بریکنگ نیوز
Home / دلچسپ و عجیب / مشکل ترین یوگا کی ماہر 98 سالہ خاتون

مشکل ترین یوگا کی ماہر 98 سالہ خاتون


تامل ناڈو۔ بھارت کی 98 سالہ ضعیف خاتون کو دنیا کی دوسری اور بھارت کی پہلی بزرگ ترین یوگا انسٹرکٹر کا اعزاز حاصل ہے اور وہ اب بھی یوگا کے مشکل ترین آسن ادا کرسکتی ہیں اور یہاں تک کہ ان سے نصف عمر کے ان کے شاگرد بھی ان کی بتائی ہوئی یوگا مشقیں نہیں کرسکتے۔بھارتی ریاست تامل ناڈو کی رہائشی نانا ممل نامی معمر خاتون کے والد مارشل آرٹ کے ماہر تھے اور انہوں نے صرف 8 سال کی عمر میں یوگا کرنا شروع کیا تھا۔ اپنے والد سے یوگا کی بھرپور رہنمائی کے بعد بھی وہ مسلسل مشق کرتی رہیں اور شادی کے بعد ان کے سسر نے انہیں یوگا کے مزید گر سکھائے جس کے بعد وہ ایک ماہر کی حیثیت سے دیگر افراد کو یوگا سکھانے لگیں۔

نانا ممل کے مطابق وہ اب تک کسی اسپتال نہیں گئیں اور نہ ہی کبھی انہیں دوا کھانی پڑی جب کہ گزشتہ 90 برس کا یوگا ہی ان کی شاندار صحت اور طویل عمری کی علامت ہے۔ ایک جانب تو وہ کسی بھی سہارے کے بغیر چلتی پھرتی ہیں اور دوسری جانب وہ سر کے بل کھڑی ہوسکتی ہیں، مور، اور کنول جیسے مشکل ترین یوگا آسن بھی انجام دے سکتی ہیں۔ ایک اور ہلسانا آسن وہ بہت آرام سے انجام دیتی ہیں یہاں تک کہ لچکدار ترین جسم کے مالک بھی یہ آسن نہیں کرسکتے ۔

روزانہ ان کے گھر 100 سے زائد طالب علم آتے ہیں اور خاتون انہیں بہتر صحت، غذا اور یوگا کے متعلق بتاتی ہیں۔ نانا ممل کا ایک بیٹا بھی یوگا کا استاد ہے اور ان کے مطابق مور آسن مشکل ترین پریکٹس ہے جس میں لوگ بازو کے بل پر الٹے کھڑے ہوتے ہیں لیکن ان کی والدہ ساڑھی پہننے کے باوجود بھی 50 سے زائد آسن کرسکتی ہیں۔

نانا ممل کے ایک شاگرد نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ایسے کام کرتی ہیں جو وہ کئی برس کی ریاضت کے بعد بھی سیکھنے سے قاصر رہے ہیں۔ نانا ممل صبح اٹھنے کے بعد اور رات کو سونے سے قبل یوگا کرتی ہیں۔ اگر وہ اس کی مشق نہ کریں تو ان کا جسم اکڑ جاتا ہے اور پٹھوں میں تکلیف پیدا ہونے لگتی ہے۔

نانا ممل سے سیکھنے والوں میں ہر عمر کے لوگ ہیں جن میں 6 سال کے بچے اور 60 سال تک کی خواتین بھی شامل ہیں۔ انہیں دنیا کے درجنوں ممالک سے یوگا سکھانے کی پیشکش ہوئی لیکن انگریزی نہ جاننے کی وجہ سے وہ تمام پیشکشیں مسترد کرچکی ہیں۔