Home / کالم / خطرے کی گھنٹیاں

خطرے کی گھنٹیاں

رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران وفاقی حکومت کی آمدنی 3.1کھرب روپے تھی جبکہ حکومت نے اس عرصے کے دوران مجموعی طورپر 4.3کھرب روپے کے اخراجات کئے جس کا مطلب یہ ہے کہ آمدنی کے مقابلے 1.24 کھرب روپے زیادہ اخراجات کئے گئے جو اصطلاحی طور پر ’بجٹ کا خسارہ کہلاتا ہے یہ صورتحال کسی بھی صورت معمولی نہیں کیونکہ مالی سال کے اختتام تک خسارہ مزید بڑھے گا اور ملک کی موجودہ خام پیداوار (جی ڈی پی) کا پانچ فیصد کے مساوی ہوگا جو ایک نہایت ہی خوفناک صورت ہوگی۔بجٹ خسارے سے زیادہ خوفناک حقیقت ’گردشی قرضہ جات ہیں جو کم وبیش 400 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں اور موجودہ مالی خسارے میں یہ چار سو ارب روپے شامل نہیں اسی طرح کی ایک خوفناک صورتحال ٹیکسوں کی واپسی بھی ہے جہاں وفاقی محکمۂ خزانہ کو کم و بیش 250 ارب روپے کی ادائیگیاں کرنا ہیں لیکن یہ ادائیگیاں روک لی گئی ہیں۔یہ امر بھی ملک کی اقتصادی صورتحال کی ہولناکی میں اضافہ کرتا ہے کہ 173 ارب روپے کا ملکی قرضہ بھی ملک کو درپیش خسارے میں شمار نہیں کیا گیا اور اگر ان سب مدوں کو بھی خسارے میں شامل کیا جائے تو یہ ملک کی مجموعی خام پیداوار کا 7.5 فیصد بن جاتا ہے جو حقیقت میں ایک بہت ہی بڑا خسارہ ہے اور اس سے پیدا ہونیوالی صورتحال ڈراؤنی ہے۔یاد رہے کہ مالی سال 2016-17ء کے بجٹ میں دفاع بشمول دفاعی معاملات اور اس شعبے سے وابستہ خدمات کیلئے 860 ارب روپے مختص کئے گئے تھے لیکن رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں حکومت نے اس مد کیلئے مختص مالی وسائل کا صرف 62 فیصد یعنی 535ارب روپے ہی جاری کئے۔ دفاع اور دفاعی امور سے متعلق شعبہ پاکستان کی اقتصادی ترجیحات میں ایسا واحد ذریعہ ہے جس میں حکومت نے مختص مالی وسائل سے کم خرچ کئے ہیں!مالی سال 2016-17ء کے دوران قرضہ جات پر سود کی ادائیگیوں کے لئے 1.36 ارب روپے مختص کئے گئے تھے۔

مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں اِس مد سے 80فیصد ادائیگیاں کی جا چکی ہیں اور مالی سال کے اختتام تک حکومت 1.5کھرب روپے حاصل کردہ ’قومی قرضہ جات‘ پر سود کی ادائیگیوں میں ادا کر چکی ہوگی۔مالی سال 2016-17ء کے لئے اُمید دلائی گئی تھی کہ نجکاری کے ذریعے 50ارب روپے حاصل کئے جائیں گے لیکن آمدن کے اِس ذریعے سے متعلق تصور پر عمل درآمد نہ ہوسکا اور اس کی وجہ شاید یہ رہی ہو کہ متعلقہ وزیر کا تمام وقت اور توانائیاں ’پانامہ لیکس‘ کے محاذ پر وزیراعظم اور انکے اہل خانہ کے دفاع میں خرچ ہو گئیں! سال 2016-17 کے آغاز پر کہا گیا تھا کہ ٹیلی کام لائسنسز کے اجرا سے حکومت کو 75ارب روپے آمدنی ہوگی لیکن اِس بات کو بھی حکومت کی خوش قسمتی ہی کہئے کہ کم سے کم اِس مد میں پچاس فیصد آمدنی حاصل ہوئی ہے!مالی سال 2016-17ء کے دوران بجٹ خسارہ مدنظر رکھتے ہوئے اِس بات کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ مالی سال 2017-18ء کے بجٹ میں نئے ٹیکس لگائے جائیں گے اور ملک پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھے گا۔ نئے ٹیکس عائد کرنے سے ملک کی موجودہ پیداوار متاثر ہوگی جبکہ مزید قرض لینے کا منفی اثر مستقبل کے پاکستان پر مرتب ہوگا اور یہ دونوں امور ہی ناگزیر دکھائی دے رہے ہیں!وفاقی حکومت اگر چاہے تو وہ بجٹ کا خسارہ تین اقدامات کے ذریعے کم کر سکتی ہے۔ نمبر ایک حکومت کے غیرترقیاتی اخراجات کم کئے جائیں۔ دوسرا ٹیکس بڑھائے جائیں اور تیسرا ملک کی اقتصادی ترقی کے بارے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جائے لیکن جب ہم موجودہ حکومت کا طرزعمل دیکھتے ہیں تو اسے طرزحکمرانی پر اٹھنے والے اخراجات کم کرنے میں کوئی دلچسپی دکھائی نہیں دیتی۔ سادگی اختیار کرنا حکومت کی ترجیحات حتیٰ کہ زبانی کلامی بیانات کا بھی حصہ نہیں! جہاں تک اقتصادی ترقی کی بات ہے تو یہ ہدف اس وقت تک حاصل نہیں ہوگا جب تک ملک میں توانائی کا بحران موجود ہے اور ایسے عوامل کی بھی کمی دکھائی دیتی ہے ۔

جن کی وجہ سے اقتصادی ترقی رونما ہو سکتی ہے! اِس صورتحال میں بجٹ خسارہ کم کرنے کی واحد صورت یہی رہ گئی ہے کہ حکومت مزید ٹیکس عائد کرے۔ ٹیکس عائد کرنے کی طرح ان کی وصولی بھی حکومت ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے اگر ہم ایف بی آر کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو یہ وفاقی ادارہ ’براہ راست (ڈائریکٹ)‘ ٹیکسوں کی وصولی میں اب تک ناکام رہا ہے‘ جس کی وجہ سے بلواسطہ ٹیکس عائد اور وصول کرنا پڑتے ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ بلواسطہ ٹیکس ظالمانہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ ملک کی اس کم آمدنی والے طبقات کو نچوڑ لیتے ہیں‘ جن میں ٹیکس ادا کرنے کی سکت کم ہوتی ہے جبکہ اِس کی وجہ سے زیادہ آمدنی والے طبقات ٹیکس اَدا کرنے سے محفوظ رہتے ہیں!بنیادی بات یہ ہے کہ بجٹ خسارہ ہی تمام اقتصادی مسائل کی جڑ ہے اور اس پر قابو پانا وقت کی ضرورت ہے بصورت دیگر آئندہ مالی سال کے دوران پاکستانی اس بات کے لئے تیار رہیں کہ مزید ان ڈائریکٹ ٹیکسوں (مہنگائی میں اضافے) کے ذریعے‘ اُن کے زخموں پر ’نمک پاشی‘ کی جائے گی! اُور اُنہیں مزید سخت قسم کے اقتصادی حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)