بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / نیوزلیکس بارے حکومتی جواب غیر تسلی بخش قرار

نیوزلیکس بارے حکومتی جواب غیر تسلی بخش قرار


اسلام آباد۔ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے سینیٹ اجلاس کے دوران ڈان لیکس سے متعلق حکومتی جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیدیا ہے۔جمعہ کو چیئرمین میاں رضا ربانی کی سربراہی میں سینیٹ کا اجلاس ہوا ٗجس میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں وہ شخص ہوں جس نے 4 ملٹری ڈکٹیٹرز کے خلاف جنگ لڑی، ہم نے ملٹری ڈکٹیٹرز کا سامنا کیا اور پرویزمشرف کو بھگایا جبکہ وزیراعظم کے احکامات میجرجنرل نے مسترد کیے تو سب سے پہلے میں بولا، میں نے ایک گھنٹے کے اندر متعلقہ ٹویٹ پر جواب دیا۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں میں اپنے موقف پر قائم ہوں ۔

جبکہ ڈان لیکس سے متعلق 10 روز بعد آنے والے نوٹیفیکیشن میں کچھ نہیں۔ اعتراز احسن نے کہاکہ پرویز رشید شریف النفس ہیں انہوں نے اپنی زبان روک رکھی ہے جبکہ وزیراعظم کہتے ہیں میں دوستوں کو کبھی نہیں چھوڑتا ٗمشاہداللہ خان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔اعتزاز احسن نے کہا کہ خبر اگر لیک ہے تو درست نہیں تاہم اگر کچھ بھی نہیں تھا تو خطرناک بات ہے، حکومت نے اس معاملے میں 3 بکرے قربان کردئیے ٗ پرویزرشید اور طارق فاطمی ایسا نہیں کرسکتے تاہم راؤ تحسین کو میں نہیں جانتا، ایسے اشخاص کو قربانی کا بکرا بنا رہے ہیں جو میٹنگ میں تھے ہی نہیں جبکہ وزراء کے بیان بھی آپس میں نہیں ملتے۔ انہوں نے کہا کہ شیخ آفتاب محنتی وزیر ہیں ان کی بھی جلد چھٹی ہوجائے گی لیکن معذرت کے ساتھ اس معاملے میں ہم وزیر پارلیمانی امور کو نہیں سنیں گے،شیخ آفتاب کی بہت عزت کرتے ہیں لیکن وہ بحث نہیں سمیٹیں گے جبکہ ڈان لیکس معاملے پر دونوں فریقوں کو پارلیمنٹ آنا چاہیے۔

قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ ڈان لیکس میں فوجی قیادت نے سول قیادت کے آئینی کردار کو تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج اس وقت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے اور ہر شہر اور ہر گلی میں دہشتگردوں کے خلاف جنگ ہو رہی ہے ٗان حالات میں فوج کا مورال بلند رہنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ہی سپریم ادارہ ہے ٗڈان لیکس کی انکوائری کے حوالے سے رپورٹ کی سفارشات پارلیمنٹ میں پیش کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام ادارے سول حکومت کے ماتحت ہیں اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے کہا کہ یہ کسی کی جیت اور ہار نہیں ٗپارلیمنٹ ہی سپریم ہے لیکن جمہوریت کو تقویت ملی ہے اور ہمیں اب اس معاملے کوختم کردینا چاہیے۔

نجی ٹی وی کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے شیخ آفتاب کے بیان پراظہاربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا استحقاق ہے کہ وہ کسی بھی وزیر کو بھیجے تاہم چوہدری نثار کوسینٹ کے اجلاس میں ہونا چاہیے تھا ٗمعذرت کے ساتھ آپ کے جواب سے مطمئن نہیں، پریس ریلیز میں شامل دو فریقین کا کیا مطلب ہے، آئین کا مذاق نہ اڑایا جائے، اس معاملے پر میں قائد ایوان، قائد حزب اختلاف اور پارلیمانی لیڈرز کو اعتماد میں لوں گا۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ ڈان لیکس ایک سنجیدہ مسئلہ تھا ٗ اتنے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی خبر لیک ہونا سیکیورٹی کے لحاظ سے بھی تشویش کا معاملہ تھا تاہم اس معاملے کو فوج اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کی بحالی کیلئے بہت قربانیاں دی گئیں۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو جلا وطن بھی ہونا پڑا پھر انہوں نے لندن میں بیٹھ کر ایک معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں ہی سابق حکومت نے بھی اپنی مدت پوری کی اور موجودہ حکومت بھی اپنی مدت پوری کرنے جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اندرونی اور بیرونی قوتیں نظام کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتی ہیں لیکن ہمارے اداروں نے محسوس کرلیا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے تابع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سمیت ہر کوئی پارلیمنٹ کو جواب دہ ہے اسی لئے پارلیمنٹ ہی سپریم ادارہ ہے۔ ڈان لیکس کا معاملہ حل ہونے سے جمہوریت مضبوط ہوئی ہے۔

یہ کسی کی جیت یا ہار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں اور اداروں نے مل کر ملک کو بحران سے نکالنا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈان لیکس کے معاملے کا بہتر اور جمہوری انداز میں حل سامنے آیا ہے۔ جمہوریت کے پیچھے بہت قربانیاں ہیں۔ قانون اور آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کے لئے اس بحث کو اب ختم ہو جانا چاہیے۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ اداروں کا آپس میں مل کر مسائل حل کرنا جمہوریت کی خوبصورتی ہے‘ اپوزیشن کی طرف سے بھی ڈان لیکس کا معاملہ حل ہونے کو سراہا جانا چاہیے۔ اس طرح ادارے مضبوط ہوتے ہیں۔ ڈان لیکس کا معاملہ حل ہونا کسی کی فتح یا شکست نہیں ہے بلکہ آئین اور قانون کی بالادستی قائم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی حالات کا تقاضا ہے کہ تمام اداروں کو مل بیٹھ کر آپس کے معاملات حل کرنے چاہئیں۔