بریکنگ نیوز
Home / کالم / رحیم اللہ یوسفزیٰ / جنگجو ہمسائیگی!

جنگجو ہمسائیگی!


پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات زیادہ تر ’غیردوستانہ‘ رہے ہیں اور حالیہ کچھ عرصے کے دوران رونما ہونے والے واقعات نے دو ہمسایہ مسلمان ممالک کے درمیان خلیج کو زیادہ وسیع کر دیا ہے۔پاکستان اورافغانستان کی قیادتوں کے درمیان عدم اعتماد ایک ایسا مستقل محرک ہے‘ جس کی وجہ سے تعلقات معمول پر نہیں آ رہے اور ان تعلقات کو معمول پر لانے کی ہر کوشش بھی ناکام ثابت ہوئی ہے۔ حال ہی میں ’چمن سپین بولدک سرحد‘ پر پیش آنے والے تصادم میں نہ صرف دونوں فریقین کو جانی و مالی نقصانات برداشت کرنا پڑے ہیں بلکہ اِن واقعات کے سبب پہلے سے دگرگوں تعلقات مزید خراب ہوئے ہیں! پاکستان کی جانب سے افغانستان کے سرحدی محافظین پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے بلااشتعال فائرنگ کرکے مردم شماری کرنے والی ٹیم پر فائرنگ کی جو دو سرحدی دیہات کلی لقمان اور کلی جہانگیر میں خانہ و مردم شماری کر رہی تھیں اس سانحے میں سات عام شہری قتل ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں افغانستان کا مؤقف ہے کہ پاکستانی مردم شماری کرنے والی ٹیمیں افغان علاقوں میں گھس آئیں تھیں اور پاکستان کے سرحدی محافظین نے فائرنگ میں پہل کی جس کے جواب میں کی گئی فائرنگ سے جانی نقصانات ہوئے چمن سپین بولدک پاک افغان سرحد پر ہوا تصادم ایک ایسے وقت میں ہوا جب پاکستان کی جانب سے تین وفود نے ابھی حال ہی میں افغانستان کے دورے مکمل کئے ان نمائندہ وفودمیں دو فوجی اور ایک سیاست دانوں کی نمائندگی کرنے والا وفد شامل تھا‘ جن کے دورے سے یہ امید پیدا ہوئی کہ پاک افغان تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے سنجیدہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی اور ان سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہوں گے۔

بالخصوص پاکستان کی سبھی سیاسی جماعتوں کی نمائندگی پر مشتمل ایک بڑا وفد قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں افغانستان گیا اور وہاں ہوئی افغان قیادت سے ملاقاتوں کے بعد اس امید کا اظہار کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور تنازعہ کا سبب بننے والے سلگتے مسائل بتدریج حل ہوتے چلے جائیں گے۔ محمود خان اچکزئی اور آفتاب شیرپاؤ کے افغان صدر اشرف غنی سمیت دیگر افغان قائدین سے قریبی ذاتی مراسم ہیں‘ جن سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آنے کی صورت فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ حال ہی میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل‘ لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اور چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر بھی کابل کے دورے پر گئے جس کا مقصد پاک افغان تعلقات معمول پر لانے کے لئے فوجی قیادت کی جانب سے اپنا حصہ ادا کرنا تھا ان اہم دوروں کے بعد پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے افغان دورے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ جنرل باجوہ کو افغان صدر غنی‘ چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ اور اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل قدم شاہ شاہین نے افغان دورے کی دعوت دی تھی جب انہوں نے یکم جنوری دوہزار سترہ کو نئے سال کی مبارک باد اور بعدازاں گیارہ جنوری کو کابل قندھار اور لشکرگاہ میں ہوئے تباہ کن بم دھماکوں پر افسوس کا اظہار کرنے کے لئے افغان رہنماؤں کو ٹیلی فون کالز کی تھیں جنرل باجوہ کا دورہ کسی نہ کسی وجہ سے ملتوی ہوتا رہا اور یہ دورہ ہنوز ہونا باقی ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اب تک افغان تعلقات میں بہتری کی جملہ کوششیں پاکستان کی جانب سے دیکھنے میں آئی ہیں۔ افغان صدر اشرف غنی کو پاکستان دورے کی دعوت دی گئی جو انہوں نے قبول نہیں کی اسی طرح ڈاکٹر عبداللہ کو بھی پاکستان کے دورے کی متعدد مرتبہ دعوت دی گئی لیکن وہ بھی تاحال دورے پر نہیں آئے۔ افغان حکومت اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے سے قبل ایسی شرائط عائد کر دیتا ہے‘۔

