بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / وفاق نے صوبوں کے توانائی پیدا کرنے کے حق کو تسلیم کرلیا

وفاق نے صوبوں کے توانائی پیدا کرنے کے حق کو تسلیم کرلیا

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے ترمیم شدہ قانون کے تحت اختیارات میں ہونے والے اضافے کے بعد وفاقی حکومت نے تونائی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کا حق صوبوں کو منتقل کرنے پر رضامندی کا اظہار کردیا۔

یہ معاہدہ وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں منظور کیا گیا جس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک اور پنجاب و بلوچستان کے چیف سیکریٹریز موجود تھے۔

اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ‘آئین کے آرٹیکل 157 کے تحت صوبوں کو بجلی کے پیداواری یونٹس کے قیام، ٹرانسمیشن لائنز، ڈسٹری بیوشن لائنز اور توانائی کی تقسیم کے لیے ٹیرف مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے تاہم اس کا ترجمہ نیپرا ایکٹ میں نہیں کیا جاسکتا’۔

مراد علی شاہ کے مطابق انہوں نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ وفاق کی جانب سے ایکٹ میں ترمیم کے دوران صوبوں کو یہ حق تفویض کیا جانا چاہیئے، ‘ہمارا مطالبہ ہے کہ اس معاملے میں آئین پر عملدرآمد ہونا چاہیئے، وفاقی وزیر اس بات پر رضامند ہوگئے ہیں اور میں دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا بھی شکرگزار ہوں کہ وہ اس پر رضامند ہیں’۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ اجلاس کا مقصد یہ تھا کہ توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز متحد ہوں، سندھ میں یہ صورتحال بدتر ہوگئی ہے اور کئی علاقوں کے افراد 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ برداشت کررہے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر خواجہ آصف اور وزیراعظم سے بات کرچکے ہیں۔

مراد علی شاہ کے مطابق صوبے کا ایک اہم مسئلہ ایسے پاور پلانٹس ہیں جو قبضے میں ہیں جنہیں لوڈشیڈنگ میں 4 سے 5گھنٹے کمی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن کیونکہ ہمارے پاس اختیار نہیں سو ہم ان پاور پلانٹس کو استعمال نہیں کرسکتے۔

اس موقع پر وزیر پانی و بجلی کا کہنا تھا کہ نیپرا ایکٹ میں ہونے والی ترامیم صوبوں کے نکتہ نظر کو شامل کرنے کے بعد حتمی کی جاچکی ہیں، جبکہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کو مشترکہ کوشش کے طور پر دیکھا جانا چاہیئے کیونکہ اس کا فائدہ پورے ملک کو ہوگا۔

انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ رواں سال کے آخر تک ختم ہوجائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بجلی کی چوری کرنے والے افراد تمام صوبوں میں موجود ہیں اور انہوں نے ایسا کبھی نہیں کہا کہ بجلی کی چوری میں ملوث لوگ کسی ایک صوبے تک محدود ہیں۔

حکام کے مطابق وزیر پانی و بجلی متعلقہ انتظامیہ کو ہدایت جاری کرچکے ہیں کہ وہ bagasse-based منصوبوں کے ٹیرف مقرر کریں اور حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کو اس نوعیت کے پلانٹس سے بجلی کی خریداری میں مدد فراہم کریں۔

تاہم حکام کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے نیپرا قانون کے تحت وفاق کو سرچارج عائد کرنے کے اختیار کی مخالفت کی، ان کا کہنا تھا کہ یہ اختیارات مشترکہ مفادات کونسل کو حاصل ہونے چاہئیں۔