بریکنگ نیوز
Home / کالم / زبانوں کی نئی تشکیل کی حد سے ذرا پہلے

زبانوں کی نئی تشکیل کی حد سے ذرا پہلے

لیجیے صاحب ایک بار پھر ادب کی موت کا اعلان اپنے بے گناہ کانوں سے سنا ،6 دہائیاں قبل جب محمد حسن عسکری کے کیمپ سے سلیم احمد نے یہ اعلان کیا تھا تو ہم خود تشکیک و تذبذب کے نا مہرباں دور سے گزر رہے رہے تھے۔بیچ میں طاہر مسعود نے ایک ضخیم کتاب اردو ادب کی موت کے حوالے سے مرتب کی تب تک ہم بھی سنبھل چکے تھے،پہلے پہلے تو ناصر کاظمی کی غزل اور انتظار حسین کے افسانے نے آکسیجن کا کام کیا اور کراچی سے ہونیوالے ان اعلانات کے آگے بند باندھ کر ادب کو تازہ دم کر دیا اور پھر یہ سب ماضی کا حصہ بن گیا، اب ادب کی گاڑی ہموار شاہراہ پر تھی،پھر بھی گاہے گاہے کوئی کوئی موڑ جھٹکوں کا باعث بنتا رہا جب کوئی نئی بحث بات آگے بڑھانے کی بجائے کھنڈت ڈالنے لگتی مگر یہ دورانیہ زیادہ طول نہ پکڑتازیادہ تر زعما کا رویہ مفاہمانہ ہوتا،سرحد پار سے اٹھنے والی تیز و تند آوازیں بھی سمجھ گئیں تھیں کہ اب ٹکر برابر کی ہے اس لئے آمد و رفت بھی زیادہ ہونے لگی، سو ادب کا قافلہ نسبتاً بہتر مکالماتی فضا میں سانس لینے لگا اور وہ جو ماضی کی تحریکیں مخالف کیمپوں میں آستینیں اور منہ چڑھانے کا باعث بنتیں وہ فرو ہوئیں البتہ کوئی کوئی آواز ضرور اٹھتی کہ ادب میں کسی نئی تحریک کی ضرورت ہے، سلیم احمد کے کراچی سے احسن سلیم نے ایک بہت ہی خوبصورت اور بھرپور ادبی جریدہ نکالا جس نے ماضی کے بڑے ادبی پرچوں کی یاد دلا دی، سرحد کے دونوں جانب سے اس جریدے کے طرفدار فعال ہو گئے تو احسن سلیم نے ایک نئی ادبی تحریک کی ضرورت کا سوال میز پر رکھ دیا اور پھر اطراف سے اتنا عمدہ لٹریچر پڑھنے کو ملا کہ ادیب ہی نہیں ادب دوست بھی سر شار ہو گئے مگر اس سے قبل کہ یہ بحث کسی منطقی انجام پر منتج ہو تی،احسن سلیم ہم سے بچھڑ گئے۔ پھر دن بہت خالی خالی گزرنے لگے۔کچھ نئے بہت ہی عمدہ ادبی جریدے سامنے آئے جن میں سر فہرست ممتاز شیخ کی ادب اور قلم قبیلے سے بے لوث اور بے پناہ محبتوں کا مرقع ’’ سہ ماہی لوح ‘‘ ہے اور کچھ پرانے ادبی پرچوں نے نئی حسّیات کو سمجھتے ہوئے طرز کہن سے کنارہ کیا۔

اب نصیر احمد ناصر نے ایک طویل بریک لینے کے بعد نئے انداز سے اپنا جریدہ ’’ تسطیر ‘‘ ترتیب دیا ہے جو بس آیا ہی چاہتا ہے‘ اس ابتلا کے زمانے میں ادب نے اپنی لو بڑھائی ہوئے ہے مگر وہ جو ایک دو بدو مکالمے کا لطف تھا باوجودیکہ ہر چھوٹے بڑے شہر میں نئی پرانی تنظیمیں تنقیدی نشستوں کا دیا جلائے ہوئے ہیں،مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی ۔اسی لئے جب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد نے پاکستانی زبانوں میں امن و آشتی کا پیغام کے حوالے سے دو روزہ قومی کانفرنس کا ڈول ڈالا۔تو میں دوڑا دوڑا پہنچا کیونکہ ہمارا سارا ورثہ انہی زبانوں کے ادب کی گٹھری میں بندھا ہوا ہے، سماج کے سدھارنے کی ساری اٹکل یہی ادب ہمیں سکھاتا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا یہ اقدام بھی قابل ستائش ہے کہ پاکستانی زبانوں کا شعبہ قائم کیا گیا ہے اور پشتوزبان و ادب کی ایک اہم شخصیت عبداللہ جان عابد اس شعبہ کے صدر نشین ہیں، اور یہ کانفرنس اسی شعبے کے احباب نے ترتیب دی ہے جن کو بلا شبہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ہر دلعزیز اور ہنس مکھ وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد صدیقی کا نہ صرف تعاون حاصل رہا بلکہ ان کی رہنمائی بھی انکے راستے سیدھے کرتے رہی جس کا ایک بڑا اور بیّن ثبوت اس کانفرنس کا پہلا سیشن تھا جس کے شرکا میں سجاد میر ،افتخار عارف ،حارث خلیق اور خورشید ندیم شامل تھے گویا اتنا بھاری بھر کم اکٹھ کم کم ہی دیکھنے میں آتا ہے، اور جس کا ذکر میں ایک کالم میں کر بھی چکا ہوں‘ اعادہ کے طور پر اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ خورشید ندیم نے بحث کا دروازہ کھولتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ریاست کی بجائے زیادہ ضروری سماج میں بدلاؤ لانا ہے پھر اس کی اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جہاں بیٹھ کر سماج سدھار کوئی تحریک چلائی جائے یا جس ماحول میں بیٹھ کر ادب تخلیق کیا جائے اس ماحول کو کسی طور اس تحریر یا اس کی تاثیر سے منہا نہیں کیا جا سکتا اس ضمن میں انہوں مولانا مودودی کی تحریر پردہ کا ذکر بھی کیا‘ وہ سماج میں تبدیلی کی بحث میں دو ٹوک انداز اپنائے ہوئے تھے،اس پر جو بات حارث خلیق نے کی اور مکالمہ کو آگے بڑھایا وہ اپنی جگہ بہت اہم تھا مگر صدر محفل افتخار عارف سے قبل سجاد میر کو بھی تو آنا تھا اور ان کا انداز خطابت اوردلیل کیساتھ کھرے کھری باتوں کا قائل تو ایک زمانہ ہے۔

