بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / عوام دوست بجٹ……. ایک خواب

عوام دوست بجٹ……. ایک خواب


2017-18 کے مالی بجٹ کی آمد آمد ہے جس کا چند ہی دنوں میں اعلان ہونیوالا ہے اس ملک کے غریب عوام کو بالکل بھی یہ امید نہیں کہ نیا بجٹ انقلابی قسم کا ہوگا یا عوام دوست ہوگا عوامی تو وہ تب ہو‘غریب دوست تو وہ تب ہوکہ اگر اس میں ڈائریکٹ ٹیکسیشن کی جائے وہ تو حکومت نے کرنی نہیں کہ وہ تاجر دوست حکومت ہے وہ بگ بزنس کو کیسے نالاں کرسکتی ہے اضافی ٹیکسوں کی بھرمار ہوگی اور عوامی استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگا اگر کوئی مارا جائے گا تو وہ فکسڈ انکم والا طبقہ ہوگا اگر اسکی تنخواہ میں پندرہ فیصد بھی اضافہ کردیا گیا تو وہ صرف اسکی اشک شوئی کے مترادف ہوگا کیونکہ اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اس بجٹ میں 30 فیصد اضافے کا خدشہ ہے حصہ بقدر جثہ کے فارمولے پر آپ صرف اسی صورت ہی کام کرسکتے ہیں کہ جب آپ کی معیشت دستاویزی ہو اور یہ کام کرنے کو نہ تو فوجی حکومتیں تیار ہوئیں اور نہ سیاسی حکومتیں ‘ابھی تک اس جانب کسی بھی حکومت نے کوئی ٹھوس قدم اٹھایا ہی نہیں بینک کے چیک کی صورت میں ڈاکٹر مریض سے فیس لینے کو تیار نہیں اور نہ وکلاء کے منشی‘ وہ صرف کیش پر یقین رکھتے ہیں بات سمجھنے کی ہے اگر انہوں نے بینک کے چیک لینے شروع کردیئے تو اس صورت میں تو پھر ان کی صحیح ماہانہ آمدنی کا اندازہ حکومت کو ہوجائیگا اور اس صورت میں پھر ان کو یقیناًبھاری ٹیکس ادا کرنا پڑے گا ۔

جو اب وہ حکومت کو نہیں دے رہے یا بہت کم دے رہے ہیں وکلاء اور ڈاکٹروں کا ذکر تو ہم نے بطور مثال پیش کیا اشرافیہ کا کوئی بھی طبقہ کہ جس کی ماہانہ آمدنی لاکھوں بلکہ کروڑوں میں ہے اتنا ٹیکس حکومت کو ادا نہیں کررہا کہ جتنا بنتا ہے اشرافیہ کے کئی طبقوں نے اپنی اپنی یونینز یا ایسوسی ایشنز بنارکھی ہیں اگر کوئی معیشت کو دستاویزی بنانے کی بات کرے تو وہ اس کو مختلف طریقوں سے اس پر پریشر ڈال کر بلیک میل کرتی ہیں سیاسی حکومتوں کا تو اس معاملے میں بالکل بس نہیں چلتا انکی مجبوری ان کا ووٹ بنک ہے کہ جسے وہ کسی صورت بھی ناراض نہیں کرنا چاہتیں عوام اور وہ بھی غریب عوام جائیں بھاڑ میں! ان سے ان کو کیا دلچسپی ہے بجز اسکے کہ الیکشن کے دنوں میں تھوڑے دنوں کیلئے الیکشن مہم میں وہ ان کو یاد آتے ہیں اور وہ بھی چند روز کیلئے‘ بجٹ عوامی صرف اس صورت میں کہلائے گا اگر حکومت اس میں اس طبقے پر بھاری ٹیکس لگائے اور نہ صرف ٹیکس لگائے بلکہ بے رحمانہ طور پر اس سے وصول بھی کرے کہ جو کئی کئی کنالوں پر محیط محل نما بنگلوں میں رہتے ہیں جن کے تصرف میں مرسڈیز‘ بی ایم ڈبلیو‘ لینڈ کروزر یا اسی قسم کی مہنگی ترین گاڑیاں ہیں جن کے بچے ان نجی تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں کہ جن کی ماہانہ فیس اس ملک کے عام آدمی کی ماہانہ آمدنی سے دس گنا زیادہ ہے جو ہر سال ہوائی جہازوں کی بزنس کلاس یا فرسٹ کلاس میں کئی کئی مرتبہ مشرق وسطیٰ‘ یورپ اور امریکا کے چکر لگاتے ہیں۔

جو اپنا علاج ملک سے باہر مہنگے ترین نجی ہسپتالوں میں کراتے ہیں ان لوگوں کی ہر چیز دستاویزی ہے ان پر تو فی الفور ٹیکس لگ سکتا ہے کسانوں کی حالت زار پر ہم نے ہر حکمران ہر سیاسی رہنما کو ٹسوے بہاتے دیکھا پر کسی میں بھی یہ ہمت نہ دیکھی کہ وہ ملک کے اندر انقلابی زرعی اصلاحات کرکے کسی بھی لینڈ لارڈ کے پاس 25 ایکڑ نہری اور 50 ایکڑبارانی زمین سے زیادہ اراضی نہ چھوڑے اور ان کی باقی ماندہ تمام زمینیں قومیا کر انہیں بے زمین کسانوں ‘ہاریوں اور مزارعین میں تقسیم کردے سیاسی رہنما اور حکمران خدا کا شکر بجالائیں کہ اس ملک کے عوام یا تو صابروشاکر ہیں اور یا پھر اتنے سادہ لوح کہ وہ اپنے چاروں طرف ناانصافیاں دیکھ کر بھی خواب خرگوش سے بیدار نہیں ہوتے اور ہر الیکشن میں اپنے اوپر انہی لوگوں کو چار چار سال کیلئے مسلط کردیتے ہیں جو معاشی مساوات پر یقین ہی نہیں رکھتے صرف نعرے کی حد تک وہ مساوات مساوات کی بات کرتے ہیں پچھلے بجٹ کی طرح ایک مرتبہ پھر وزیر خزانہ اپنی بجٹ تقریر میں قوم سے وعدہ کرینگے کہ وہ آئندہ برس اپنے غیر ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کرینگے پچھلے سال بھی انہوں نے یہی وعدہ کیا جو وفا نہ ہوسکا اور نہ آئندہ ہوگا سنگ مرمر کے مکانوں میں رہنے والے بھلا مٹی کے گھروں میں رہنے والو ں کے مسائل کیا جانیں۔