بریکنگ نیوز
Home / کالم / میں اپنی جہالت کا اقرار کرتاہوں

میں اپنی جہالت کا اقرار کرتاہوں

جی ہاں ہر چار پانچ ماہ کے بعد مجھے شدت سے احساس ہوتا ہے کہ میں ایک جاہل اور بے خبر شخص ہوں، کوئی ایک ایسا ادیب دریافت ہوجاتا ہے جس کی تحریر پڑھ کر میں حیرت اور تاسف کے سمندر میں ڈوب جاتا ہوں کہ اتنی عمر بیت گئی اور میں اب تک اس نابغۂ روزگار ادیب کے وجود سے بھی بے خبر تھا اور تم اپنے آپ کو بین الاقوامی ادب سے آگاہ سمجھتے رہے۔ کیسے جاہل ہو۔۔ میں پچھلے چھ ماہ سے بالکل بے کار اور فارغ بیٹھا ہوں یعنی میری سٹڈی ٹیبل بانجھ پڑی ہے، اس پر کسی ناول یا سفرنامے کا ظہور نہیں ہوتا۔۔ چنانچہ فراغت اور فرصت کے یہ رات دن میں پڑھنے میں بسر کرتا ہوں۔ لاہور کے ادیب جب سے پاک ٹی ہاؤس کی وفات ہوئی ہے، گمشدہ گائیوں کی مانند دربدر ہوتے ہیں، کبھی کسی ایک ٹھکانے پر اکٹھے ہوتے ہیں اور کبھی کسی اور مقام کو گھر بناکر اسے پاک ٹی ہاؤس میں بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔ ناصر باغ کے ’’چوپال‘‘ میں۔۔ ایوان اقبال کے تہہ خانے میں، نیرّ علی دادا کے نیرنگ ریستوران میں اور کبھی الحمرا کی ادبی بیٹھک میں لیکن وہ بات جو شاید مولوی مدن سے منسوب ہے، اب تک نہیں بنی۔انہی دنوں ایک اور مختصر ساٹھکانہ وجود میں آیا۔ گلبرگ کے مین بلیوارڈپرواقع کتابوں کی ایک جدید شکل کی دکان ’’ریڈنگ‘‘ جس کے پہلو میں ایک مختصر سے کیفے میں چند ادیب کچھ عرصے سے پناہ گزین ہو رہے ہیں۔

۔ ’’ریڈنگ‘‘ کے کرتا دھرتا ڈاکٹر ناصر کے بارے میں شنید ہے کہ موصوف ڈاکٹری سے زیادہ شعر وادب میں غرق رہتے تھے اور صرف یہ ثابت کرنے کیلئے کہ پاکستان میں لوگ کتابیں پڑھتے ہیں، اگر قیمت مناسب ہو تو خریدتے ہیں، انہوں نے ’’ریڈنگ‘‘ کی داغ بیل رکھی اور یہ ان دنوں سنگ میل کے نئے شو روم کے علاوہ لاہور میں سب سے زیادہ دل پسند کتابوں کی دنیا ہے۔ مختصر کیفے میں ہر جمعرات کی شام کو بھانت بھانت کے ادیب، شاعر، فوٹو گرافر، فلم میکر اور اسی نوعیت کے مخبوط الحواس حضرات جمع ہوتے ہیں۔ اور ان میں سے اکثر صرف محمد سلیم الرحمن کی موجودگی سے کچھ سیکھنے کی خاطر جمع ہوتے ہیں اس محفل میں سلیم صاحب کے علاوہ شاہد چیمہ، ذوالفقار تابش، سلیم گیلانی، محمد کاظم، ریاض چوہدری وغیرہ اکثر پائے جاتے ہیں بلکہ کراچی سے اگر آصف فرخی آئے یا ہندوستان سے شمس الرحمن فاروقی تو وہ بھی محمد سلیم الرحمن کے گھٹنے چھونے کیلئے یہاں حاضری دیتے ہیں۔ اگرچہ سلیم کا انداز نشست کچھ اتنا پیچیدہ ہے کہ ان کے گھٹنے تلاش کرنا ایک خطرناک عمل ہے کہ ہر چند کہاں ہیں اور کہاں نہیں ہیں۔ میں بھی ایک جمعراتی ہوں اور ادھر جاہی نکلتا ہوں۔ ایک روز ڈاکٹر ناصر نے مجھ سے پوچھا کہ تارڑ صاحب آپ نے امیتابھ گھوش کو پڑھاہے تو میں نے کہا کہ نہیں۔۔ میں تو ایک ہی امیتابھ کو جانتا ہوں جس کی اداکاری اس کی آنکھوں کی مانند مردہ اور بے روح ہے۔ڈاکٹر ناصر نے مجھے اس امیتابھ کا ناول ’’سی آف پاپیز‘‘ یعنی ’’گل لالہ کا سمندر‘‘ مفت میں پیش کر دیا اور اس گل لالہ کے سمندر نے مجھے غرق کر دیا۔میں کسی ایسے ادبی سنگھاسن پر تو براجمان نہیں جہاں بیٹھ کر ادبی فیصلے سنا سکوں یا فتوے جاری کرسکوں لیکن امیتابھ گھوش، برصغیر کے ان تمام ناول نگاروں کو پچھاڑ دیتا ہے جو انگریزی میں لکھتے ہیں۔۔ ’

