بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / بلاک شناختی کارڈز

بلاک شناختی کارڈز

اب تو اگرچہ بلاک شناختی کارڈز کامسئلہ جزوی طور پر حل ہوچکاہے جزوی طورپر اس لیے کہ اب بھی بہت سے شناختی کارڈز بلاک پڑے ہیں اورجو بحال ہوئے وہ بھی عارضی طورپر اس عرصہ کے دوران انکو تصدیق کے کٹھن مراحل سے گذرنا پڑے گا بلاک شناختی کارڈزکے معاملہ میں تین چوتھائی کارڈز پختونوں کے ہی بلاک تھے وجہ چاہے کوئی بھی ہو پہلے شناختی کارڈزبلا ک کرکے اور بعد ازاں پنجاب اورسندھ میں پختونوں کو غیر اعلانیہ طورپر افغان مہاجرین قراردے کر ان پر زندگی اجیرن بنادی گئی اور پھر اسمیں کاروبار اور پراپرٹی مافیا بھی کودپڑا جو عشروں سے پنجاب اور سندھ کے مختلف شہروں میں کاروبار کرنے والے پختونوں کی املاک او ر کاروبار ہڑپ کرنے کے درپے تھا ساتھ ہی ہماری انڈسٹری کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا کیونکہ بعض اشیاء ایسی ہیں جو یہاں بنتی ہیں اور پھر مقامی پختون ان کو لے جاکر شہر شہرمیں گھرگھر گلی گلی جاکر فروخت کرنے کاکام ایک عرصہ سے کرتے آرہے تھے مگر جب شناختی کارڈز بلاک کئے گئے اورپھر پختونوں کو ہراساں کیاجانے لگا تونہ صرف ہزاروں پختون بیروزگار ہوگئے بلکہ پشاورمیں واقع ان کارخانوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے بلاک شناختی کارڈز کے مسئلہ پر اگرچہ صوبہ کی تمام اہم سیاسی جماعتوں نے اپنا اپنا کردار اداکیا جس پر پھرکبھی تفصیل سے بات ہوگی مگر اس معاملہ میں اے این پی نے جوکوششیں کیں ان کو نظر اندازنہیں کیاجاسکتا اور اگر اس معاملہ میں پارٹی کے سینئر رہنما حاجی غلام احمد بلور کا ذکر نہ کیا جائے تو زیادتی ہوگی جو اس وقت اگرچہ پیرانہ سالی میں ہیں مگر ان کاعزم آج بھی جوان ہے سب سے پہلے انہوں نے اپنے حلقے کے بلا ک شناختی کارڈز کی بحالی کیلئے انفرادی کوششیں شروع کی اور بہت سے لوگوں کو لے کر نادرا حکام کے پاس لے کر گئے اور انکو اس عذاب سے نجات دلائی بعدازاں انہی کی کوششوں سے یہ مسئلہ قومی سطح پر اٹھنے لگا اور آخر کار ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی۔

جس نے پھر اس حوالے سے متعدد اجلاس کرکے نئی حکمت عملی مرتب کی اس عرصہ کے دوران بھی حاجی بلور آرا م سے نہ بیٹھے اور نہ صرف کئی بار چودھری نثارعلی خان اور خصوصی کمیٹی کے سربراہ ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی کیساتھ رابطے میں رہے بلکہ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے وزیر اعظم نوازشریف کیساتھ بھی موقع بہ موقع ٹیلی فون پر رابطے کرکے انہیں اپنی تشویش اور پختونوں کی پریشانی سے آگاہ کیا اسلام آبادمیں اے این پی نے اس مسئلہ پر بھوک ہڑتال کی اور یہ بھی حاجی غلام بلور کی بدولت ممکن ہوا انہوں نے تن تنہا یہ بھوک ہڑتال کرنے کااعلان اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس کے دوران کیاتھا مگر انکی جماعت بھلا انکو کہاں اکیلے چھوڑنے والی تھی چنانچہ پھر پارٹی قیادت بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئی اور یہی حاجی غلام بلور کی شروع کی گئی تحریک کانکتہ انتہاثابت ہوا اور پھر بلاک شناختی کارڈز بحال کردیئے گئے جس طرح مردم شماری کے حوالے سے قومی وطن پارٹی اور اس کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ کی کوششوں کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا ‘اسی طرح شناختی کارڈز کے اس ایشو پر اے این پی اور خاص طورپر حاجی غلام احمد بلور کی کوششیں یاد رکھنے کے قابل ہیں انہوں بلا شبہ اپنے حلقے اور قوم کی نمائندگی کا حق بہتر طریقے سے ادا کرکے دکھایا‘انہوں نے سیاست میں انٹری دینے کے بعد شہر پشاور کے ووٹروں کو جس طریقے سے اے این پی کیساتھ جوڑے رکھاہے اس کا تصور بھی 1988ء کے الیکشن سے قبل ناممکن تھا کیونکہ ہندکو بولنے والوں کی اکثریت اے این پی اور اس کی پیشرو جماعت نیشنل عوامی پارٹی سے کوسوں دورتھی۔

مگر حاجی بلورنے مید ان میں آکر یہ خلیج پاٹی اور پھر پشاورکی سیاست میں اے این پی کو مضبوط مقام دینے میں کردار ادا کیا اپنی زندگی کاپہلا الیکشن تو وہ 1988میں ہار گئے مگر 35ہزار سے زائد ووٹ لے کر شہرکی سیاست میں نئی تبدیلی کی گھنٹی بجا دی پھر چند ماہ بعد ہی این اے ون سے ضمنی الیکشن میں کامیاب ہوئے 1990ء میں اسی حلقے سے انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو شکست دی اگرچہ 1993کاالیکشن ہار گئے مگر پھر اپنی شکست کابدلہ اگلے انتخابات میں لے لیا بعدازاں 2008اور پھر 2013ء کے ضمنی الیکشن میں ایک مرتبہ پھر فاتح بن کرسامنے آئے محض اپنے اخلاق اور خوشی وغمی میں شرکت کرنیکی روایت کی بدولت انہوں نے پشاور میں اے این پی کیلئے جومقام بنایا ہے وہ کسی اور کے بس کی بات نہیں تھی ان کی سیاست ،نظریات اورخیالات سے اختلاف کیا جا سکتاہے مگر اپنی جماعت اور اپنے کارکنوں کے ساتھ انکی کمٹمنٹ ہرقسم شک و شبہ سے بالاتر ہی رہی ہے جس کاایک واضح ثبوت پھرانہوں نے بلا ک شناختی کارڈز کے معاملہ پر متحر ک کردار کے ذریعہ دیا ۔