بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / دوماؤں کے بیچ

دوماؤں کے بیچ

یوں محسوس ہورہاہے کہ وطن عزیز ان دنوں دوماؤں کے بیچ میں پس رہاہے ایک طرف کلبھوشن یادیو کی بھارت ماتاہے جس سے آج تک پاکستان کا وجود برداشت نہیں ہورہا اور اسکے لئے اس نے اب پاکستان کو ہر طرف سے گھیرے میں لینے کی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے تاہم ابھی تک اسے پاکستا ن کو سیاسی وسفارتی محاذوں پر تنہا کرنے کی کوششوں میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے دوسری طرف افغانستان پر امریکہ کی طرف سے پھینکی جانے والی بموں کی ماں ہے جس نے پورے خطے میں تشویش کی لہر دوڑادی ہے جس کے بعدایک مرتبہ پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے بحث بھی شروع ہوچکی ہے انکو اپنے ہی ملک کے عوام ناپسندیدہ کے علاوہ خطرناک بھی قرار دے چکے ہیں اب سوچنے کا مقام یہ ہے کہ خطرناک صدر کے کنٹرول میں خطرناک ہتھیارہوں تو کیا ہوگا؟ ٹرمپ کی بد دماغی کے پیش نظر یہ سوال بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں کھلبلارہاہوگا اور آخراسکا جواب تیرہ اپریل کو افغانستان پراس سب سے بڑے بم کے حملے سے مل گیاہے اس بم حملے کے حوالے سے بڑے دعوے کئے گئے مگر حقیقت تویہ ہے یہ حملہ داعش کاکچھ بھی بگاڑ نہیں سکا کیونکہ بتایاجاتاہے کہ افغان فورسزمیں موجودداعش کے بعض ہمدردوں نے حملے سے قبل ہی جنگجوؤں کو خبردارکردیاتھاجسکے بعد اس بم نے صرف پہاڑوں کو چھلنی اور فضا کو زہریلا بنادیا جس کاخمیازہ عام افغان ہی بھگتیں گے بھارت نے کلبھوشن کو سزائے موت سنائے جانے کے بعدسے بظاہرپاکستان کیخلا ف اپنے دو اہم اتحادیوں افغانستان اورایران کیساتھ مل کر سازشوں کاجو سلسلہ شروع کررکھاہے۔

چمن میں ہونے والے حملے اور ایران کی طرف سے دی جانے والی دھمکی کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے گو یاایک طرف کلبھوشن کی ماں بھارت بے چین و بے قرار ہے تو دوسری طرف ا مریکہ نے بموں کی ماں کے حملے کے ذریعے خطرے کی گھنٹی بجا رکھی ہے اس صورت حال میں پہلی مرتبہ ہماری سیاسی و عسکری قیادت نے ایک ہی صف میں کھڑے ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے دو بڑے اوراہم وفودافغانستان بھجواکر تناؤ کوکم کرنے کی کافی حد تک کوشش کی پہلے ڈی جی آئی ایس آئی افغانستان گئے ان کے بعدسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں بھاری بھرکم پارلیمانی وفدبھی کابل پہنچا جس میں اوروں کے علاوہ آفتاب شیرپاؤ‘غلام بلور‘اچکزئی بھی شامل تھے اس وفدنے افغان قیادت کیساتھ ملاقات کرکے اعتمادکی فضاکی بحالی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے مشترکہ کوششوں پرزور دیا مگر دوسری طرف سے رویہ خاصا سردمہری پر مبنی رہا اور اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ یقین دہانی کے باوجوداشرف غنی نے دورہ پاکستان سے انکارکردیا ہے جس کی تو ضیح پھر ہمارے رہنما یہ کررہے ہیں کہ اشرف غنی وزیراعظم نوازشریف کے دورہ کابل کے بعد پاکستان آئیں گے جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے تو بھارتی کیمپ میں ہونے کی وجہ سے اس کارویہ پاکستان کے حوالے سے ہمیشہ معاندانہ ہی رہاہے اورہماری بدقسمتی یہ ہے کہ خودہمارے بعض قوم پرست حلقے افغانستان کے کیس میں اپنے ہی ملک کو موردالزام ٹھہرانے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسو س نہیں کرتے ،ہمارے یہ کرم فرما پاک افغان تعلقا ت کو ہمیشہ روسی حملہ کے بعد کے دور کے تناظر میں ہی دیکھتے ہیں۔

اسی لئے ان کو پھر قیام پاکستان سے لے کر روسی یلغار تک کا عرصہ نظر نہیں آتا جب افغانستان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت کی اورپھربھارت اورسوویت یونین کیساتھ گٹھ جوڑ کرکے افغان سرزمین کو ہمارے باغیوں کے لئے محفوظ پناہ گا ہ بنادیاگیا گویا ابتدائی تین عشرے تک تو افغانستان کوہمارے خلاف بیس کیمپ کے طورپر استعما ل کیاگیا پھر جب پاکستان نے سوویت یونین کاراستہ روکنے کے لئے سرگرم کردارادا کیا تو اس پراعتراضات اٹھائے جانے لگے مگرحیرت ہے کہ جب اسی افغانستان پر امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ حملہ آور ہوا تو کسی قوم پرست کی طر ف سے اسکی مخالفت سامنے نہ آسکی جب امریکہ روس کے خلاف افغانستان میں لڑرہاتھا تو ہمارے بعض رہنما امریکہ کو جارح فریق قرار دیا کرتے تھے مگر جب یہی امریکہ براہ راست حملہ آورہوا تو سب کوچپ لگ گئی ہے آج بھی افغانستان کی طرف سے جب کبھی پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی ہوتی ہے تو مخصوص حلقے میڈیا پر آکر اپنے ہی ملک کو مورد الزام ٹھہرانے کا فریضہ انجام دیکر وظیفہ خور ی کاحق ادا کرنے لگتے ہیں مگر جب افغانستان کی طرف حملہ کرکے ہمارے بے گناہ شہریوں کو شہید کیاجاتا ہے تو پھر ان کے لب سل جاتے ہیں گویا پاکستان کو یک و تنہا کرنے کی اس مہم میں ہمارے یہ کرم فرما بھی شریک ہیں ا س روش کی حوصلہ شکنی بہت ہی ضروری ہے دوسری طرف پاکستان کی طرف سے خیرسگالی کے جذبے کا جو اظہا ر کیاجارہاہے اس کی ستائش بھی ضروری ہے بلیم گیم کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارت ہے اور جب تک افغان حکمران بھارت کے اثر سے آزادنہیں ہونگے خطے میں قیا م امن کے لئے پاکستان کی کوششیں یکطرفہ ہی ثابت ہوتی رہیں گی۔