بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پشاور میں قیمتی سرکاری اراضی سکینڈل کی تحقیقات مکمل

پشاور میں قیمتی سرکاری اراضی سکینڈل کی تحقیقات مکمل


پشاور۔قومی احتساب بیورو خیبر پختونخوا نے پشاور میں مریم زئی اور ٹکڑا ون میں قیمتی سرکاری اراضی کی جعلی انتقالات کی سکینڈل کی تحقیقات مکمل کر لی ہے اور محکمہ مال کے دو سابق ڈپٹی ڈسٹرکٹ ریونیو آفیسرز،دو سابق تحصیلدار ،تین سابق پٹواریوں ،ایک گردوار،سیٹلمنٹ ڈیپارمنٹ کے دو اہلکاروں سمیت 18 افرادکے خلاف ڈیڑھ ارب روپے سے زائد مالیت کاریفرنس احتساب عدالت میں دائر کر دیا ہے۔

ریفرنس میں کل 36گواہان ہیں نیب کے تفتیشی آفر کے مطابق ریفرنس مین میں نامزد ملزمان سابق ڈپٹی ڈسٹرکٹ ریونیو آفیسرز نوید قادراور راج بہادر ، سابق تحصیلدار سید مسعود شاہ اور فضل حسین ، ٹکڑا ون اور سنگو کے پٹواریوں محمد سعید، تلاوت خان اور خورشید ، گرد آور سید مسعود شاہ، سیٹلمنٹ ڈیپارمنٹ کے کلرک رحمت سعید اور ریکارڈ کیپر آفیسر پیر اعظم اور پنجاب میں ٹیکسلا ، سیالکوٹ اور نارووال کے رہائیشیوں جاوید اقبال عبد الرؤف ، مقصدہ بیگم ،روبینہ کوثر،ریحانہ ، مقبول بیگم ، خوشنود بی بی اور محمد منیر چوہدری پر الزام ہے کہ انہوں نے ملی بھگت سے 1995میں مریم زئی ، نوتھیہ اور ٹکڑا ون پر 91کنال اور 8مرلے سرکاری زمین کو جعلی کاغذات پر نتقال کیا تھا جس سے سرکاری خزانے کو 1.54بلین روپے نقصان پہچایا گیا ہے ۔ نیب نے مذکورہ سکینڈل کی تحقیقات مکمل کر دی اور ملزمان کے خلاف ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کردیا ہے۔