بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ اسلام آباد

ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ اسلام آباد

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا اپنے بارہ رکنی نمائندہ وفد کے ہمراہ وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف ، وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہونے والی الگ الگ ملاقاتوں میں خطے کی صورت حال، پاک ایران تعلقات ، سرحدی معاملات اور دو طرفہ اقتصادی امور پر ہونے والی گفتگو پاک ایران تعلقات کے استحکام کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے یہ دورہ ایسے وقت میں کیا ہے جب صدر ٹرمپ کی قیادت میں نئی امریکہ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ طے پانے والے ایٹمی معاہدے کی تنسیخ کا عندیہ دیا ہے۔اسی طرح ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کے دورہ اسلام آباد کا ایک اوراہم پہلو افغانستان میں امریکہ اور افغان سیکورٹی فورسز پر بڑھتے ہوئے حملے نیز حال ہی میں ماسکو میں افغانستان کی سیکورٹی سے متعلق ہونے والی بارہ ممالک کے اجلا س میں ایران کی شرکت اور اس خطے میں روس جو کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کا اہم اتحادی ہے کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو بھی ایک اہم پہلو کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔جب کہ بعض مبصرین کے مطابق اس دورے کا فوری مقصد پاک ایران سرحد پر گزشتہ دنوں دس ایرانی بارڈرر سیکورٹی فورسزکی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاکتوں اور خاص کر پاک ایران سرحد پر ہر طرح کی غیر قانونی نقل وحرکت اور سمگلنگ وغیرہ کی روک تھام کے لیئے کوئی مشترکہ میکنزم بنانا تھا۔شاید اس فوری مقصد کے حصول کے پیش نظر ہی دونوں ممالک اگر ایک طرف مشترکہ ہاٹ لائین کی بحالی پر متفق ہوگئے ہیں تو دوسری جانب مختلف سطحوں پر آپریشنل کمیٹیاں بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ پاک ایران تعلقات ماضی میں ہر طرح کے شک وشبے سے بالا تر رہے ہیں اور دونوں ممالک نہ صرف مذہب اور تہذیب وتمدن کے مشترکہ رشتوں میں جکڑے ہوئے ہیں بلکہ دونوں ممالک نے ہمیشہ مشکلات کی گھڑیوں میں ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعلق،دوستی اور اسلامی اخوت وبھائی چارے کا عملی مظاہرہ بھی کیا ہے ۔چین کے ساتھ ساتھ ایران پاکستان کا دوسرا قریبی پڑوسی ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کا نہ تو کوئی سرحدی تنازعہ ہے اور نہ ہی پاکستان کو ایران کی سرحد پر اپنی مسلح افواج رکھنے کی کبھی کوئی ضرورت محسوس ہوئی ہے۔آر سی ڈی شاہراہ اور کوئٹہ زاہدان ریل سروس کے ذریعے نہ صرف ایران اور پاکستان کے درمیان آزادانہ تجارت اور نقل وحرکت ہوتی رہی ہے بلکہ پاکستان یہ روٹ ماضی میں مشرق وسطیٰ اور یورپ تک زمینی رسائی کے لیئے بھی استعمال کرتا رہا ہے۔پاکستان اور ایران کے درمیان مختلف علاقائی اور بین الاقوامی ا مور پر اتفاق رائے بھی وہ اہم عنصر ہے جس نے دونوں پڑوسی ممالک کو زیادہ قریب رکھا ہے۔دورے کے دوران پاک ایران سرحد پر سیکورٹی کے حوالے سے مربوط اقدامات پر بھی بات چیت ہوئی اور حقیقت یہ ہے کہ دو برادر پڑوسی ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی بحالی اور ایک دوسرے کی سیکیورٹی کو ملحوظ خاطر رکھنے کے مطالبے یا خواہش میں بظاہر کوئی عار نظر نہیں آتا ہے لیکن یہ دوطرفہ اعتمادی اقدامات ہوتے ہیں ۔

ایران کا پاکستان سے کوئی بھی ایسامطالبہ کرتے وقت اس سلسلے میں نہ صرف پاکستان کی اندرونی سیکیورٹی اور کنٹرول لائن نیز پاک افغان بارڈر کے ذریعے بھارتی مداخلت کے مسائل کو مدنظر رکھنا چاہئے بلکہ کلبھوشن یادیو نیٹ ورک سمیت بھارتی خفیہ ایجنسی را کی جانب سے پاکستان کے خلاف ایرانی سرزمین کے استعمال کے دیگر ناقابل تردید شواہد پر بھی غور کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف بھارتی سازشوں کی روک تھام اور ان ساشوں کو ناکام بنانے میں بھی پاکستان کی ہر ممکن مدد کرنی چاہئے۔گوادر کے مقابلے میں بھارتی سرمایہ کاری سے ایرانی بندرگاہ چاہ بھار کے علاوہ بھارتی مصنوعات کی افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی نیز ان ممالک میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کے لیئے زرنج زاہدان شاہراہ کی تعمیر سمیت بھارت پر دیگر ایرانی نوازشات کی صورت میں خطے کے بگڑتے ہوئے توازن اور اس حوالے سے پاکستان کی بجا اور جائزتحفظات اور مفادات کو بھی ایک اچھے آزمودہ دوست کی صورت ہر گز نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