بریکنگ نیوز
Home / دلچسپ و عجیب / انسان سونگھنے میں جانور سے بھی تیز

انسان سونگھنے میں جانور سے بھی تیز


ویسے یہ کہا جاتا ہے کہ کئی جانوروں میں سونگھنے کی صلاحیت انسان سے کہیں زیادہ ہوتی ہے، خصوصی طور پر چوہوں اور کتوں کو اس حوالے سے زیادہ شاطر مانا جاتا ہے۔

اور یہ 2 دن قبل تک حقیقت بھی تھی، کیوں کہ 19 صدی کے آغاز میں فرانسیسی ماہر تشریح الاعضا پال بروشا نے کئی سال تک انسانوں اور جانوروں کے دماغ پر تحقیق کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ انسان میں سونگھنے کی صلاحیت جانور سے کم ہے۔

مگر ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ 19 ویں صدی کی تحقیق کا آج کی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، انسان میں سونگھنے کی صلاحیت جانوروں سے زیادہ ہے۔

سائنس میگ جرنل میں شائع ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست نیوجرسی کی رٹگرز یونیورسٹی کے نیورو بائیولاجسٹ جوہن مک گین کی جانب سے کی گئی انسانی دماغ اور چوہوں سمیت دیگر جانوروں کے دماغ پر کی جانے والی تحقیق سے پتہ چلا کہ انسان میں سونگھنے کی صلاحیت زیادہ ہے۔

نیورو بائیولاجسٹ کے مطابق انسان بیک وقت لاکھوں کی تعداد میں جڑی بوٹیوں اور چیزوں کو سونگھنے کے بعد ان کی بو اور ان کی خوشبوء میں فرق محسوس کرسکتا ہے، جب کہ چوہے، کتے اور دیگر جانور ایسا نہیں کرسکتے۔

جوہن مک گین نے کہا کہ انسانی دماغ میں موجود اولفیکٹری بلبس جانوروں کے دماغ میں موجود اسی طرح کے سسٹم سے زیادہ تیز اور وسیع ہیں۔

خیال رہے کہ اولفیکٹری بلبس نامی سسٹم دماغ میں سونگھنے جیسے عوامل کا کام سر انجام دیتا ہے۔

امریکی نیورو بائیولاجسٹ نے اپنی تحقیق کے دوران چوہوں اور انسانی دماغ کے اس سسٹم کا جائزہ لیا، جو سونگھنے کا کام کرتا ہے، جس کے نتائج سے معلوم ہوا کہ انسان سونگھنے میں زیادہ ماہر ہے۔

ڈاکٹر جوہن مک گین نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا کہ اس سے پہلے فرانس کے ڈاکٹرپال بروشا کی جانب سے بتائی گئی تحقیق میں منصفانہ طور پر چیزوں کا جائزہ نہیں لیا گیا.

ان کے مطابق ڈاکٹر پال بروشا نے محدود پیمانے پر تحقیق کی، کچھ چیزوں کی بو سونگھنے میں جانوروں کی حس تیز تو ہوسکتی ہے، تاہم مجموعی طور پر انسان سونگھنے میں تیز ہے۔

رٹگرز یونیورسٹی کے ماہر کے مطابق سونگھنے سے متعلق انسانوں کی حس جانوروں سے کم ہونے والی 19 صدی کی منطق پرانی ہوچکی۔