بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / تین طلاق پر پابندی کے مسلم خواتین پر منفی اثرات

تین طلاق پر پابندی کے مسلم خواتین پر منفی اثرات


نئی دہلی۔ جماعت اسلای ہند کے امیر اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر مولانا سید جلال الدین عمری نے کہا ہے کہ تین طلاق پر پابندی سے مسلم خواتین پر مثبت اثرات مرتب نہیں ہوں گے،مسلم معاشرے میں طلاق کا مسئلہ اتنا بڑا نہیں ہے جتنا کہ بھارت میں بتایا جا رہا ہے،پابندیوں سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوں گی اور خواتین کا وقار زد میں آئے گا، اعداد و شمار سے ثابت ہے کہ مسلمانوں میں طلاق کا تناسب بہت کم ہے ، گائے اور ملکی ثقافت کے تحفظ کے نام پر بھارت میں بے گناہ شہریوں کو تشدد کا نشانا بنایا جا رہا ہے، حکومت ملک میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی عائد اور گائے کو قومی جانور تسلیم کرنے کا اعلان کرے۔جماعت اسلامی ہند کے ماہانہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے مولانا عمری نے کہا کہ تین طلاق کو کا لعدم قرار دیا جاتا ہے تو بھی اگر کوئی اپنی بیوی کو پریشان کرنا چاہے تو ان پابندیوں کے باوجود وہ ایسا کر سکتا ہے اور انہیں ازدواجی حقوق سے محروم کر سکتا ہے۔

ان پابندیوں سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوں گی اور خواتین کا وقار زد میں آئے گا۔ مولانا عمری نے واضح طور پر اپنے الفاظ دہرائے کے مسلم معاشرے میں طلاق کا مسئلہ اتنا بڑا نہیں ہے جتنا کہ بتایا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار سے ثابت ہے کہ مسلمانوں میں طلاق کا تناسب بہت کم ہے اور شور ایسا کیا جا رہا ہے جیسا کہ ہر گھر سے طلاق طلاق طلاق کی آوازیں آ رہی ہوں۔مولانا نے اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ پورے ملک میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی عائد کرتے ہوئے گائے کو قومی جانور تسلیم کرنے کا اعلان کرے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پابندی ملک گیر ہونی چاہئے اور گائے جس حالت میں بھی ہو اس کے ساتھ بہتر سلوک کیا جائے۔ انہوں نے جمعی العلما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کے اس سلسلے میں کئے گئے مطالبے کی پرزور حمایت کی۔

واضح رہے کہ مولانا مدنی نے حکومت سے اپیل کی تھی کہ وہ گائے کوقومی جانورقرار دے اور اس کے ذبیحے پر ملک گیر پابندی عائد کرے تاکہ گو کشی کے نام پر کی جانے والی غنڈہ گردی بند ہو۔ مسلم پرسنل لا بیداری مہم کے کنوینر محمد جعفر نے میڈیا کو بتایا کہ جماعت اسلامی ہند کے زیر اہتمام پندرہ روزہ کل ہند مسلم پرسنل لا بیداری مہم کامیابی کے ساتھ اختتام پزیر ہوئی۔ ملک کے کئی شہروں میں کاونسلنگ سنٹرس اور شرعی پنچایتیں قائم کی گئیں۔ مہم کے دوران جماعت 14.5کروڑ لوگوں تک پہنچنے میں کا میاب ہوئی۔امیر جماعت اسلامی ہند مولانا عمری نے کہا کہ گائے اور بھارتی ثقافت کے تحفظ کے نام پر ملک میں جس طرح سے بے گناہ شہریوں کو تشدد کا نشانا بنایا جا رہا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ امن و امان قائم رکھنے والی مشینریاں پوری طرح ناکام ہو گئی ہیں ۔ سماج دشمن عناصر کے ذریعہ ملک بھر میں پھیلائی جا رہی لا قانونیت اور انتشار پر انہوں نے اپنے غم و غصے کا اظہارکیا ۔ انہوں نے کہا کہ ان بد معاش عناصر کے حوصلے اتنے بلند ہیں کہ پولیس اہلکاروں پر تھانوں کے اند ر ہی حملے کر رہے ہیں۔