بریکنگ نیوز
Home / کالم / پرانے کھلاڑی

پرانے کھلاڑی

موجودہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کرنے والی ہیں۔ابھی یہ طے نہیں ہو سکا کہ اسمبلیاں واقعی اپنی مدت پوری کر سکیں گی یا نہ۔ اس لئے کہ نواز شریف ،جو واقعی اس معاملے میں شریف ثابت ہوئے ہیں، کہ پچھلی حکومت میں اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی اپنے عہد کا پاس کیا اور باوجود فرینڈلی اپوزیشن کے طعنے سہنے کے بھی اسمبلیوں کو مدت پوری کرنے میں اپنا تعاون جاری رکھا ۔ گو حزب اختلاف ہمیشہ ہی حزبِ اقتدار کو ٹف ٹائم دیتی ہے مگر نواز شریف کی اپوزیشن نے زرداری کی حکومت کو سارے عرصے کبھی بھی تنگ نہیں کیا جس کی اصل وجہ لندن کا وہ مفاہمتی عہد تھا کہ جو محترمہ بے نظیر اور جناب نواز شریف کے درمیان ہوا تھا۔ اب چونکہ بی بی کو گئے کافی عرصہ ہو گیا ہے اس لئے پی پی پی کو وہ عہد یاد نہیں رہا مگر مسلم لیگ ن کی جانب سے اب بھی لگتا ہے کہ عہد کی پاسداری کا عمل جاری ہے اس لئے کہ جناب خورشید شاہ، شرجیل میمن ، بلاول زرداری اورخود جناب آصف زرداری کے حملوں کے ،جناب نواز شریف کی طرف سے اُس شدت کا جواب نہیں دیا جا رہا۔ گو نواز لیگ کے کچھ حضرات کوشش کرتے ہیں مگر اس قدر شدت سے نہیں کہ جتنا حملہ اعتزاز احسن کی جانب سے ہوتا ہے۔یہ تو معلوم ہے کہ جناب اعتزاز احسن صاحب کیوں اس قدر کڑوے ہوئے ہوئے ہیں۔

مگر اس کا مداوا ابھی تک نواز حکومت سے نہیں کیا گیا۔ یہ کام ہمارے وزیر پٹرولیم کر سکتے ہیں مگر وہ بھی آنکھ چرائے ہوئے ہیں ۔ ان دونوں پارٹیوں میں جو جنگ انتخابات کے قریب آ کے چھڑ ی ہے وہ کس کو فائدہ دے گی یہ بھی کھل کر سامنے نہیں آیا مگر ایک بات صاف نظر آتی ہے اور تجزیہ کار بھی اس پر متفق ہیں کہ شاید پی پی پی اب اپنا اثر سندھ سے بھی کھو دے۔ اس لئے کہ جب سب دیکھ رہے ہیں کہ اس پارٹی نے سندھ کا اور خاص طور پر کراچی کا جو حال کیا ہو اہے وہ اس کے ووٹ بینک کو بری طر ح مجروح کر رہا ہے۔اندرون سندھ گو ابھی تک وڈیرے کا ہولڈ ہے مگر وڈیروں کا جو حال آئی جی سندھ کر رہے ہیں اور جس سے پی پی پی قیادت �آئی جی کو یک زبان ہو کر ان کو اپنے صوبے سے نکال باہر کرنے میں جُتی ہوئی ہے اور جس کے آڑے عدالتیں آ رہی ہیں وہ یہی ہے کہ جس طرح کا حشر پچھلے دنوں ایک وڈیرے کا پولیس نے کیا ہے۔

اور جس طرح وڈیرے کا لڑکا ہاتھ جوڑے پولیس سے معافیاں مانگتے ہوئے دکھایا گیا ہے یہ ایک بہت بڑا انقلاب ہے جس کو سندھ کی وڈیرہ حکومت کسی بھی طور برداشت نہیں کر سکتی ۔رہا پنجاب کا معاملہ تو جہاں عوام بیس روپے میں ایک ائر کنڈیشند بس کا آرام دہ سفر کریں گے تو وہاں کسی اور پارٹی کی دال گل جائے بہت مشکل دکھا ئی دیتا ہے۔ اس لئے کہ لاہور اور روالپنڈی اسلام آباد میں پچھلے الیکشنوں میں جنگلہ بس کے نعرے مارنے والوں کو جو بری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کی ساری ذمہ داری جنگلہ بس پر جاتی ہے او راب تو یہ جنگلہ بس اور بھی کئی شہروں تک پھیل چکی ہے یعنی اب پنجاب ن لیگ سے چھیننا شائد اتنا آسان نہ ہو ۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ ن لیگ والے گالیاں کھا کر بھی بے مزہ نہیں ہو رہے۔اُن کو اپنی کار کردگی خاص طور پر پنجاب میں کافی بھروسہ نظر آ رہا ہے۔ اب تو جو لوگ بھی دوسرے صوبوں کے پنجاب کی سیر کو آتے ہیں وہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ہمارے صوبے کو بھی ایک شہباز شریف دے دو کہ ہم بھی ایسی ترقی سے لطف اندوز ہو سکیں۔ اب پرانے کھلاڑی نئے جال لے کر آ رہے ہیں اور اور جو مختلف لیگوں نے ن لیگ کاحال کیا ہوا ہے اس پر روزانہ تیل ڈالا جا رہا ہے۔

اس لئے اور اس جال کو ہمارے حزب اختلاف والے ہر روز عوام پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور شاید اس میں کچھ کامیاب بھی ہو جائیں مگر ہو سکتا ہے کہ جب جے ٹی آئی چھان بین کرے تو نواز شریف اس جال سے نکل جائیں اور اگر ایسا ہوا تو پھر پی پی پی اور تحریک انصاف کی دال گلنے کا امکان نہیں ہے۔تا ہم جو پارٹیاں میدان میں بہت پہلے نکل چکی ہیں اس کا کیا حشر ہو دیکھتے جانے کا عمل ہے۔ کیونکہ یہ سیاست کی دنیا ہے جس کے بارے میں قبل از وقت کچھ کہنا مشکل ہے اور کیا کرتا ہے اور کون سی پارٹی کس پلڑے میں اپنا وزن ڈالتی ہے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