’سی آف پاپیز‘‘ ایک ٹراؤلی جی ہے جس کا دوسرا حصہ ’’رور آف سموک‘‘ یعنی ’دھویں کا دریا‘‘ میں ان دنوں پڑھ رہا ہوں، گھوش کے دو اور ناول ’’دی گلاس پیلس‘‘ اور ’’دی ہنگری ٹائڈ‘‘ میں پڑھ چکا ہوں اور اس کا شیدائی اور مرید ہوچکا ہوں۔ وہ ان دنوں نیویارک میں قیام پذیر ہے اور اگر میں اگلے برس نیو یارک میں ہوا تو اسے تلاش کرکے ایک مداح کے طورپر اس کے گھٹنے چھوؤں گا اور میں امید کرتا ہوں کہ محمد سلیم الرحمن کی مانند اس کا اندازِ نشست اتنا پیچیدہ نہ ہوگا کہ اس کے گھٹنے دستیاب نہ ہوسکیں۔ابھی میں گھوش سے سنبھلا نہ تھا کہ ایک شب ڈاکٹر ناصر نے اپنی شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا کہ تارڑ صاحب آپ نے ہارو کی موراکامی کو پڑھا ہے۔۔ جاپانی ناول نگار ہے اور اسے ادب کا نوبل انعام ملنے میں دیر تو ہے پر اندھیر نہیں۔ میں نے جاپان کے کاوا باٹا کے علاوہ صرف یوکیو مشیماکو پڑھا تھا اور وہ میرے پسندیدہ ناول نگاروں میں سے تھا۔ میں نہ صرف اس کی تحریر کا شیدائی تھا بلکہ جس طور اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ جاپانی فوج کے ایک ہیڈ کوارٹر پر قبضہ کرلیا تھا اور پھر باراکیری کرکے اپنے اپ کو ہلاک کر لیا تھا، میں اس کی اس جرأت رندانہ کا بھی مداح تھا۔۔ اس کے ناولوں میں خودکشی کے ساتھ ایک رومان کی فضا محسوس کی جاسکتی تھی۔مثلاً وہ خودکشی کی رومانی توصیف کرتے ہوئے اپنے ایک ناول میں لکھتا ہے کہ اگر ایک ناتواں اور بیمار شخص یا حالات سے تنگ آیا ہوا مجبور شخص خودکشی کرتاہے تو یہ عمل محض اپنے آپ کو مجبوری کے تحت ہلاک کردینا ہے خودکشی کی خوبصورتی تو یہ ہے کہ ایک انسان ایک آسودہ اور مطمئن زندگی بسر کرتا ہو۔ اور وہ مکمل طورپر صحت مند ہو اور اس کا بدن ایک یونانی دیوتا کی مانند متناسب اور خوبصورت ہو اور وہ تب اپنے آپ کوہلاک کرڈالے۔ یعنی ایک بوسیدہ مکان کو ڈھانے سے کچھ فائدہ نہیں۔ اگر مسمارکرنا ہے تو ایک تاج محل کو کرے۔۔

مشیما نے اپنی اس سوچ پر عمل کرتے ہوئے اپنے بدن کو متناسب اور خوبصورت کیا اور بین الاقوامی شہرت حاصل کرنے کے بعد ہاراکیری کا خنجر اپنی ناف میں داخل کرکے اسے اپنے دل تک لے گیا۔ہارو کی موراکامی اپنے ہم وطن مشیما سے بے حد مختلف ہے۔۔ اس کا ناول ’’نارویجن وُڈ‘‘ ایک انوکھی محبت کی کہانی ہے۔ اس کا ’’وائنڈ اپ برڈ کرانیکل‘‘ ایک عجیب تخیلاتی دُھند میں ڈوبی داستان ہے اور ’’کافکا آن دے شور‘‘ آپ کو پریشان کر دیتا ہے۔ اور ایک مرتبہ پھر میں نے اپنے آپ کو جاہل گردانا کہ میں آج تک اس جاپانی ناول نگار کے وجود سے واقف ہی نہ تھا۔۔ ہو سے سراماگو کے بعد ایک مرتبہ پھر۔۔ ارحان پاموک، امیتابھ گھوش اور ہاو کی موراکاری کے ناولوں کو پڑھنے کے بعد میں اپنی تمام کتابیں جلا دیناچاہتا تھا۔۔ نہ صرف میں بلکہ اردو کے بڑے ناول نگار ان دونوں کی گرد تک بھی نہ پہنچ سکتے تھے۔تو ہر چار پانچ ماہ بعد مجھ پر انکشاف ہوتا ہے کہ میں ایک جاہل شخص ہوں۔۔ کیا اردو کے دیگر ناول نگاروں پر بھی یہ انکشاف ہوتا ہے یا نہیں۔ اگر نہیں ہوتا تو انہوں نے پاموک، گھوش اور ہارو کی کے ناول نہیں پڑھے۔