بریکنگ نیوز
Home / کالم / بیک چینل ڈپلومیسی…….. آخر کیوں؟

بیک چینل ڈپلومیسی…….. آخر کیوں؟


انگریزی زبان کا لفظ’’بیک ڈور‘‘ کوئی اچھے معنی نہیں رکھتا ہر وہ کام جو مشکوک طریقہ سے کیا جائے یا مروجہ طریقہ کار کے برعکس کیا جائے وہ بیک ڈور کہلایا جاتا ہے لفظ بیک چینل بھی کچھ اس قسم کی شے ہے جب وزیراعظم پاکستان اور بھارتی بزنس مین جندال کی حالیہ ملاقات کے بارے میں ملک کے سیاسی حلقوں میں ایک شور و غوغااٹھا تو حکومت نے اس معاملے میں اپنی خفت مٹانے کیلئے یہ جواز پیش کیا کہ یہ ملاقات تو بھارت اور پاکستان کے درمیان معاملات سدھارنے کیلئے بیک چینل ڈپلومیسی کا حصہ تھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایک جمہوری ملک ہے اس میں 20کروڑ عوام کے منتخب نمائندے قومی اسمبلی میں بیٹھے ہوئے ہیں اس میں کئی ریاستی ادارے کام کر رہے ہیں کہ جن کی اپنی اپنی جگہ ایک آئینی حیثیت ہے یہ کوئی بادشاہت تو ہے نہیں کہ بادشاہ سلامت از خود اہم فیصلے کریں‘بیک چینل ڈپلومیسی آخر کی کیوں جائے؟ کیا عوام سے کوئی بات چھپانا مقصود ہے جو انہیں اعتماد میں نہیں لیا جا رہا ؟ یہ پارلیمنٹ کس مر ض کی دوا ہے ؟ اس کی آخر ضرورت ہی کیا ہے اگر اس ملک کے مستقبل پر اثر انداز ہونے والے فیصلے اس سے صلاح و مشورہ اور بحث و مباحث کے بغیر کئے جائیں بیک چینل ملاقاتوں سے تو خواہ مخواہ عوا م کے ذہن میں قسم قسم کے شبہات اٹھتے ہیں کیونکہ اس سلسلے میں ہمارا ٹریک ریکارڈکوئی اچھا نہیں ہماری تاریخ ان واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جب اوپر اوپر سے چند لوگوں نے عوام کی رائے لئے بغیر اپنے طور پر فیصلے کئے کہ جن سے عالم اسلام کو بے پناہ نقصان اٹھانا پڑا ہم اب آپ کی خدمت میں جو چند مثالیں پیش کرنے جا رہے ہیں۔

ان سے آپ کو پتہ چل جائے گا کہ بیک چینل یعنی خفیہ مذاکرات سے عالم اسلام نے کہاں کہاں مارکھائی اور کس قدر تباہی کا اسے سامنا کرنا پڑا میر جعفر بنگال میں اور میر صادق میسور میں اہم ترین منصب پر فائز تھے فرنگیوں نے ان سے بیک چینل‘ ڈپلومیسی کی جن کے نتیجے میں سراج الدولہ کو بنگال میں اور ٹیپو سلطان کو میسور میں اپنی سلطنتوں سے ہاتھ دھوناپڑے اگر آپ تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بیک چینل ڈپلومیسی کی عبرتناک اور خوفناک مثال بغداد کے وزیراعظم اور تاتاریوں کے درمیان خفیہ مذاکرات تھے کہ جن میں یہ طے پایا گیا تھا کہ خوارزم شاہ اور منگولوں کے درمیان جنگ میں عباسی خلافت غیر جانبدار رہے گی اسی بیک چینل ڈپلومیسی کے نتیجے میں مسلمانوں کو بلخ بخارا سمر قنداور تاشقند میں شکست فاش ہوئی تھی اور آپ کو یقیناًپتہ ہوگا کہ ایک بیک چینل ڈپلومیسی ہلاکو خان اور بغداد کے وزیراعظم ابن علقمی کے درمیان بھی ہوئی تھی کہ جس کے نتیجے میں18 جولائی1258 کو بغداد کے دروازے تاتاریوں پر کھول دئیے گئے یہ علیحدہ بات ہے کہ مندرجہ بالا واقعات میں جب اغیار نے اپنا ہدف پالیا تو پھرانہوں نے ان کیساتھ بیک چینل ڈپلومیسی کرنے والوں کو بھی اڑا دیا کیا ہلاکو خان نے بغداد پر قبضہ کرنے اور اسے تہہ تیغ کرنے کے بعد ابن علقمی کو بھی صفحہ ہستی سے نہ مٹایا ؟ صدام حسین کے ساتھ بھی امریکہ نے بیک چینل ڈپلومیسی کرکے اسے ایران کے خلاف جنگ پر ابھارا اور بعد میں امریکہ کے ہاتھوں ہی سے صدام حسین کا جو حشر نشرہوا وہ بھی دنیا نے دیکھا ‘بھارت کے ساتھ جو بات چیت بھی ہو بالکل کھل کر ہو ‘ پارلیمنٹ کے اندر ہو اور اس میں اسٹیبلشمنٹ ‘میڈیا اور سول سو سائٹی کی بھی رائے لی جائے۔