بریکنگ نیوز
Home / بزنس / پاکستان اور چین کے مابین 7معاہدوں پر دستخط

پاکستان اور چین کے مابین 7معاہدوں پر دستخط

بیجنگ۔وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی کی چیانک سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں ان ملاقاتوں میں چین نے کھل کر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے جبکہ پاکستان اور چین نے مختلف معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی چوہدری احسن اقبال اور دیگر وفاقی وزراء نے سمجھوتوں پر دستخط کیے دونوں ممالک کے درمیان سات معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ان معاہدوں کے تحت دونوں ملک سلک روڈ اکنامک بیلٹ کے فریم ورک کے تحت تعاون کریں گے۔گوادر ایئر پورٹ کی تعمیر کا معاہدہ بھی طے پا گیا ہے اور اسی سال ایئر پورٹ کی تعمیر شروع ہو جائے گی۔

ایم ایل ون شاہراہ کو اپ گریڈ کیا جائے گا جبکہ حویلیاں میں ڈرائی پورٹ قائم کیاجائے گا۔چین پاکستان کو ریمورٹ سینسنگ سیٹلائٹ کے لیے رعایتی قرضہ دے گا جبکہ ایسٹ بے ایکسپریس وے کے لیے معاشی و تکنیکی تعاون بھی فراہم کیا جائیگا۔اس سے قبل وزیراعظم نواز شریف کی چینی وزیراعظم سے ملاقات ہوئی چینی وزیراعظم نے نواز شریف کو ون بیلٹ ون روڈ فورم میں شرکت پر خوش آمدید کیا ۔ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات سمیت اہم امور پر گفتگو ہوئی اقتصادی راہداری منصوبہ کے حوالے سے پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا وفود کی سطح پر ہونے والی ملاقات میں چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ بھی موجود تھے۔وزیراعظم نواز شریف نے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے انعقاد پر چینی ہم منصب لی کی چیانگ کو مبارکباد دی ۔

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان چین کو اہم دوست سمجھتا ہے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان بیلٹ اینڈ روڈ فورم کی مکمل حمایت کرتا ہے دنیا کے اہم رہنماؤں کی فورم میں شرکت خوش آئند ہے اقتصادی راہداری کے منصوبہ کے لیے ہم ایک ہیں پاکستان سی پیک منصوبہ کی تکمیل کیلئے پر عزم ہے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سی پیک میں چین کی طرف سے اب تک 56 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری ہوئی ہے چین کی طرف سے سرمایہ کاری کا فائدہ عام آدمی تک جلد منتقل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین ہماری اسٹرٹیجک پارٹنر ہے ۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین نے کھل کر مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی کھل کر حمایت کی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ چاروں وزراء اعلیٰ کی چین میں موجودگی پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات میں قومی یکجہتی کا اظہار ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان چین کو اہم ترین دوست سمجھتا ہے ۔اقتصادی ترقی کے لیے دونوں ممالک ایک صحفہ پر ہیں سی پیک کی تکمیل کے لیے پر عزم ہیں اقتصادی راہداری کے منصوبے جلد مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے ترجیحی منصوبوں کی جلد تکمیل چاہتے ہیں چین مسئلہ کشمیر پر پاکستان کیساتھ کھڑا ہے ہر مشکل وقت میں چین نے پاکستان کا ساتھ دیا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم اقتصادی راہداری کا دائرہ وسیع کر رہے ہیں ۔

اب یہ منصوبہ 56 ارب ڈالرز پر محیط ہے ان کا کہنا تھا کہ خالصتاً سرمایہ کاری ہے جو چینی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں نے کی ہے۔وزیراعظم کا اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہکشمیر کے مسئلہ پر چین پہلے بھی ہمارے ساتھ کھڑا تھا اور اب بھی ہمارے ساتھ کھڑا ہے البتہ ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ کو بات چیت کے ذریعہ پر امن طور پر حل کیا جائے اس پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم بھی اس مسئلہ کا پرامن حل چاہتے ہیں جبکہ وزیراعظم نواز شریف نے چینی صدر شی جن پنگ سے بھی ملاقات کی جو 20 منٹ جاری رہی ۔ملاقات میں اقتصادی راہداری منصوبہ خطہ کے حالات اور دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا حکومتی ترجمان کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔وزیراعظم نے پاکستان میں ترقی کے عمل پر چینی صدر کو اعتماد میں لیا اوربتایا کہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اقتصادی راہداری منصوبہ اس میں بنیادی کردار ادا کررہا ہے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم چین کیساتھ کھڑے ہیں اور اس کی دوستی پر ہمیں فخر ہے جبکہ چینی قیادت نے بھی پاکستان کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمارا آزمودہ دوست ہے اور پاکستان ترقی اور خوشحالی کا عمل ہماری خواہش ہے اور اس کے لیے جو بھی ممکنہ اقداماتت کر سکے ہم کریں گے۔