرب کا اپنے پرانے احساس تفاخر سے نجات حاصل کرنا آسان کام نہیں ان خواتین و حضرات کو انسان بننے کیلئے مزید کچھ وقت درکار ہو گا اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہم یا دوسرا کوئی اس مقام محمود پر متمکن ہو چکا ہے گزارش یہ ہے کہ فرانس میں نیشنل فرنٹ کی شعلہ جوالہ کف در دہن لیڈر Marine Le Pen کی واضح شکست نے کم از کم یہ ثابت کر دیا ہے کہ نفرت اور بیزاری کی اس پگڈنڈی پر زیادہ دور تک جانا ممکن نہ تھا آس پاس کھائیاں زیادہ تھیں اور قدموں کے لڑکھڑانے کا احتمال بھی کم نہ تھااسلئے احتیاط کا دامن تھامنا ضروری تھا سو اسکا بندوبست کر دیا گیا اب مسئلہ یہ ہے کہ 39 سالہ امینویل میکرون نسبتاً ایک نئے اور غیر تجربہ کار سیاستدان ہیں انہیں موجودہ صدر فرانسواز ہالیندے نے تین برس قبل وزارت خزانہ کا قلمدان سونپا تھا گزشتہ برس میکرون نے ہوا کے رخ کو دیکھتے ہوے استعفیٰ دیکر En Marche نامی ایک سیاسی جماعت بنا لی اس اصطلاح کا مطلب ’’ آگے کی طرف ہے‘‘ ا سے ’’ قدم بڑھاؤ‘‘ بھی کہا جا سکتا ہے اس نئی جماعت کا اتنی جلدی اتنی بڑی سیاسی کامیابی حاصل کر لینا اگرچہ کہ حیران کن بات ہے مگر اسکی وجوہات قابل فہم ہیں اسکی ایک وجہ یہ ہے کہ امینول میکرون اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں اسوقت تمام یورپی ممالک کے لوگ پرانی سیاست گری سے بیزار آئے ہوے ہیں انہیں یقین ہو چکا ہے کہ روایتی سیاسی جماعتیں انکے مسائل حل نہیں کر سکتیں امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے اسٹیبلشمنٹ مخالف حکمران نے لوگوں کو بہت جلد مایوس کر دیا۔

فرانسیسیوں نے قدرے احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہوے ایک سینٹر رائٹ امیدوار کو چنا ہے ماہرین کہہ رہے کہ انہیں زیادہ تر ووٹ میرین لی پن کو ناپسند کرنے والوں نے دئے ہیں یہ لوگ فرانس کو فار رائٹ کی ایک مذہبی قوم پرست جماعت کے حوالے کرنہیں چاہتے تھے مگر میرین لی پن کی نیشنل فرنٹ نے دوسرے نمبر کی سیاسی جماعت بن کر اپنی اہمیت منوا لی ہے پندرہ برس قبل میرین کے والد Jean–Marie Le Pen نے صدارتی انتخابات میں جیک چراگ کے مقابلے میں بری طرح شکست کھائی تھی آج انکی بیٹی نے ان سے دگنے ووٹ لے کر اپنے باپ کی قوم پرست سیاست کو فرانس کے سیاسی سٹیج کے وسط میں لا کھڑا کیا ہے میرین لی پن نے اتوارکے دن اپنی Concession Speech میں کہا کہ وہ جون میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کی 577سیٹوں میں سے ہر ایک کے لئے اپنے امیدوار کھڑے کریں گی ۔ادھر امینول میکرون کی بطور صدر کامیابی کا دارومدار کافی حد تک پارلیمنٹ کی زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے پر ہو گا مغرب میں نفرت انگیز قوم پرستی کی تحریک پسپا ہوئی ہے یا نہیں اس سوال کے جواب کیلئے ہمیں فرانس میں جون کے پارلیمانی انتخابات اور اسکے بعد ستمبر میں جرمنی اور نومبر میں اٹلی کے انتخابی نتائج کا انتظار کرنا ہو گا۔