بریکنگ نیوز
Home / کالم / قوم کیا چاہتی ہے

قوم کیا چاہتی ہے

قوم نے ایک فیصلہ کیا اور ایک بڑی اکثریت سے ایک پارٹی کو پانچ سال کے لئے حکومت کرنے کا اختیار دیا۔کچھ پارٹیاں یہ اختیار نہ لے سکیں اس لئے کہ عوام نے ان کو اکثریت نہیں دی جس کے نتیجے میں مرکز میں مسلم لیگ ن کو بغیر کسی مدد کے حکومت کرنے کا اختیار مل گیااسی طرح صوبائی سطح پر سندھ میں پیپلز پارٹی کو بغیر شرکت غیرے حکومت کا اختیا رمل گیا۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں تعدادی لحاظ سے تحریک انصاف کو عددی برتری تو تھی مگر وہ اکیلے حکومت بنانے کے قابل نہیں تھی مگر مرکز نے مداخلت نہیں کی اور یوں تحریک انصاف کی حکومت دوسری جماعتوں سے مل کر بن گئی۔بلوچستان کی صوبائی حکومت بھی مسلم لیگ اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے مل کر بنا لی اور ابھی تک یہ حکومتیں بغیر کسی رکاوٹ کے چل رہی ہیں۔البتہ مرکز میں گو مسلم لیگ ن کی اکثریت ہے مگر جب سے یہ حکومت بنی ہے تحریک انصاف نے مسلسل روڑے اٹکانے کی کوشش کی ہے پہلے دھاندلی کے الزام میں دھرنے وغیرہ دیئے گئے مگر جب بات عدالتوں تک پہنچی تو معلوم ہو اکہ تحریک انصاف مفروضوں پر حکومت کے خلا ف تحریکیں چلا رہی ہے۔

اس تحریک میں تحریک انصاف کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ وزیر اعظم جناب میاں نواز شریف استعفیٰ دیں اور کوئی اور حکومت کرے۔مگر کیا کیا جائے کہ میاں نواز شریف اس پارٹی کے لیڈر ہیں جس نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے اور جمہوریت کی بات کی جائے تو یہ اس پارٹی کا حق ہے کہ پانچ سال تک حکومت کرے اور اگر آئندہ الیکشن میں قوم نہیں چاہتی تو ان کی پارٹی کو کامیاب نہ ہونے دے اور کسی دوسری پارٹی کو حق حکمرانی دے دے۔رہا کسی کے دیانت دار ہونے نہ ہو نے کا سوال تو جناب شہر میں کون ایسا پارسا ہے کہ اسے حکومت کی باگ ڈور تھمادی جائے۔مسلم لیگ ن چاہے کتنی بھی بد دیانت ہو عوام نے اس کو پانچ سال کیلئے چنا ہے اب اس کو پانچ سال پورے کرنے دیں اور اس کے بعد کوشش کریں کہ یہ پارٹی بر سر اقتدار نہ آئے۔ جو ’’حربے ‘‘ یہ پارٹی استعمال کرتی ہے اور دوسروں کو اس کا معلوم ہے تو آئندہ الیکشن میں وہی حربے حزب اختلاف استعمال کرے تاکہ وہ کامیاب ہو جائے ۔ رہا سوال عوام کا تو ہم تو کافی مدت سے متلاشی ہیں کہ کہیں ہمیں مل جائے مگر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ ویسے تحریک انصاف کی زبانی روز سنتے ہیں کہ عوام یہ دیکھنا چاہتی ہے اور عوام وہ دیکھنا چاہتی ہے مگر ہم نے کبھی بھی عوام کو نہ دیکھا ہے اور نہ یہ کہتے سنا ہے کہ جس حکومت کو انہوں نے چنا ہے اُس کو ہٹا دیا جائے۔ ابھی ابھی ایک دو ایسے ایشو آئے ہیں کہ جن میں حکومت کو ملوث قرار دیا گیا ہے مگر عدالت کا فیصلہ کچھ اور ہی کہتا ہے۔

اب ہمیں معلوم نہیں کس کی مانیں ۔ پانامہ کے بعد ایک او ر معاملہ حکومت اور فوج کے درمیان آیا کہ ایک میٹنگ کی کاروائی بغیر کسی پریس ریلیز کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی جس پر فوج نے برہمی کا اظہار کیا کہ ایک میٹنگ جس کے منٹس پریس کو دیئے ہی نہیں گئے وہ کیسے اخبار کی زینت بن گئے۔اس میں کتنا کچھ حکومت یا فوج کے خلاف تھا یہ الگ بات ہے مگر فوج کو اس بات پر تشویش تھی کہ بغیر کسی فیصلے پر پہنچے ہوئے خبر کیسے لیک ہو گئی۔ تو بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا کے مصداق یہ خبر تحریک انصاف اور اب ان کے ساتھ نئی ملنے والی پارٹی پی پی پی کے لئے تشویش کا سبب بنی۔ حکومت نے اس خبر کو نہ رکوانے پر اپنے وزیر اطلاعات پرویز رشید صاحب کو معطل کر دیا اور انکوائری شروع کر وا دی ۔

انکوائری دو کمیٹیوں نے کی اور ان کے متفقہ فیصلے کے مطابق جو جو ایکشن حکومت نے لینا تھا لیا اور اس پر دونوں فریق یعنی فوج اور حکومت مطمئن ہیں مگر ’’ عوام ‘‘ مطمئن نہیں ہیں اس لئے کہ اس میں محترمہ مریم نواز کا کہیں ذکر نہیں تھا۔جبکہ ان دونوں پارٹیوں( عوام) کے مطابق محترمہ مریم نواز اس کا مرکزی کردار ہیں۔ خیر اپنی اپنی سوچ ہے ہمارے ہاں کسی کی بیٹی کا بھی سر عام نام نہیں لیا جاتا اس لئے کہ ہمارے ہاں کہتے ہیں کہ ہر بندہ ماں بہن رکھتا ہے۔اس لئے کسی کی ماں بہن یا بیٹی کاسر عام نام نہیں لیا جاتا مگر کیا کریں ہمارے ہاں کی سیاست اتنی بے رحم ہے کہ اس میں کسی کی ماں بہن کی کوئی عزت نہیں ہے۔ہم نہیں چاہتے کہ کسی پر بے جا الزام لگایا جائے اور خصوصاً کسی کی ماں بہن پر۔اور جب دو کمیٹیوں نے اپنی تفتیش میں محترمہ مریم نواز کو اس کیس میں ملوث نہیں پایا تو پھر کسی پارٹی کے لیڈر یا جناب اعتزاز احسن کو کس نے حق دیا ہے کہ وہ کسی کو نامزد کرتے پھریں۔