بریکنگ نیوز
Home / کالم / امن وامان:نئے چیلنجز!

امن وامان:نئے چیلنجز!

پاکستان میں پائیدار امن وامان کا قیام ایک ایسا چیلنج ہے‘ جس سے نمٹنے کی کوششیں اگر خاطرخواہ نتائج نہیں دے پا رہیں‘ تو اسکی وجہ غیرملکی مداخلت اور دہشت گردوں کی سرپرستی ہے۔ بلوچستان کے ضلع مستونگ سے تین کلومیٹر دور اتحاد بین المسلمین کے جلسہ کے اختتام پر خودکش حملہ آور نے ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری کی گاڑی کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس سے پچیس افراد شہید اور چالیس سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ابھی ایک ہفتہ قبل ہی بلوچستان کے سرحدی ضلع چمن کے علاقوں کلی لقمان اور کلی جہانگیر میں مردم شماری کی ٹیم اور اس کی سکیورٹی پر مامور ایف سی اہلکاروں پر افغان فورسز نے بے دریغ اور بلااشتعال فائرنگ کرکے ایک درجن افراد کو شہید کر دیاتھاجبکہ افغان فورسز کی اس دہشتگردی سے پچاس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے اس بہیمانہ واردات پر پورے بلوچستان کی فضاء ابھی تک سوگوار ہے اور پاکستان اور افغانستان کے مابین سنگین سرحدی کشیدگی جاری ہے۔ بدقسمتی سے بلوچستان میں بالخصوص فرقہ وارانہ دہشت گردی کے حوالے سے امن و امان کی صورتحال کبھی انتظامیہ کے کنٹرول میں نہیں رہی جبکہ بلوچستان کے نام نہاد علیحدگی پسند عناصر نے بھارت اور افغان ایجنسیوں کی سرپرستی میں گذشتہ ایک دہائی سے بلوچستان کو بدامنی کی آماجگاہ بنایا ہوا ہے جس میں بھارتی ایجنسی راکے پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کے ایجنڈے کا بھی عمل دخل ہے اور افغان ایجنسی این ڈی اے بھی اس بھارتی ایجنڈے میں برابر کی شریک ہے اسی پس منظر میں رواں سال کے آغاز سے اب تک ملک کے مختلف علاقوں میں ہونیوالی دہشتگردی اور خودکش حملوں کی وارداتوں میں زیادہ تر بھارت اور افغانستان کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر خودکش حملے کے پس پردہ بظاہر فرقہ ورانہ دہشتگردی کے مقاصد کارفرما نظر آتے ہیں۔

مگر ایک ہفتہ قبل چمن میں افغان فورسز کی جانب سے کی گئی بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے بعد کابل انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کیساتھ جس طرح سرحدی کشیدگی بڑھائی گئی مولانا حیدری کے قافلے پر حملہ اسکا بھی شاخسانہ ہو سکتا ہے جبکہ اس حملے میں بھارتی ایجنسی راکے ملوث ہونے کے امکانات بھی مسترد نہیں کئے جا سکتے کیونکہ بھارت اپنے جاسوس دہشت گرد کلبھوشن کی سزائے موت پر سیخ پا ہے اور پاکستان کو دہشتگرد ملک قرار دلانے کی سازشوں میں ہمہ وقت مصروف ہے چنانچہ ممکن ہے یہ دہشتگردی اس نیت سے کی گئی ہو کہ اس پر بلوچستان کی جاری بدامنی کے باعث فرقہ وارانہ دہشتگردی کا لیبل آسانی کیساتھ لگ سکتا ہے۔ اس گھناؤنی واردات میں چاہے بھارت اور افغانستان کی ایجنسیاں یا دیگر عناصر کارفرما ہیں‘ اس دہشتگردی کا ملک کی سلامتی و استحکام کے حوالے سے کوئی مثبت پیغام نہیں گیامستونگ دہشت گردی پر بیشک صدر مملکت ممنون حسین اور سابق صدر آصف زرداری سمیت ملک کے تمام قومی سیاسی اور دینی قائدین نے سخت تشویش کا اظہار کیا اور چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے دہشت گردوں کو یہ بھی باور کرایا ہے کہ وہ ایسے حملوں سے پاکستان کی پارلیمان کو دبانے میں کامیاب ہو جائیں گے‘ یہ انکی خام خیالی ہے۔

اس کے باوجود دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے ہماری سکیورٹی ایجنسیوں میں موجود خامیوں اور کمزوریوں پر مکمل قابو پانا ازحد ضروری ہے تاکہ دشمن کو ہماری کسی بھی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔ اس کے لئے جہاں سول او رعسکری قیادتوں کے ایک صفحے پر آ کر ان کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کی ایک ایک شق پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے‘ وہیں ملک میں گزشتہ چار سال سے حکومت کے خلاف اودھم مچانے والی محاذ آرائی کی سیاست کا خاتمہ بھی ضروری ہے کیونکہ اس سیاست کی بنیاد پر ہی حکومت کی کمزوری کا تاثر ملتا ہے نتیجتاً ملک کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت و وحشت کا بازار گرم کرنے کا موقع ملتا ہے۔یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ جمعیت علماء اسلام کے مقامی عہدے داروں کے مطابق اتحاد بین المسلمین کے جلسے کے لئے بلوچستان حکومت اور انتظامیہ سے سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کرنے اور مولانا غفور حیدری کو بلٹ پروف گاڑی فراہم کرنے کا کہا گیا تھا مگر ان کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی جبکہ سکیورٹی کے ناقص انتظامات کے باعث ملک دشمن عناصر کو خودکش حملے کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کا موقع مل گیا۔

اگر مولانا کی سکیورٹی کے معاملہ میں غفلت برتی گئی ہے تو حکومتی انتظامی مشینری سے عام آدمی کی سکیورٹی کے مؤثر اقدامات اٹھانے کی بھلا کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ دہشت گردی کی اس واردات کے موقع پر وزیراعظم چین روانہ ہو رہے تھے اس لئے انکے پیچھے انتظامی مشینری سکیورٹی انتظامات کے معاملہ میں اپنے فرائض کی ادائیگی میں بے فکر نظر آئی‘ اس صورت حال میں دہشت گردی کی جنگ میں بھلا کیسے سرخروئی حاصل کی جا سکتی ہے۔ کہیں آخری دہشت گرد کے مارے جانے تک دہشت گردی کی جنگ جاری رکھنے سے متعلق سول‘ عسکری قیادتوں کا عزم اور مفہوم دہشتگردوں کے ہاتھوں آخری شہری کا مارا جانا نہ ہو۔ عام آدمی کی نظر میں دہشتگردوں کی طاقت کے مراکز ختم کرنے کے دعوے اس وقت تک واجب الاحترام نہیں ہوں گے جب تک خودکش حملوں کے ذریعے خاص اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ ختم نہیں ہو جاتا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: افتخار احمد۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)