جرنلزم کا تجربہ اپنی جگہ مگر وہ اس زمانے میں ساہیوال رہے جب وہاں کی فضاؤں میں منیر نیازی ،مجید امجد اور ظفر اقبال سمیت کئی ادبی زعما سانس لے رہے تھے انہوں نے اپنی پاٹ دار آواز اور فیصلہ کن انداز میں خورشید ندیم کی تقریر دلپذیر کے بنیادی حوالوں کو کھنگالنا شروع کر دیا اور بڑے دوستانہ انداز میں کہا کہ حضور والا سماج سدھار کی بات کی اہمیت اپنی جگہ مگر ادب کا اپنا ایک علاقہ ہے اپنی ایک الگ ڈومین ہے یہ سامنے کی بات کرے گا تو سطح پر ہی تیرتا رہے گا بڑا ادب نہیں بن پائے گا یہ تو تہذیبوں کی شکست و ریخت سے اپنے آپ کو جوڑے رکھتا ہے، وہیں سے اپنے لئے ایک دائمی حیثیت حاصل کرتا ہے۔ یہ سماج کی ترجمانی ان معنوں میں کرتا ہی نہیں جن معنوں میں سماج کو بدلنے کی بات کی جاتی ہے پھر یہ کسی نظرئے کے تحت کب لکھا جاسکتا ہے انہوں نے مارکس سے لے کرہیگل تک کے حوالے دے کر تان اس پر توڑی کہ محمد حسن عسکری نے ٹھیک کہا ہے کہ ادب جب تک اس سطحی اظہاریہ کو توڑ کر اندر کے الاؤ تک رسائی حاصل نہیں کرتا بڑا ادب نہیں کہلا سکتا۔ انہوں نے غالبا جیمز جوائس کی تحریروں کا ذکر بھی کیا۔

چہ جائیکہ ادب کسی خاص نظریہ کے تحت لکھا جائے یا پھر کوئی مینی فیسٹو سامنے رکھ کر تخلیق کیا جائے ۔پھر انہوں نے کہا کہ لیکن کیا کیا جائے کہ اب ہم کھلی آنکھوں دیکھ رہے ہیں کہ ادب غیر سرکاری انجمنوں (این جی اوز) کے تحت لکھا جارہا ہے اب اس روش کو اگر ’’ ادب کی موت ‘‘ نہیں کہیں تو بھلا اور کیا کہیں۔ 6 دہائیاں قبل جب ادب کی موت کا اعلان کیا گیا تھاتو لاہور سے ادب کی زندگی کی نوید سنائی گئی تھی اب دیکھتے ہیں کہ کس طرف سے ادب کی زندگی کی حمایت میں کوئی آواز اٹھتی ہے۔لیکن اس کے لئے بہت ضروری کہ ڈاکٹر شاہد صدیقی اس مکالمے کو اپنی یونیورسٹی کے کسی جرنل کیساتھ ساتھ ادبی جریدوں تک بھی پہنچائیں انہوں نے وعدہ تو کیا ہے کہ اس ساری عالمانہ اور فاضلانہ گفتگو کی سی ڈی ریلیز کریں گے۔ مجھے خود بھی اس کا انتظار ہے یا کسی طور شعبہ پاکستانی زبانیں کے جواں سال و جواں فکر صدر نشین عبداللہ جان عابد اپنی مستعد ٹیم کے ساتھ اس گفتگو کو کاغذ پر اتار کر صدقہ جاری�ۂ ادب کے طور تقسیم کر دیں کیونکہ یہ پورا سیشن زبانی گفتگو پر مشتمل تھا جس میں شعر میں استعمال ہونیوالے الفاظ کے حوالے سے بھی بات کی گئی کہ شعر میں استعمال ہونیوالا ہر لفظ اپنے اند معانی کا ایک جہاں رکھتا ہے ،میر اگر کہتا ہے

میر ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے
تو یہ حوالہ قطعاًوہ نہیں ہے جو بظاہر نظر آ رہا ہو تا ہے خیر اس سے تو شعر شناس خوب آ گاہ ہیں یہ اور بات کہ اب تو جو ادب تخلیق ہو رہا ہے اس کے لفظوں کے اندر کے معانی اور سے اور ہوئے جاتے ہیں۔شاید کہنا پڑا ہے
زبانوں کی نئی تشکیل کی حد سے ذرا پہلے
پرانے لفظ اور ان کے معانی بیچ آتے ہیں