بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / مستونگ خودکش دھماکہ

مستونگ خودکش دھماکہ

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے 50کلومیٹر دور علاقے مستونگ میں گزشتہ روز ہونیوالے خودکش دھماکے میں تادم تحریر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 27بتائی جارہی ہے، دھماکہ کے 35زخمیوں میں بعض کی حالت نازک ہونے پر ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعیت علماء اسلام ف کے مرکزی رہنما اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری دستاربندی کی تقریب میں شرکت کے بعد واپس جارہے تھے کہ موٹر سائیکل سوار نے گاڑی کے قریب دھماکہ کردیا، اس دھماکے میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے قافلے میں شامل متعدد گاڑیاں تباہ ہو گئیں، جاں بحق ہونیوالوں میں سینٹ کے ڈائریکٹر سٹاف اور جے یو آئی کوئٹہ کے نائب امیر بھی شامل ہیں، جمعیت علماء اسلام نے واقعے پر آج ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے، بلوچستان میں امن وامان کے حوالے سے صورتحال طویل عرصے سے قابل تشویش چلی آرہی تھی، جس کی شدت میں کمی اور زیادتی ریکارڈ ہوتی رہتی ہے، یہ صورتحال ایک جانب سکیورٹی انتظامات پر نظر ثانی کا تقاضا کرتی ہے تو دوسری طرف ان انتظامات میں عوام کی شرکت کی بھی متقاضی ہے، اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ کسی بھی آبادی میں پولیس کیلئے نچلی سطح پر ہر گلی محلے میں عملہ تعینات کرنا ممکن نہیں، امن وامان کے چیلنج سے نمٹنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ عوامی سطح پر تنازعات کے خاتمے کیلئے تشکیل دی جانیوالی کمیٹیوں کی طرز پر لاء اینڈ آرڈر کمیٹیاں بنائی جائیں، اس مقصد کیلئے بلدیاتی اداروں کو بھی متحرک کیاجاسکتا ہے، ان اداروں کے منتخب ارکان کا عوام سے براہ راست رابطہ ہوتا ہے اور وہ اپنے علاقے کے جغرافیے سے بھی پوری طرح باخبر ہوتے ہیں، امن کا قیام ایسا سوال ہے جس کیلئے منتخب ارکان پوری ذمہ داری سے کردار ادا کرنے کو تیار ہونگے، تاہم اس مقصد کیلئے پولیس کے رویوں میں تبدیلی کیساتھ عام شہری اور تھانے کے درمیان خوف کی حائل دیواروں کو بھی گرانا ہوگا، اسی طرز پر مختلف اداروں میں کام کرنیوالے ورکرز کی نمائندہ تنظیموں سے بھی سکیورٹی انتظامات میں معاونت کی جاسکتی ہے۔

سی پیک کیلئے تیاری؟

چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ معیشت کے استحکام میں اہم کردار کاحامل قرار دیاجارہا ہے،خیبرپختونخوا کیلئے اس منصوبے کی اہمیت اس حوالے سے بھی زیادہ ہے کہ یہاں مخصوص جغرافیے اور امن وامان کی صورتحال نے صنعتی وتجارتی سرگرمیوں کو پہلے ہی متاثر کررکھا ہے، چاہئے تو یہ کہ صوبے میں اس اہم منصوبے سے قبل ہوم ورک کیاجائے، اس ہوم ورک میں انفراسٹرکچر کے ساتھ تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کی جائے تاکہ مستقبل کی ضروریات پوری ہوسکیں، اس سب کے برعکس خیبرپختونخوا میں صنعتی تربیت کے متعدد ادارے بند پڑے ہیں، پشاور میں ارمڑپایاں ٹی ٹی سی 2001ء جبکہ گاباٹریننگ سنٹر 2005ء سے غیر فعال ہے، دوسری جانب ہمارے ہاں نئے اداروں کے قیام کے اعلانات اور سنگ بنیاد رکھے جانے پر زور دیاجاتا ہے، اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ کسی بھی شعبے میں موجود اداروں کو نظر انداز کرکے نئے ادارے قائم کرنا ایک بدانتظامی ہے جس کا نوٹس ہر صورت لیاجانا چاہئے۔