جو پاکستان کے لئے پوری کرنا عملاً مشکل ہوتی ہیں۔ پاک افغان تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے برطانیہ کی جانب سے بھی ایک کوشش دیکھنے میں آئی جب وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کی لندن میں افغان قومی سلامتی امور سے متعلق صدر اشرف غنی کے مشیر حنیف اتمر کی ملاقات ہوئی اور اِس ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کشیدگی کم کریں گے اور اسی ملاقات کے نتیجے میں طورخم اور چمن سرحدیں بتیس دن بند رہنے کے بعد آمدورفت کے لئے کھول دی گئی تھیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہوئی اس ملاقات میں کن امور پر اتفاق ہوا‘ اس کی زیادہ تفصیلات تو عام نہیں کی گئیں لیکن اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کی فوج کے درمیان ٹیلی فون رابطے بحال ہوئے اور ملاقاتیں طے ہوئیں لیکن حالیہ واقعات نے اس سلسلے میں ہونیوالی مزید پیشرفت کو روک دیا ہے۔

افغانستان میں داخلی قیام امن کی کوششوں کے سلسلے میں سابق مجاہدین رہنما اور سابق وزیراعظم گلبدین حکمت یار 20سالہ روپوشی ترک کرکے اچانک نمودار ہوئے ہیں ان کی واپسی افغان حکومت سے ہوئے ایک امن معاہدے کا نتیجہ بتائی جاتی ہے حکمت یار افغان آئین میں ترامیم چاہتے ہیں اور وہ طالبان کو اپنا بھائی قرار دیتے ہیں ان کی نظر میں افغان اتحادی حکومت کی آئینی حیثیت بھی مشکوک ہے جس کا تصور اور عملی اطلاق امریکہ کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔ حکمت یار کے ان خیالات اور مطالبات کا جواب دیتے ہوئے صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ افغان آئین میں ترمیم کرنیکا یہ مناسب وقت نہیں موجودہ افغان حکومت چاہتی ہے کہ آئین میں ترمیم کی بجائے اِس پر عمل درآمد اور اس کا احترام کیا جائے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ بھی حکمت یار سے اختلاف رکھتے ہیں جنکی نظر میں ’یونٹی گورنمنٹ‘ افغان عوام کے ووٹوں سے اقتدار میں آئی ناکہ اِس میں امریکہ کی مرضی و تائید شامل تھی وہ طالبان کو حکمت یار کا بھائی تو سمجھتے ہیں۔

لیکن انکی نظر میں طالبان مزاحمت کار افغان عوام کے دوست نہیں۔ افغانستان میں قیام امن کے تناظر میں حکمت یار کی آمد اور کردار نہایت ہی اہمیت کے حامل ہیں وہ بیک وقت نہ صرف افغان حکومت کے دو اہم عہدوں صدر اور چیف ایگزیکٹو کے درمیان تعلقات کی مضبوطی کی بات کرتے ہیں بلکہ ان طالبان مزاحمت کاروں کی آواز بھی ہیں‘جن سے موجودہ افغان حکومت خود کو الگ کئے ہوئے ہے۔ حکمت یار کی نظر میں اگر قیام امن کیلئے اقتدار کی تقسیم پر اتفاق ہوسکتا ہے تو طالبان کو بھی شریک اقتدار کر کے افغانستان میں جاری خانہ جنگی کا خاتمہ ممکن ہے۔ وہ سیاسی برداشت اور تعاون کو وسیع کرنے کے لئے ایک توانا آواز اور افغانستان میں قیام امن کے علمبردار بن کر سامنے آئے ہیں لیکن اگر ہم ان کا افغانستان میں موجودہ کردار دیکھیں تو وہ اِس موقع پر محدود ہے لیکن وہ افغانستان میں پائیدار قیام امن کی کوششوں‘ تعلقات کی بحالی اور تشدد ختم کرنے کے لئے پاکستان کے کلیدی کردار کی اہمیت سے آگاہ ہیں یقیناًپاکستان افغانستان میں قیام امن میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے‘ اگر اِس حقیقت کو تسلیم اور اِس کا ادراک کرتے ہوئے دو طرفہ اعتماد سازی کے عملی اقدامات پر توجہ دی جائے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)